65 سالہ منفی داستان کا ذمہ دار کون ہے؟

25 ستمبر 2012

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت 65 سالہ منفی داستاں بھلا کر کشمیر سمیت تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیکر مثبت پیغام دیا۔ چار برس سے بھارت کے ساتھ اعتماد کا فقدان دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جس منفی داستان کو بھلانے کا درس پاکستانی وزیر خارجہ دے رہی ہیں‘ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ بھارت کے ساتھ اعتماد کا فقدان دور کرنے کیلئے جو کوشش جمہوری حکومت چار سال سے کر رہی ہے‘ اس کا فریق ثانی نے کیا ایسا ہی جواب دیا ہے؟ مشرف کے آمرانہ دور میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف سے جو دوری اختیار کی جا رہی تھی‘ موجودہ جمہوری دور میں اس کا تسلسل جاری ہے۔ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا مثبت پیغام نہیں‘ لاکھوں کشمیری شہیدوں کے خون کے ساتھ بے وفائی اور مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کرنے کا واضح اظہار ہے۔ جب آپ بھارت کے ساتھ دوستی کرینگے‘ تجارت کو فروغ دینگے‘ تعلقات کو مثال بنا لیں گے اور پسندیدہ تک قرار دینگے تو اس پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کیا دباﺅ رہ جائیگا؟ ایک طرف آپ کے اعتماد سازی کے یکطرفہ اقدامات دوسری طرف بھارت کی اٹوٹ انگ کی رٹ جاری ہے۔ بھارتی وزیر دفاع ایس ایم کرشنا کی درفنطنی سنیئے‘ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور چین سے مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ملک کا نقشہ تبدیل کردینگے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہوا تو بھارت کا خود ساختہ نقشہ تو یقیناً تبدیل ہو گا۔ اسے اپنے آئین سے کشمیر کو بھارت کی ریاست قرار دینے کی ترمیم کو واپس لینا ہو گا۔ دوسری طرف سٹریٹجک سطح پر قائم امریکی تھنک ٹینک نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان اور چین کے ساتھ روایتی جنگ کیلئے تیار رہے۔ ہمارے حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف کو کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسکے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان سے متعلقہ سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ جن حلقوں کو پاکستان بھارت تعلقات کو نارمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘ وہ بھارت کو پاکستان پر جارحیت کا مشورہ دے رہے ہیں‘ان سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور وزیر یدھ بہادر کی چیتاﺅنیوں کو تو بالکل فراموش نہیں کرنا چاہیے۔