خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

25 ستمبر 2012

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
یہ چند سال پہلے کی بات ہے جب یورپ میں ڈینش کارٹون کا فتنہ پیدا ہوا تھا اس وقت میں لندن میں ایک برطانوی اخبار کے لے کام کر رہی تھی ، ایک روز اخبار کے ایڈیٹر نے مجھے کہا کہ فریحہ یہ بات آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی کہ مسلمان چاہے کتنا بھی تعلیم یافتہ ہو، انتہائی لبرل اور ماڈرن ہو، ساری زندگی یورپ میں گزاری ہو، اسکی گفتگو اور رہن سہن میں چاہے اسلام کی کوئی جھلک بھی دکھائی نہ دیتی ہو مگر جب بھی رسول کریم کا نام آتا ہے وہ بالکل ایک انتہا پسند مسلمان بن جاتا ہے ۔
میں نے اپنے ایڈیٹر کو یہ بات سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ ہمارے مذہب کا وجود اور بقاصرف رسول پاک کی ذات مبارک کی بدولت ہے ۔ ہم مسلمان چاہے دنیا کے کسی گوشے میں بھی کیوں نہ بستے ہوں، ناخواندہ ہوں یا انتہائی تعلیم یافتہ، غریب ہوں یا بہت دولتمند، ماڈرن ہوں یا انتہائی دقیانوسی خیالات کے مالک۔ مگر نبی پاک ہمارے لیے اپنے ماں باپ ، اپنی اولاد اور دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر محبوب اور واجب الاحترام شخصیت ہیں۔ مگر وہ میری بات پر قائل نہ ہو سکا ،ہم مسلمان اپنے نبی پاک سے کس قدر محبت کرتے ہیں یہ بات کسی یورپین کی سمجھ میں آہی نہیں سکتی کیونکہ بقول اقبال ....
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام
مغرب والے تو یہ نہیں سمجھ سکتے مگر ہمارے کچھ انتہائی روشن خیال اور لبرل حلقے بھی جو کہ عیش جہاں ہی کو زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں ، وہ بھی یہ واویلا کر رہے ہیں کہ ہمیں یورپ کی آزادی اظہار کی آڑ میں توہین رسالت کرنے پر چپ چاپ بیٹھ جانا چاہیے اور احتجاج نہیں کرنا چاہیے۔ ان کیلئے اقبال کی زبان میں عرض ہے کہ....
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
 آج سے بارہ سو سال پہلے جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حکم دریافت کیا تو امام مالک نے فرمایا …..”ما بقاءالامّة بعد شتم نبیّہا ؟“ اس امت کے باقی رہنے کا کیا جواز ہے کہ جس کے نبی کی توہین کر دی جائے۔ اسی لیے امت مسلمہ اپنی ہر ذلت و رسوائی برداشت کر سکتی ہے مگر اپنے رسول پاک کی ذات مبارک کی جانب اٹھنے والی ایک انگلی بھی برادشت نہیں کر سکتی‘ اس لیے احتجاج تو ہو گا ہر حال میں ہو گا ، علمی سطح پر احتجاج ہونا چاہیے،
حکومتی سطح پر امریکہ سے احتجاج اور عوامی سطح پر پرامن احتجاج ضرور ہونا چاہیے اور اس احتجاج کی قیادت حکومت کو کرنی چاہیے تھی تاکہ لوگوں میں یہ احساس نہ پیدا ہوتا کہ انکی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔
جمعہ کے احتجاج میں جو کچھ ہوا وہ شرمناک ہے ، مگر قابل غور بات یہ ہے کہ اسلام آباد اور پورے پنجاب میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ، سب سے زیادہ تشدد ، لوٹ مار اور ہلاکتیں حکومت کے اپنے صوبے سندھ کے شہر کراچی میں ہوئیں۔ دوسرے نمبر پر پشاور رہا جہاں حکومت کی اتحادی اے این پی کی حکومت ہے ۔
سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ جن رہنماو¿ں نے اس ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا تھا وہ سب احتجاج والے دن غائب تھے اور جمعہ کے دن رہنماو¿ں کے بغیر لوگوں کا ایک بپھرا ہوا ہجوم تھا جو اپنے راستے میں آنےوالی ہر شئے کو توڑتا پھوڑتا چلا گیا۔ یہ احتجاج صرف مذہبی نہیں تھا بلکہ اسکے اندر سماجی ناانصافی ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور غیر یقینی مستقبل کا خوف بھی تھا ، ان مظاہروں کی خاص بات یہ تھی جو میں نے خود اسلام آباد میں ہونےوالے مظاہرے میں اپنی آنکھوں سے دیکھی کہ اس میں نوے فیصد مظاہرین نوجوان نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ جن کا غصہ دیکھنے والا تھا اس لیے جو کچھ ہوا اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے مگر یہ لمحہ فکریہ ہے کہ بے سمت نوجوان نسل کے اندر پکتا ہوا یہ لاوا جس کی صرف ایک جھلک ہم سب نے جمعہ کے روز دیکھی ، کہیں یہ پھٹ پڑا تو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جائےگا۔ اگر حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ بات ختم ہو گئی ہے تو یہ اسکی غلط فہمی ہے ‘ اس لیے حکومت کو اس مسئلے پر زبانی کلامی احتجاج سے بڑھ کر امریکہ سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ اگر وزیراعظم اور صدر مملکت اس عوامی احتجاج سے پہلے ہی گستاخانہ فلم پر امریکہ سے بھر پور احتجاج کرتے تو شاید عوام کا ردعمل بھی اتنا شدید نہ ہوتا۔
اس احتجاج نے یہ بات تو ثابت کر دی ہے کہ اس گستاخانہ فلم کےخلاف پاکستان کے عوام کتنے مشتعل ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف احتجاج کرنے سے اسلام کی توہین کا یہ گستاخانہ عمل رک جائےگا۔ کیا اب وقت نہیں آیا ہے کہ اسلام کی توہین روکنے کیلئے یورپی ممالک اور امریکہ پر اسلامی ممالک کی جانب سے دباو¿ ڈالا جائے کہ جس طرح انہوں نے مٹھی بھر یہودیوں کے مذہب کے تحفظ کیلئے قانون بنائے ہیں ، اسی طرح دنیا کے سوا ارب سے زیادہ مسلمانوں کے مزہب کی توہین روکنے کیلئے بھی قوانین بنائے جائیں۔ جرمنی میں یہودی صرف ایک لاکھ انیس ہزار ہیں جب کہ مسلمانوں کی تعداد تینتالیس لاکھ ہے ۔ مگرجرمنی میں یہودیت کی توہین اور دوسری جنگ عظیم میں انکے قتل عام کا انکار کرنے کےخلاف 1985ءمیں ایک قانون بنایا گیا، جس میں 1994ءمیں ترمیم کی گئی۔ اس قانون کے تحت نازی علامات استعمال کرنا، یہودی مذہب کےخلاف بولنا یا تحریر کرنا اور یہودیوں کے قتل عام سے انکار کرنا جرم ہے ۔ اس جرم کی سزا پانچ سال تک قید ہے ۔ فرانس میں یہودیوں کی تعداد صرف پانچ لاکھ ہے جبکہ مسلمان پچاس لاکھ ہیں۔ فرانس میں یہودی مذہب کی توہین کےخلاف 1984ءمیں قانون بنایا گیا۔ اس قانون میں 1990ءمیں ترمیم کی گئی۔ دو ہزار تین میں اس قانون میں مزید ترمیم کر کے سزا میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر ایک سے تین سال تک قید کی سزا ہے ۔
 اٹلی میں یہودیوں کی تعداد صرف 28 ہزار ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے زیادہ ہے ۔ اٹلی کی پارلیمنٹ نے 1967ءمیں یہودیت کی توہین کےخلاف آرٹیکل آٹھ منظور کیا۔ اس قانون کے تحت یہودیوں کے قتل عام کا انکار اور انکی توہین کرنا جرم ہے ۔ اس جرم کی سزا تین سے بارہ سال تک ہو سکتی ہے ۔ برطانیہ میں آباد یہودی دو لاکھ بانوے ہزار ہیں جبکہ مسلمانوں کی تعداد انتیس لاکھ ہے ۔ برطانیہ میں تین ایسے قانون ہیں جو یہودی مذہب کیلئے تحفظ کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔
پہلا قانون پبلک آرڈر ایکٹ 1986ءکہلاتا ہے ۔ دوسرا قانون ایکٹ آف 1994ءمذہبی نفرت پھیلانے کےخلاف ہے ۔ تیسرا قانون: ایکٹ آف دو ہزار چھ تحریری طور پر نفرت آمیز مواد پھیلانے کےخلاف ہے ۔ ان جرائم کی سزاسات سال قید اور جرمانہ ہے ۔
اسکے علاوہ 1997ءمیں برطانوی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیا گیا جس میں ہولوکاسٹ کے انکار کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا۔ یہ بل ابھی منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے پاس ہے ۔ اسپین میں یہودی صرف بارہ ہزار ہیں جبکہ مسلمان دس لاکھ ہیں۔ 24 مئی 1996ءمیں اسپین کی پارلیمنٹ نے آرٹیکل پانچ سو دس منظور کیا۔ اس قانون کے تحت یہودی قوم اور مذہب کےخلاف تقریر یا تحریر قابل سزا جرم ہے ۔ اس جرم کی سزا ایک سے تین سال قید اور جرمانہ ہے ۔
یہودیوں کی توہین پر صرف یورپی ممالک ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ بھی پیش پیش رہی ہے ۔ 1992ءمیں اقوم متحدہ نے یہودی مخالف جذبات کو ایک خطرہ قرار دیا اور اس کےخلاف دنیا بھر میں قانون سازی کرنے پر زور دیا۔ نومبر دو ہزار چار میں اقوام متحدہ نے ایک اعلامیہ کے ذریعے تمام رکن ممالک سے نسل پرستی اور یہودیت کےخلاف توہین آمیز جذبات کےخلاف جدوجہد کرنے پر زور دیا۔ کیا سوا ارب سے زیادہ مسلمان، ایک کروڑ یہودیوں کی طرح اپنے نبی پاک کی حرمت کے تحفظ کیلئے اکٹھے ہو کر یورپ اور امریکہ سے اس سلسلے میں قانون سازی کا مطالبہ نہیں کر سکتے ؟
ہمارے حکمرانوں اور دانشور طبقے کو اب اس سلسلے میں عملی قدم اٹھانا ہو گا ، ایک عالمی تحریک چلانی ہو گی تا کہ اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی ممالک پر دباو ڈال کر قانون سازی کروائی جائے۔ اور مغربی انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کا یہ سلسلہ ختم ہوسکے۔