بلوچستان کے مسائل مزید پیشرفت کی ضرورت

25 ستمبر 2012

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈیرہ مراد جمالی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بلوچستان اوّلین ترجیح ہے۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے 2 ارب روپے کا اعلان کیا۔ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی لحاظ سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پسماندہ صوبہ ہے۔ اسکی پسماندگی کی بڑی وجوہات میں مقامی اور مرکزی حکمرانوں کی طرف سے نظر انداز کیا جاناہے جس کے باعث نہ قانون نافذ کرنےوالے اداروں پر سیاسی کنٹرول ہے اور نہ ہی ملک دشمن قوتوں پر جو صوبہ میں شورش کرتی نظر آتی ہیں۔ وزیراعظم نے بلوچستان کا دورہ دیر سے ہی سہی کیا تاہم یہ اچھا اقدام ہے۔ وزیر اعظم نے انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے 2 ارب روپے کی فراہمی کے اعلان کے ساتھ جاں بحق ہونےوالوں کے ورثا کیلئے چار چار لاکھ روپے امداد اور متاثرین کے لیے خیمے اور خوراک بھجوانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امداد مستحقین تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔ یہ متاثرین تک پہنچنے تک خورد برد نہ کر لی جائے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ دیگر علاقوں کے ترقیاتی کام روک کر بلوچستان کو ترقی دیں گے۔ یہ بھی اچھا فیصلہ ہے اس پر عمل درآمد ہو تو بلوچستان کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان میں بدامنی کی دہکتی آگ کو بلوچستان میں موجود سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر ہی بجھایا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم اس حوالے سے فوری پیشرفت کریں۔