لاہور میٹرو بس سسٹم‘ پبلک ٹرانسپورٹ کا منصوبہ

25 ستمبر 2012

زندہ دلوں کا مسکن‘ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور طویل عرصہ سے روز بروز بڑھتی ہوئی ٹرےفک کے مسائل سے دوچار ہے۔ ان حالات میں پبلک ٹرےفک سسٹم کے معےار اور خدمات دونوں مےں بہتری ناگزیر ہو چکی ہے۔ رش کے اوقات مےں پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال ہونے والی گاڑےاں مسافروں سے کھچا کھچ بھرجاتی ہےں اور لوگ نہ صرف دروازوں سے لٹکنے بلکہ چھتوں پر سوار ہونے پربھی مجبور ہوجاتے ہےں اس طرح ان مسافروں کی زندگی خطرے مےں پڑ نے کے علاوہ ٹرےفک مےں بھی بری طرح خلل پڑتا ہے ۔
 گزشتہ دو دہائےوں کے دوران لاہور میں ٹرےفک کے مسئلہ کے حل کےلئے متعدد تجاویز زےر غور رہی ہےں۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اختےارات سنبھالتے ہی شہر ےوں کو جدید اور بےن الاقوامی معےار کی سفری سہولتوں کی فراہمی کے لئے کام کرنا شروع کردےا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی سنجیدہ کاوش اوربرادر ملک ترکی کے تعاون سے لاہورمےں ماس ٹرانزٹ کے۔ نظام پر کام کا آغاز کر دےا گےا ہے۔حکومت پنجاب نے پہلے مرحلے میںگجومتہ تا شاہدرہ ”مےٹرو بس سسٹم“ کے مےگا پراجےکٹ پرعمل در آمد شروع کر دیا ہے اور لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ میٹرو بس سسٹم اس وقت تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔32 ارب روپے کی لاگت سے تیز رفتار بسوں کے چلنے کے لئے گجومتہ سے شاہدرہ تک 32 کلو میٹر طویل خصوصی راستہ تعمیر کیا جا رہا ہے جس کی تعمیر کے نتیجے میں ہر ایک گھنٹے کے دوران 18 ہزار افراد ان بسوں کے ذریعے سفر کر سکیں گے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کر نے والے شہرےوں کےلئے عام بس کے مقابلے مےں دوگنی گنجائش والی بسےں چلائی جائےں گی۔ 115 ائےر کنڈیشنڈاور ماحول دوست جڑواں بسوں کا اےک شاندار قافلہ پاکستان بھر مےں اپنی نوعےت کے پہلے جدید پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا حصہ بنے گا۔ طویل بسوں کے مربوط آپرےشنل سسٹم اور مسلسل بلا رکاوٹ سفرکےلئے مےن روڈز کے درمےان مےں مخصوص راستے یعنی میڈین تجویز کئے گئے ہےں۔ مےن کےرج وے کے ہر کلو میٹر پر سٹےشنز اورمسافروں کی ےہاں تک پےدل رسائی کےلئے32اوور ہےڈ پلوں کی تعمیر بھی اس منصوبہ کے اہم حصے ہےں۔ ان سٹےشنز کے جدید ترین ٹرمینلز پر مسافروں کےلئے دےگر سہولےات کی فراہمی کے علاوہ ٹکٹنگ کا ماڈرن نظام بھی متعارف کراےا جائے گا۔ جدید ترین بسوںکا ٹائم ٹےبل اس طرح ترتیب دےا جائے گا کہ ہر سٹےشن پر ہر دو منٹ بعد نئی بس دستےاب ہو گی۔ مےٹرو بس سسٹم کو ٹرےفک کے مسائل سے بچانے کےلئے 9.6 کلومیٹر پر محیط جنوبی اےشےا کا طویل ترین فلائی اوور بھی تعمیر کےا جا رہا ہے۔ ےہ سسٹم ©©مےن فےروز پور روڈ کی ملحقہ چھوٹی اور رابطہ سڑکوں سے بھی ملی جلی ٹرےفک کا لوڈ اور شور شرابہ سمےت فضائی آلودگی مےں کمی لا نے مےں اہم کردار ادا کرے گا۔ فےروز پور روڈ پرمےن ٹرےک کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کلمہ چوک پر پےدل سڑک پار کرنے والوں کےلئے انڈر پاس کے علاوہ ماڈل ٹاو¿ن موڑ سے مڑنے والی ٹرےفک کےلئے بھی اےک اضافی انڈر پاس کو منصوبے مےں شامل کےا گےا ہے۔میٹرو بس کا مخصوص راستہ 9تا 10میٹر کشادہ ہے جو 3.5میٹر چوڑی 2لےنز اور اےک میٹر چوڑی لچکدار پٹی پر مشتمل ہے جسے 1.7 میٹر بلند اور 60 سنٹی میٹر چوڑے دوہرے بےرئےر کے ذریعے عام ٹرےفک سے علےحدہ کےا جاتا ہے۔ ہائی وےز ڈیزائن کے مستند معےار AASHTO کے مطابق 3.5 میٹر چوڑی 2 لےنز کے بےرونی شولڈرز کی چوڑائی 40 سنٹی میٹر رکھی جا رہی ہے۔ اس پراجےکٹ پر کام کے دوران پہلے سے موجود عام سڑکوں کی بحالی اوراصلاح پر کام بھی کےا جا رہا ہے۔ عام ٹرےفک کےلئے فےروز پور روڈ پر ڈیزائن سپیڈ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ‘ ہر کےرج وے پر لےنز کی کم از کم تعداد 3 اور لےن کی چوڑائی 3 تا 3.3 میٹر رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ فےروز پور روڈ کو 5 سنٹی میٹر چوڑی اضافی اسفالٹ کی تہہ بچھا کر بہتر بناےا جائے گا۔ ”مےٹرو بس سسٹم“ پراجےکٹ کا پہلا مرحلہ گجومتہ تا ےوحنا آباد زمینی سطح پر یعنی At-Grade تعمیر کےا جا رہا ہے۔ فےروز پور روڈ پر 2.3 کلومیڑ طویل ےہ راستہ تقریباً سوا تین ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔ جبکہ ےوحنا آباد تا کلمہ چوک 10 کلومیٹر روٹ پر تعمیراتی کام جاری ہے جس مےں کوٹ لکھپت برج کی اےک طرف سے توسیع بھی شامل ہے۔ 11 میٹر چوڑا نےا پُل مےٹرو ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ عام ٹریفک کو بھی کلمہ چوک کی طرف لے جائے گا۔
پلوں کےلئے فلائی اوور ریمپ کی تعمیر پراجےکٹ کا لازمی حصہ ہے۔ تمام Elevated Sectionsمےںمسافروں کی آمدورفت مےں سہولت کےلئے پیدل چلنے والوں کے لئے پل بھی تعمیر کئے جا رہے ہےں اےم اے او کالج تا بھاٹی گےٹ2.1 کلومیٹر طویل اور 3.5 میٹر چوڑی دو لےنز پر مشتمل 10 میٹر کشادہ کاریڈور قرطبہ چوک تا اےم اے او کالج سےکشن کا تسلسل ہے پراجےکٹ کے ان سےکشنز مےں لوئر مال اور دیگر موجودہ سڑکوں کی اصلاح بھی شامل ہے۔ اس Elevated Section کی تعمیر پر کل اخراجات کا اندازہ 3,079 ملین روپے لگاےا گےا ہے۔پراجےکٹ مےں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے زےراہتمام شہر مےں چلنے والی تمام بسوں کےلئے فےروز پور روڈ کے قریب اےک.... ”بس ڈپو“ کی تعمیر بھی شامل ہے۔ 217 کنال پر مشتمل 200 بڑی گاڑےوں کی گنجائش والے اس ڈپو مےں پارکنگ‘ مرمت‘ مےنٹی نےنس اور سروس سے متعلق تمام سہولےات کو ےکجا کر دےا جائے گا۔ منصوبہ مےں ایڈمنسٹرےشن بلاک‘ کےفے ٹےرےا‘ لاکرز روم‘ پبلک ٹائلٹس‘ رےسٹ اےرےا‘ فےول سٹےشن‘ انڈر گراو¿نڈ فےول رےزروائر مےنٹی ننس اےنڈ رےپئر شےڈز Shed‘ گارڈ روم‘ گےٹ سٹرکچر اور باو¿نڈری وال سمےت دیگر ضروری سہولےات شامل ہےں۔ بس ڈپو اور ملحقہ سہولےات پر تعمیراتی کام 1,376 ملین روپے سے زائد اخراجات سے مکمل کےا جائے گا۔ نشتر ٹاو¿ن کے قریب ڈپو کو فےروز پور روڈ سے ملانے کےلئے رابطہ سڑک اوراےمرجنسی انخلا کےلئے اےک علےحدہ روڈ کی تعمیر بھی اسی پراجےکٹ کا حصہ ہے۔مےٹرو بس سسٹم کے پہلے مرحلے مےں لاہور کے شہرےوں کےلئے کثیر گنجائش والی 115 جدید Articulated بسےں چلائی جائےں گی۔ برادر ملک ترکی کے تعاون سے جدید ترین سہولےات سے آراستہ ان طویل بسوں کا پہلا بےڑا پہلے ہی لاہور پہنچ چکا ہے۔ یہ پراجےکٹ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی جانب سے اہل لاہور کےلئے آرام دہ‘ محفوظ‘ سبک رفتار اور باکفاےت ٹرانسپورٹ کے وعدہ کی تکمیل ہے۔ اپنی نوعےت کا ےہ منفرد اور پاکستان مےں پہلا سسٹم جہاں عام شہرےوں کو ٹرےفک جےم اور شور شرابہ کی سنگین تکالیف سے نجات دلانے مےں مدد دے گا۔ وہاں ےہ تےز ترین نظام پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرنے والوں کو بروقت منزل مقصود پر پہنچا کر ان کا قیمتی وقت بھی بچائے گا۔ تےز رفتاری سے تکمیل کی جانب گامزن پراجےکٹ شہر مےں مواصلاتی انقلاب کا پےش خےمہ ثابت ہو گا۔”مےٹرو بس سسٹم“ کئی عالمی شہروں مےں کم لاگت پر تےز رفتار اور محفوظ آمدورفت کےلئے مےٹرو رےل کے متبادل کے طور پر اپنی افادےت منوا چکا ہے۔ ےہ روز افزوں بڑھتی مےٹروپولیٹن ٹرےفک کے سنجیدہ مسئلہ کے دےرپا اور کامےاب حل کے طور پر دنےا بھر مےں تےزی سے مقبولےت حاصل کر رہا ہے۔ ےہ نظام اعلیٰ معےار کی پبلک ٹرانسپورٹےشن کے اےک منظم اور مو¿ثر ذریعہ کے طور پر روزمرہ کام کاج کو جانے والوں کےلئے بےحد مفید سمجھا جاتا ہے۔ لاہور مےں شروع کےا گےا ”مےٹرو بس سسٹم ©©“ شہر کے موجودہ مواصلاتی نظام کی کارکردگی مےں مثبت اور خاطر خواہ اضافہ کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا ےہ جدید نظام آج سےول (شمالی کورےا)‘ احمد آباد (انڈےا)‘ جکارتہ (انڈونےشےا)‘ بوگوٹا (کولمبےا)‘ استنبول (ترکی) اور لانس انجی لےس (امریکہ) جےسے گنجان آباد شہروں مےں انتہائی کامےاب نتائج کے ساتھ کار فرما ہے۔