یوم عشق رسول ۔۔۔ حکومت عوام

25 ستمبر 2012

ہم تو سوچ رہے تھے کہ حکومتی سطح پر ےومِ عشق رسول منانے کے لےے سارے ملک مےں سرکاری طور پر جلوسوں، رےلےوں کا بندوبست کےا جائے گا۔ تمام سےاسی، دےنی جماعتوں کے نمائندوں سے قبل از وقت مشاورت کر کے جلوسوں اور رےلےوں کو نہاےت پُرامن انداز سے منعقد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہمارا خےال تھا کہ سب سے بڑی رےلی اسلام آباد سے نکلے گی اور قےادت صدر زرداری اور وزےراعظم راجا پروےز اشرف کرےں گے، اس رےلی مےں اتحادی جماعتوں کے تمام نمائندہ رہنماﺅں کے ساتھ ساتھ تمام وزراءاور کابےنہ کے اراکےن بھی ہوں گے۔ صدر اور اتحادی رہنما مختصر تقرےرےں کرےں گے اور دنےا کو ناموس رسالت کے حوالے سے پاکستان اوراس کے اٹھارہ کروڑ عوام کے جذبات سے آگاہ کرےں گے۔ اس رےلی مےں کوئی رکاوٹ نہےں ڈالی جائے گی اور سبھی دےنی جذبے سے سرشار عام لوگ بھی اس مےں شامل ہونا اپنے لےے اعزاز سمجھےں گے اور اس طرح دنےا کو پاکستانےوں کا پر امن پےغام دےا جائے گا۔
آپ تصور مےں لائےں اگر لاہور مےں نواز شرےف اپنے جلوس کی قےادت کرتے، پشاور مےں مولانا فضل الرحمن، گجرات مےں چودھری برادران، کراچی مےںفاروق ستار ےعنی اگر تمام اہم سےاسی رہنما ےومِ عشق رسول پر اپنی جماعتوں اور چاہنے والوں کے ساتھ خود سڑکوں پر نظر آتے اورکسی بھی جگہ اِن جلوسوں اور رےلےوں کو مزاحمت کا سامنا نہ ہوتا اور سبھی شرکاءاپنے رہنماﺅں کی قےادت مےں اےک مقررہ ےا مخصوص مقام پر جا کر احتجاجی جلسے منعقد کرتے ےا دھرنے دےتے اور اپنے کارکنوں کو اپنے کنٹرول مےں رکھتے تو ملک بھر مےں ہونے والا نقصان کبھی نہ ہوتا۔
ظاہر ہے جب سارے سےاسی رہنما خود باہر نہ نکلےں گے تو ےہی کچھ ہو گا۔ اگر کچھ دےنی سےاسی رہنما نکلے بھی تو بعض جگہوں پر رکاوٹےں کھڑی کرکے ان جلوسوں کو مشتعل کےاگےا اور ان پر آنسو گےس ےا شےلنگ کی گئی، ایسے میں ےاد رکھنا چاہئے کہ ہجوم مےں بے روزگار، ان پڑھ نوجوان لڑکے اور بعض شرپسند عناصر بھی موجود ہوتے ہےں جو اِن جلوسوں کی آڑ مےں نہ صرف توڑ پھوڑ کرتے ہےں بلکہ دکانےں، بےنک لوٹنے کی کوشش بھی کرتے ہےں، اےسے منتشر اور بے لگام ہجوم کو روکنا کسی کے بس مےں نہےں ہوتا اور پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو وطن عزےز مےں ہوا۔ ہم سمجھتے ہےں ےہ جو بےنک، سےنما، تھانے، پےٹرول پمپ ےا دےگر عمارات جلوسوں کا نشانہ بنے، ےہ شرکاءسے زےادہ انتظامےہ کی غفلت کا نتےجہ تھا۔ حکومتی سطح پر چُھٹی کا اعلان کر کے اگر کوئی دن مناےا جاتا ہے تو اسکے لےے ہر سطح پر انتظامات کئے جاتے ہےں اور معاف کےجئے گا، انتظام مےں، سڑکوں پر صرف کنٹےنر کھڑے کرکے رکاوٹےں ڈالنا نہےں ہوتا، اس مےںمتعلقہ جلوسوں اور رےلےوں کے منتظمین سے مشاورت بھی شامل ہوتی ہے۔ ہم ےہ نہےں کہتے کہ اےسے موقعوں پر پولیس کہیں دکھائی نہ دے، ہم تشدد، توڑ پھوڑ، بدامنی اور اپنی ہی سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف ہےں لےکن اگر قبل از وقت بات طے کر لی جائے اور عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو اےسے واقعات کا سدِ باب کےا جا سکتا ہے۔ دےنی اور سےاسی رہنماﺅں کو بھی اپنے شرکاءکی تربےت کرنی ہو گی، جس طرح سےاسی جلسوں کے دوران، سےاسی پارٹےاں انتظامات کے لیے اپنے کارکنوں پر مشتمل کمےٹےاں بنا کر کام کرتی ہےں، اےسی رےلیوں مےں بھی انہےں اپنے کارکنوں پر کڑی نظر رکھنے کے لےے انتظامات کرنے چاہئیں۔ اےسے موقعوں پر شرپسند لوگوں کو اپنی صفو ںسے نکال کر پولےس کے حوالے کےا جائے۔ خصوصاً املاک اور عام لوگوں کی دکانوں، گاڑےوں اور موٹر سائیکلوں کو نشانہ بنانے والے نام نہاد کارکنوں کو اُسی وقت سختی سے روکا جائے بلکہ انکے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے۔