قرآن اور صاحبِ قرآن

25 ستمبر 2012

اللہ صرف غرےبوں اور مفلسوں سے ہی نہےں بادشاہوں سے بھی اتنا ہی پےار کرتا ہے۔ اللہ کا قانون روز ازل سے ابد تک اےک ہی رہے گا۔
سلطان نورالدےن زنگی کا معمول تھا کہ وہ شب بےدار تھا‘ وہ نماز عشاءکے بعد نوافل پڑھنا شروع کر دےتا اور پھر آپ پر کثرت سے درود بھےجتا۔ اےک رات بستر پر لےٹتے ہی خواب مےں تےن بار حضور کی زےارت ہوئی‘ آپ نے فرماےا نورالدےن ےہ دو آدمی مجھے سستا رہتے ہےں ان کا بندوبست کر‘ سلطان خواب دےکھ کر سخت پرےشان ہوا اور رو رو کے کہتا کہ مےری جان‘ آل‘ اولاد‘ مال سب مےرے آقا پہ قربان ہے‘ خدا ےہ دن دکھانے کے لئے مجھے زندہ نہ رکھے‘ بعض رواےتوں مےں ہے کہ تےن راتیں مسلسل سلطان کو حضور کی زےارت ہوئی‘ دو شےطان صفت انسانوں کی نشاندہی کی گئی‘ سلطان نے بکثرت مال صدقہ کےا۔دمشق سے مدےنہ 25 دن کے فاصلے پہ تھا مگر سلطان نے برق رفتاری سے ےہ فاصلہ 16دنوں مےں طے کےا‘ اہل مدےنہ سلطان کو بغےر اطلاع کے مدےنے مےں دےکھ کر حےران رہ گئے۔ سلطان نے مدےنہ شرےف پہنچتے ہی شہر کے دروازے بند کروا دئےے اور شہر والوں کےلئے منادی کرا دی کہ تمام لوگ بادشاہ کے سات کھانا کھائےں گے۔ کھانے کے وقت تمام لوگ سلطان کی نظروں کے سامنے سے گزر گئے مگر وہ دو انسان نما ابلےس اسے نظر نہ آئے تو اس نے اکابرےن شہر سے درےافت کےا کوئی اےک رہ گےا ہے جو ہماری دعوت مےں شرےک نہ ہوا ہو۔ پتہ چلا کہ مغربی زائر جو مدت سے مدےنہ مےں مقےم ہےں اور ہر وقت عبادت مےں مصروف رہتے ہےں کبھی فارغ ہوں تو جنت البقےع مےں لوگوں کو پانی پلاتے ہےں‘ وہ دعوت مےں نہےں آئے۔ سلطان نے حکم دےا کہ ان دونوں کو ےہاں لاےا جائے۔ جب وہ دونوں آئے‘ تو انہےں دےکھ کر سلطان فوراً آگ بگولہ ہو گےا مگر اس نے خود پر قابو پا لےا‘ وہ زاہدانہ لباس پہنے ہوئے تھے‘ استفسار پر بتایا کہ روضہ اقدس کے قرےب گھر کرائے پہ لے رکھا ہے اور ہر وقت ذکر الہی اور عبادت مےں مصروف رہتے ہےں۔ سلطان نے ان دونوں کو نگرانی مےں وہےں چھوڑ دےا اور خود ان کے گھر جا پہنچا۔ گھر مےں نہاےت مختصر سامان تھا‘ جےسے عبادت گزار لوگوں کا ہوتا ہے۔ گھر سے کوئی قابل اعتراض چیز تلاش کے باوجود نہےں ملی‘ مگر سلطان کا دل مطمئن نہ تھا‘ اس نے گھر کا فرش ٹھوک بجا کر دےکھنا شروع کر دےا‘ اسے محسوس ہوا کہ فرش پہ ہلکی لغزش ہوئی ہے‘ اسے چٹائی ہٹا کر دےکھا تو خوفناک انکشاف ہوا‘ چٹائی کے نےچے پتھر کی سل تھی‘ اسے ہٹاےا تو نےچے سرنگ تھی‘ جو روضہ مبارک پہ نقب لگانے کےلئے کھودی گئی تھی اور حضور سرور کائنات فخر موجودات‘ شہنشاہ دوجہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے تحفظ کی خاطر قہر و جلال کی تصوےر بن گےا۔ اس نے حکم دےا کہ ان ملعونوں اور بے غےرتوں کو زنجےروں مےں جکڑ کر پےش کےا جائے۔ جب وہ آگئے‘ تو سلطان نے نہاےت غضبناک ہو کر پوچھا‘ سچ سچ بتاو¿ کہ تم کون ہو اور اس ناپاک جسارت سے تمہارا کےا مقصد تھا۔ انہوں نے نہاےت بے شرمی اور ڈھٹائی سے جواب دےا ”اے بادشاہ ہمتمہارے پےغمبر کی لاش چرانے پر مامور ہےں ہمارے نزدےک اس سے بڑھ کر کوئی کار ثواب نہےں لےکن افسوس کہ جب ہمارا کام تھوڑا باقی تھا تم نے ہمےں گرفتار کر لےا“ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عمرؓ کے جسد مبارک تک پہنچ گئے تھے اور ان کا پاو¿ں بھی ننگا ہو گےا تھا۔ بادشاہ پر شدےد رقت طاری ہوئی اور رو رو کر اس کی گھگی بندھ گئی‘ وہ شدت غم سے مدےنہ پاک کی گلےوں مےں گھومنا شروع ہو گےا‘ روتا جاتا تھا اور کہتا تھا‘ زہے نصےب اس خدمت کےلئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مےرا انتخاب فرماےا جب ذرا قرار آےا تو روضہ مبارک کے گرد اتنی گہری خندق کھدوائی کہ نےچے سے پانی نکل آےا اور پھر اس مےں سےسہ بھروا دےا جو آج بھی قائم ہے اور قےامت تک قائم رہے گا۔تارےخ کو کھنگالےں تو پتہ چلتا ہے کہ ان دو نامرادوں کو بھےحنے والا لعنتی بھی بادشاہ وقت تھا جس نے ان کو مالی مدد دے کر اور مستقبل کی مراعات کے بہتر وعدے کرکے ان کو مدےنے بھےجا تھا اس لعےن و مردود کا مقصد تارےخ کی سب سے بڑی اور گھناو¿نی کارروائی کرکے جسد مبارک کو مدےنہ شرےف سے اپنے ملک لے جانا تھا جو اس وقت کا سب سے بڑا طاقتور ملک تھا اور خاکم بدہن حضور پرنور اور بادشاہ حقےقی کے جسم مبارک کی وہاں نمائش کرنا مقصود تھا مگر قدرت کو ےہ کب گوارہ تھا بلکہ کےسے گوارا ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے حرمت رسول پر پڑنے والے تارےخی واقعے کو فاش کرکے بادشاہ وقت کا منہ کالا کردےا اور آئندہ بھی اےسی ہر جسارت کا نتےجہ اےسے ہی نکلے گا۔ امت مسلمہ کے موجودہ حکمرانوں اور سلطانوں مےں اگر ذرہ بھی غےرت اور حمےت کی رمق موجود ہے تو وہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلائیں اور پھر اقوام متحدہ مےں بغےر کوئی لمحہ ضائع کئے حرمت انبےائؑ کےلئے پہنچ جائیں.... شاےد اس آخری امےد پر صدر زرداری ڈےڑھ ارب مسلمانوں کےلئے روشنی کی کوئی کرن کا سبب بن سکےں.... اللہ تو قادر مطلق ہے!!!