عصر ِ حاضر کے تقاضاﺅں سے ہے لیکن یہ خوف

25 ستمبر 2012
عصر ِ حاضر کے تقاضاﺅں سے ہے لیکن یہ خوف

عصر ِ حاضر کے تقاضاﺅں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
الحذَر! آئینِ پیغمبر سے سَو بار الحذَر
حافظِ ناموسِ زَن‘ مرد آزما‘ مرد آفریں
(ارمغانِ حجاز)