منگل ‘ 7 ذیقعد 1433ھ25 ستمبر2012 ئ

25 ستمبر 2012
منگل ‘ 7 ذیقعد 1433ھ25 ستمبر2012 ئ

ماہرین کی رائے کے مطابق ناریل کا پانی پینا کسی بھی انرجی ڈرنک سے بہتر ہے۔
اخبار بھی برکھا بہار ہے‘ فوائد کی پھوار ہے‘ غم ہو کہ خوشی‘ سبھی کچھ ٹھنڈے ٹھنڈے قارئین تک پہنچاتا ہے۔ ٹی وی کی جھلک تو ایک چمک ہوتی ہے‘ آتی ہے‘ چلی جاتی ہے لیکن اخبار ٹی وی کا بھی معاون ہے کہ اسکی فوری اطلاعات کو ایک دستاویز بنا دیتا ہے۔ ناریل‘ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور کیا نہیں جو اسکی نعمت نہ ہو؟ ناریل کی شکل و شباہت عورت کے سر سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے اس لئے دیکھنے میں دلکش اور گرنے میں سرتوڑ ہے اس لئے ناریل کے درخت سے ذرا دور ہی رہنا چاہیے۔ یہ قدرتی ڈرنک پانی سے لبریز ہوتا ہے‘ اسکے بالوں میں نرمی‘ اسکے خول میں تیل اور اسکے جوف میں رس اور اسکے درخت میں کسی شمشاد قد کا بانکپن ہوتا ہے اور بناوٹ ایسی کہ جنگل سج جاتا ہے۔ اسکی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ امریکہ کا بالکل مخالف نہیں‘ اسی لئے امریکی اس میں ڈرل کرکے سٹرا ڈالتے اور لذتِ کام و دہن پاتے ہیں۔ ناریل کا نام بھی اتنا پیارا ہے کہ کسی غزل کی ردیف لگتا ہے۔ یہ جو گوناگوں مشروبات جن میں مصنوعی اجزاءکی آمیزش ہوتی ہے‘ ان پر پیسہ خرچ کریں مگر پیئیں ناریل پانی کہ یہ پھل دل کا جانی اور اسکی بہت پرانی کہانی ہے۔ ہندو تہذیب میں دلہن کی آمد پر ناریل توڑنا‘ دلہن کے خوش قدم ہونے کی دلیل ہے‘ اگر ایک ناریل کو کوئی ماہر مصور رنگوں سے سجائے اور اسے چہرہ دے تو پھر اسے پینے کے بجائے دیکھ کر ہی پیاس بجھائی جا سکتی ہے۔ جب ہوا چلتی ہے‘ ناریل کا پیڑ لہراتا ہے‘ اسکی ماڈرن زلفیں ہوا سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہیں تو جنگل گا اٹھتا ہے....
قربان ہوئی جاتی ہے موسم کی جوانی
کجری کوئی گاتا ہے ہوا جھوم رہی ہے
٭....٭....٭....٭
پرویز مشرف کہتے ہیں‘ بلاول کا مجھے بینظیر کا قاتل ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ بینظیر اپنی موت کی ذمہ دار تھیں‘ وہ فوج میں غیرمقبول تھیں‘ کالاباغ ڈیم بہت اہم ہے‘ نواز شریف اندر سے طالبان ہیں‘ ڈاکٹر قدیر ایٹم بم بنانے کے ماہر نہیں‘ عمران صرف باتیں کرتا ہے۔
اگر حضرت مشرف کے اس مجموعی بیان کو صنعتِ مقلوب میں پڑھا جائے تو وہ شاید خود اس سارے ملبے تلے پہچانے بھی نہ جا سکیں۔ جہاں تک قتل کے سانحات کا تعلق ہے تو قاتل کے دست ملوث نہیں‘ انکے مرغ دست آموز کے ہاتھ ہیں جن پر انکے وہ ہاتھ ہیں جو پیمانہ اٹھاتے ہی لرزنے لگتے ہیں اور شاید یہ سارا بیان بھی انہوں نے صہبا و مینا کو خالی کرکے دیا ہے کہ انکے حرف حرف سے مے ٹپکتی ہے۔
کسی کے آنے سے مشرف کے ایسے ہوش اڑے
شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں
اگر بقول انکے بینظیر فوج میں غیرمقبول تھیں‘ تو یہ سیدھا سیدھا اقبالِ جرم ہے۔ البتہ ایک فوجی کا پوری فوج کو قاتل بنانا شاید کوئی پڑھی پڑھائی پٹی ہے جو انہوں نے دہرائی ہے۔ کالاباغ ڈیم اگر اتنا ہی ضروری تھا تو انہوں نے اپنے طویل دور اقتدار میں تعمیر کیوں نہیں کرایا؟ مسلمان کو مسلمان ہی کہتے ہیں یہ سوال طالبان سے بھی کیا جائے تو جواب یہی ہو گا۔ نواز شریف اندر باہر سے مسلمان ہیں‘ کیونکہ طالبان عہد نبوت میں موجود نہ تھے۔ ڈاکٹر قدیر اگر ایٹم بم کے ماہر نہ ہوتے تو مشرف باہر نہ ہوتے۔ عمران باتیں کرتے ہیں‘ وہ گونگے ہرگز نہیں اور انہوں نے جو بات بزبان حصول ورلڈ کپ کی تھی‘ بہرے مشرف کو کم از کم وہ تو سنائی دینی چاہیے۔
٭....٭....٭....٭
مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں‘ اے این پی والے بتائیں کیا باچا خان کا فلسفہ کرپشن ہے؟
مولانا تو کبھی وکھی سے بات‘ وکھی پھاڑ کر نکالتے ہیں اور انکے الفاظ میں صدقِ یوں سمٹ آتا ہے جیسے حجلہ عروسی میں دلہن کی خوشبو۔ جو بات کوئی نہ کہہ سکا‘ وہ مولانا فضل الرحمان نے ایک ہی جملے میں کہہ ڈالی بلکہ گویا اے این پی ہی تمام کردی۔ یہ کہہ کر کہ کیا باچا خان کا فلسفہ کرپشن ہے‘ مولانا نے اے این پی کا شجرہ نسب ہی بیان کر دیا۔ ایسا شجرہ نسب جس میں حسب موجود ہے اور انکے حسنِ بیان اور احقاق حق کے کیا کہنے کہ اس شجر سے پھوٹنے والی ہر شاخ اور اسکے بیچ سے اگنے والے ہر درخت کا یہ انوکھا انداز بھی بین السطور واضح کر دیا کہ یہ درخت جو باچا خان کے چمن میں بطور انکی باقیات لہلہا رہے ہیں‘ پھل دیتے نہیں‘ پھل لیتے ہیں۔ جی کرتا ہے کہ مولانا کو بدیع الزمان ہمدانی قراردیا جائے کہ وہ علم بدیع کے واقعی استاد نکلے اور انہوں نے تو یہ تک بتا دیا گلشن باچا کی بابت کہ اس کا میلان کس جانب ہے۔ ذرا اس میلان کی شرح بھی ملاحظہ ہو....
پریوں پہ تری طرح سے مرتے نہیں ہمدم
ہم جس پہ ہیں عاشق وہ پری زاد غضب ہے
٭....٭....٭....٭
اوباما کے ہیڈکوارٹر سے 50 ہزار ڈالر کے تین چیک گم ہو گئے۔
خدا خیر کرے‘ یہ الزام پاکستانی قیادت پر نہ لگ جائے‘ حالانکہ وہ تو ڈالر کجا‘ اس پر بنی دجال کی آنکھ کو بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی۔ امریکی بنیادی طور پر قزاق ہیں‘ انکی تاریخ میں لکھا ہے کہ گھوڑے دوڑا کر کوئی اسلام نہیں پھیلاتے تھے‘ راہگیروں مسافروں کو لوٹ لیا کرتے تھے اور یہی ان کا پیشہ تھا۔ پھر وقت کے ساتھ ان کا پیشہ بھی ترقی کرتا گیا اور اسے نیوورلڈ آرڈر کا نام دےدیا گیا۔ ویسے امریکی بڑے اچھے ہیں‘ ہماری قیادتوں کی بڑی مدد کرتے ہیں‘ چاہے اس کیلئے انہیں چندہ کیوں نہ اکٹھا کرنا پڑے۔ اوباما کے ہیڈکوارٹر سے 50 ہزار ڈالر چوری ہو جانا اور امریکی صدارتی امیدوار مٹ رومنی کے جہاز کی ہنگامی لینڈنگ دونوں واقعات دونوں کیلئے برا شگون ہیں۔ کہیں امریکہ کو کوئی لاعلاج مرض تو لاحق نہیں ہونےوالا؟ مٹ رومنی بھی گلے میں تین تین صلیب لٹکا لیں کہ انکے نام کا پہلا لفظ ہی مٹ ہے۔ کہیں وہ آئندہ انتخابات میں مٹ اور اوباما لُٹ نہ جائیں۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ ہماری ڈالر بیزار قیادت صحیح سلامت ہے اور آئندہ انتخابات کیلئے بھی براستہ عشق رسول رواں دواں ہے۔ اپنی معزز قیادت کیلئے غالب کا یہ شعر تحفتہً پیش ہے....
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا