حق میزبانی

25 ستمبر 2012
حق میزبانی

اٹھارویں صدی میں حکومت برطانیہ کا بھیجا ہوا پہلا ریمنڈ ڈیوس لارڈ کلائیو تھا‘ جو بہت بعد میں لارڈ بنا۔ کلائیو نے پینتیس سو فوج کے ساتھ نواب سراج الدولہ تاجدار بنگال کی ایک لاکھ پچاس ہزار فوج کو پلاسی کی لڑائی میں شکست دیدی۔ میر جعفر نواب کا سپہ سالار تھا جو درپردہ انگریزوں سے ملا تھا۔ جنگ کے وقت میر جعفر کی سوا لاکھ فوج ساکن کھڑی رہی۔ نواب کا جانثار جنرل میر میدان اپنی فوج کے ساتھ لڑتا ہوا مارا گیا۔ لڑائی کے بعد میر جعفر نے کلائیو کے ساتھ مل کر نواب سراج الدولہ کو قتل اور پورے کنبے کو کشتی میں بٹھا کر دریا برد کر دیا پھر انگریزوں نے حسب وعدہ میر جعفر کو بنگال کا نواب بنا دیا۔ چند ماہ بعد نواب موصوف کو کوڑھ کا مرض ہوا‘ کلائیو نے اسے گدی سے اتار دیا اور جعفر کا اکلوتا بیٹا میراں اسکی زندگی میں جنگ میں باغیوں کی سرکوبی کرتا ہوا مارا گیا اور آج بنگال میں کوئی مسلمان اپنے بچے کا نام جعفر نہیں رکھتا۔
کلائیو نے پہلے نواب کے درباریوں تک رسائی حاصل کی‘ پھر ان میں سے بعض کو خرید کر برصغیر کی فیصلہ کن جنگ پلاسی لڑی‘ جس سے ہندوستان میں انگریزوں کی حکمرانی اور ہندوستانیوں کی غلامی کا دور شروع ہوا۔ کلائیو نے برطانیہ کےلئے وہ کام کر دکھایا جو شاید آج بھی خفیہ ایجنسیاں بھی پاکستان کو غیرمستحکم اور مزید دولخت کرنے کیلئے قائم رکھے ہیں۔ انگریز قوم جسے کلائیو کا ہمیشہ کیلئے ممنون ہونا چاہئے تھا اسے رشوت اور مال بنانے کے جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے مقدمہ چلایا۔ اس نے ندامت کو برداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی کر لی۔میر جعفر کو اپنی زندگی میں ہی سزا مل گئی‘ نواب سراج الدولہ کے محل سے لوٹا خزانہ اور مال و اسباب انگریز لے گئے‘ لیکن میر جعفر نے جنگ پلاسی کو جتوانے میں جو پارٹ ادا کیا تھا وہ احسان نہ بھولے۔
مسٹر ایم کے چودھری جو کبھی وفاقی سیکرٹری داخلہ اور 71ءمیں مشرقی پاکستان کے آئی جی پولیس رہے اپنی کتاب ”مارشل لاءکے سیاسی انداز“ میں لکھتے ہیں ”میر جعفر جس نے بنگال میں تحریک آزادی کے وقت سراج الدولہ سے غداری کی تھی‘ سکندر مرزا کے اجداد میں سے تھا۔ سیاسی زندگی اور خصوصاً اپنی ملازمت کے دوران سکندر مرزا کی کوشش رہی کہ کسی کوپتہ نہ چلے کہ وہ میر جعفر کی اولاد میں سے ہیں۔ کے ایم چودھری لکھتے ہیں ”جب ایوب خان نے سکندر مرزا کو ذلیل کر کے نکال دیا تو وہ اپنے آقاﺅں کے پاس یعنی انگلینڈ چلا گیا اور لندن پکا ڈلی ہوٹل میں قیام پذیر ہوا۔ ایک ماہ بعد اسے ایک فلیٹ مل گیا اور وہ اس میں منتقل ہو گیا جس وقت سکندر مرزا ہوٹل چھوڑ رہا تھا تو حکومت برطانیہ کا افسر کار خاص وہاں آیا اور سکندر مرزا کا بل ادا کر دیا۔ سکندر مرزا نے احتجاج کیا تو افسر نے کہا ”ملکہ برطانیہ نے سکندر مرزا اور اسکے اجداد کی خدمت کے صلے میں حق میزبانی ادا کیا ہے‘ جھینپ کر مرزا نے یہ ادانیٰ سی خیرات قبول کر لی اور وہاں سے چلا گیا۔ برطانیہ نے اپنا دیرینہ قرض چکا دیا اور سمجھا کہ اب اس پر سکندر مرزا اور میر جعفر کی خدمات کے صلے کا کوئی بار نہیں رہا۔ اس واقعہ کے بعد انہوں نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ مسٹر جے حصواری جو ایک ممتاز انشورنس کمپنی کے جنرل مینجر ہیں اس چشم دید واقعہ کے گواہ ہیں“۔
ملکہ برطانیہ نے دوسرا حق میزبانی جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اولاد کو ادا کیا وہ قابل ستائش ہے۔ دونوں اتحادی تھے۔ انگریز وائسرائے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تعلقات دوستانہ تھے۔ انگریز کی پنجاب پر بھی نظر تھی‘ لدھیانہ دریا ستلج کے اس پار تک انگریز کا قبضہ تھا۔ مہاراجہ کی وفات کے بعد اس کام کیلئے فرنگی ایجنسیوں نے مہاراجہ کے دورشتہ دار سرداروں اور درباریوں لہنا سنگھ اور اجیت سنگھ کا انتخاب کیا۔ انہیں اپنے پاس بلا کر ریمنڈ ڈیوس کی طرح ٹرینڈ اور مسلح کیا۔ انکے ذریعے سکھ دربار لاہور میں پھوٹ ڈالنے کی منصوبہ بندی ہوئی۔ جموں کے راجہ گلاب سنگھ کو بھی ساتھ ملایا گیا‘ گلاب سنگھ نے افغانستان کی جنگ میں انگریزوں کی بڑی مدد کی تھی۔ جب یہ دونوں سردار دہشت گردی کی تربیت لے چکے تو انہیں واپس سکھ دربار بھیج دیا گیا۔ انہوں نے مہاراجہ شیرسنگھ اور وزیر اعظم دھیان سنگھ کو قتل کیا۔ ان دنوں سکھ سلطنت میں خانہ جنگی عروج کو پہنچی۔ انگریز فوج جو اس وقت کے انتظار میں تھی حملہ آور ہوئی‘ پانچ خونریز لڑائیاں ہوئیں‘ رانی اور بعض سکھ جرنیل انگریز فوج سے ملے تھے۔ سکھ فوج کو شکست ہوئی اور انگریز سکھ سلطنت پر قابض ہو گئے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کمسن بیٹا مہاراجہ دلیپ سنگھ عیسائی بنا لیا گیا۔ ملکہ وکٹویہ نے اسے انگلینڈ بلا کر اپنا بیٹا بنا لیا اور جاگیر اسکے نام کر دی۔ اس طرح ملکہ نے سکھوں کو اپنا حق میزبانی ادا کر دیا۔
آج پاکستان کو دوست نما دشمنوں نے جس طریقے سے گھیرے میں لے کر ایک طرف قبائلیوں سے جنگ میں الجھا کر اور بڑے شہروں میں تربیت یافتہ گوریلوں کے ذریعے کہیں لسانی‘ فرقہ وارانہ اور کہیں مذہبی اور گروہی فسادات میں الجھا دیا ہے اس کی مثال برصغیر کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔قبائلیوں کےساتھ خانہ جنگی‘ افغانستان کی سمت سے دہشت گردوں کے حملے‘ پاک ہائی کمان کو شبہ ہے کہ یہ حملے را اور سی آئی اے کی منشا سے کئے جاتے ہیں‘ بڑے شہروں میں قتل و غارت اور فسادات برپا ہیں جن میں جدید ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال ہوتا ہے۔ ان دہشت گردوں کو غیر ملکی امداد اور گولہ بارود مہیا کرنے کا بار بار اعلان ہوتا ہے۔
وزیرستان میں ڈرون حملے اور ان کا اندرون ملک شدید ردعمل‘ ملکی معیشت تباہی کے کنارے پر گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کمر توڑ مہنگائی عوام کی زندگیاں اجیرن اور انڈسٹری تباہ‘ ریلوے کا پہیہ جام‘ مال گاڑیاں ناپید‘ انجن ورکشاپوں میں پڑے ہیں۔ پی آئی اے‘ سٹیل ملز کی آہ و زاریاں‘ یعنی کسی ملک سے جنگ چھڑ جائے تو ٹینکوں‘ آرمرڈ گاڑیوں‘ توپوں اور فوجیوں کو بمعہ ساز و سامان نقل و حرکت کیلئے تقریباً تمام ذرائع مواصلات کی صلاحیت اور حسن کارکردگی مخدوش ہے۔ بھارت نے پاکستانی دریاﺅں پر بڑے بڑے ڈیم بنا کر پانی روک لیا ہے ادھر کالا باغ ڈیم جو ملکی سلامتی کا آئینہ دار ہے سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔ سنا ہے بھارت اور اسکے اتحادیوں نے کالا باغ ڈیم رکوانے کیلئے بعض پاکستانی اعلیٰ شخصیات کو کروڑوں دیئے ہیں‘ لگتا ہے دشمن ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے اور وطن عزیز کو اس قدر کمزور بنایا جا رہا ہے کہ دشمنوں کی فوجی یلغار کے وقت یہ گتے کے گھرونے کی طرح گر جائے اور حملہ آور اسکے ٹکڑے آپس میں بانٹ لیں۔ آج سے 2½000 سال قبل چینی جرنیل Sun-zu (سن زو) نے کیا خوب کہا تھا کہ:
 SupremeExcellence Consists in Breaking the enemy's resistence without fighting
معنی کہ ”بہترین طریق یہ ہے کہ دشمن کو جنگ کئے بغیر اس کی قوت مدافعت ختم کر دو“ یہی طریق بھارت نے پاک آرمی کےخلاف مشرقی پاکستان میں اپنایا اور اب پورا ملک کراچی سے کوئٹہ اور فاٹا سے شمالی علاقہ جات تک اس بیرونی سازش کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اب امریکی ڈالروں کی بھرمار پاکستان کے اندر کیا گل کھلاتی ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ایسے ملکی حالات میں ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ پاکستان کے سابق امریکی سفیر حسین حقانی نے بغیر تفتیش کئے اتنے سو ویزے امریکیوں کو اشو کر دیئے جن میں زیادہ تر جاسوس دہشت گرد تھے۔ دوسری خبر کہ ”سینکڑوں غیر ملکی دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کرانے کی سازش بے نقاب ہو گئی ہے۔ انکے داخلے پر ایئر پورٹس پر سی سی ٹی وی کیمرے بند کر دیئے گئے اور غیر ملکی دہشت گردوں کو پاکستان داخل کرانے کیلئے مختلف ممالک سے پاکستان کے جعلی ویزے جاری کئے گئے۔ رپورٹ کےمطابق ایف آئی اے کے بعض اہلکار بھی اس سازش میں ہیں (نوائے وقت 7 ستمبر)
امریکی صحافی ادیب اور دانشور ایرک مارگولس جس نے روس افغان وار کو قریب سے دیکھا‘ اپنے حالیہ مضمون ”ڈرون حملوں سے بڑھتی ہوئی نفرت“ میں لکھتا ہے کہ ”امریکہ کہنے کو تو پاکستان کا اپنا اہم غیر نیٹو اتحادی کہتا ہے‘ لیکن اسکے ساتھ سلوک کسی فوجی طور پر مقبوضہ ملک جیسا کرتا ہے۔ حکومت پاکستان کا یہی کام رہ گیا ہے کہ ڈرون حملے اور سی آئی اے کی زمینی کارروائیاں دیکھتی رہے اور بے بسی اور شرمندگی کے عالم میں ہاتھ ملتی رہے۔ واشنگٹن میں انکی کوئی نہیں سنتا“ امریکی ایرک لکھتا ہے ”پچھلے دنوں اسلام آباد کیلئے ایک ارب ڈالر کی امریکی امداد کی بحالی کے بعد نیٹو ٹرکوں پر پابندی ختم کر دی گئی‘ پاکستانیوں کے پاس ڈالر پھر سے آنا شروع ہو گئے اور شاید ان میں سے بیشتر سوئس‘ دبئی یا سنگاپور کے بنک اکاﺅنٹس کی طرف جا رہے ہیں“ (خبریں 24 اگست)
اگر پاکستانی حکمران ڈرون اور سرحد پار سے حملوں اور دہشت گردوں کی جارحیت سے اپنے شہریوں اور فوج کا جانی اور مالی نقصان برداشت کرتے ہوئے درگزر کر رہے ہیں تو بڑے آقا ڈالروں میں حق میزبانی بھی ادا کر رہے ہیں جو ملکہ برطانیہ کی بخششیں سے بہت زیادہ ہے۔