پاک بھارت تعلقات اور مجید نظامی کا انتباہ

25 ستمبر 2012

(آخری قسط)
المےہ ےہ ہے کہ ہم بحےثےت قوم نہ اپنی تارےخ سے واقف ہےں نہ اپنی رواےات سے واقف ہےں کےونکہ اےک منظم سازش کے تحت پےدا ہونےوالی نئی نسلوں کو اپنی اسلامی رواےات اور تحرےک پاکستان سے اس طرح دور کر دےا گےا ہے کہ آج ہمارے تعلےمی اداروں مےں قومی ترانہ پڑھنے کی رواےت بھی ختم کر دی گئی ہے، علامہ اقبال کی وہ نظم جو ہماری درسی کتابوں اور کاپےوں کی شان ہوتی تھی" لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مےری" اس کو بھی ختم کر دےا گےا ہے اور حےرت تو مجھے مسلم لےگ ن کے روےوں سے بھی ہوتی ہے کہ جو بظاہر اپنے آپ کو تحرےک پاکستان اور قائد اعظم کا جانشےن سمجھتے ہےںتو کم از کم پنجاب کے تعلےمی اداروں مےں تحرےک پاکستان اورانکے رہنماﺅں کے بارے مےں کورس شامل کرےں، قومی ترانے کو تعلےمی اداروں مےں بنےادی اہمےت دیں تب ہی ہم جا کر نئی نسل کو پاکستان کے بارے مےں کچھ بتا سکتے ہےں۔ کےونکہ محترم مجےد نظامی کا ےہ انتباہ کہ ےہودی صلاح الدےن اےوبی کی شکستوں کا غم نہےں بھلا سکے اور ہندﺅ برصغےر پر مسلمانوں کا اےک ہزار سالہ دو رحکمرانی ابھی تک دل سے نہےں بھلا پائے اور وہ اپنی اس آگ مےں جل کر پاکستان کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے سے نہےں چوکتے۔ حتیٰ کہ بھارت نے آج پاکستان کو نا صرف سےاسی طور پر بلکہ ثقافتی اور کھےلوں کی سطح پر بھی تنہا کر دےا ہے لےکن ہم نجانے کےوں کس احساس کمتری مےں مبتلا ہو کر بھارت سے دوستی کی پےنگےں بڑھانے کی بات کر رہے ہےں ۔
 ےہ بھی اےک حقےقت ہے کہ گذشتہ ساڑے تےن سالوں مےں ہم نے ےکطرفہ طور پر جتنے بھی تجارتی اور صنعتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے وہ صرف بھارت ہی کے حق مےں ہے کےونکہ تقرےباً 5ارب ڈالر کی سالانہ تجارت مےں ابھی تک پاکستان کا حصہ 60-50 کروڑ ڈالر سے اوپر نہےں ہوا۔ تےن سال پہلے معاہدے کے تحت جتنے ٹرک بھارت سے پاکستان آنے تھے اتنے ہی پاکستان سے ہندوستان جانے تھے مگر عملی حقےقت ےہ ہے کہ بھارت سے روزانہ تقرےباً ڈےڑھ سو ٹرک آرہے ہےں جبکہ پاکستان سے اےک ٹرک بھی نہےں جا رہا کےونکہ بھارت حسب معمول اپنی تخرےبی ذہنےت کے تحت کبھی قوانےن کے نام پر، کبھی کوالٹی کنٹرول کے نام پر ابھی تک اےسی روکاوٹےں کھڑی کر رہا ہے کہ پاکستان سے بھارت مال پہچانا نا ممکن ہے۔ اسی طرح معاہدے کے تحت روزانہ کی بنےاد پر پاکستان سے 6 مال گاڑےوں کی صورت مےں سامان جانا تھا جس کی ابھی تک اےک بھی اوسطاً گاڑی نہےں ہے ۔ان حقائق اور روےوں کے بعد خصوصاً محترم مجےد نظامی کے بروقت انتباہ کے بعد ہمےں جذبات سے نہےں حقائق کی بنےاد پر اپنے ملک کی زمےنی حقائق کےمطابق فےصلے کرنے چاہئیں۔
 بلاشبہ بقول کچھ طبقہ فکر کے اگر ےہودی اور عےسائی سے ہم ےورپ اور امرےکہ مےں تجارت کر رہے ہےں تو ہندوستان سے کےوںنہےں ہو سکتی تو ان کےلئے بنےادی استدلال ےہ ہے کہ بلاشبہ تجارت کسی سے بھی بری نہےں مگر اعتبار اور اعتماد وہ بنےادی حقائق ہےں جس کو کوئی قوم بھی فراموش نہےں کر سکتی۔ آخر کےا وجہ ہے آج ےورپ اور امرےکہ اےران سے تجارتی تعلقات نہ خود قائم کر رہا ہے اور نہ کسی کو کرنے دے رہا ہے۔
اسی طرح آخر کےا وجہ پاکستان کے پاسپورٹ پر تمام دنےا کے ممالک کا نام درج ہے سوائے اسرائےل کے ؟ ےا آج بھی پاکستان تائیوان سے برائے راستہ تجارتی تعلقات نہےں قائم کر رہا ؟ لہٰذا آج ہمےں چند افراد کے انفرادی فائدوں کو نظر انداز کر کے قوم کے اجتماعی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے فےصلے کرنے چاہئیں۔میں نے اپنا پہلا کالم نوائے وقت مےں 1977 مےں اسی موضوع پر لکھا تھا اسکے بعد کئی بار ارباب اختےار کو متوجہ کر چکا ہوں اور آج ملک کی محترم شخصیت مجےد نظامی صاحب نے اس کی طرف متوجہ کےا ہے تو مےں سمجھتا ہوں ےہ وقت کی آواز ہے اس پر ارباب اختےار کو بحےثےت قوم او ر خصوصاً ہماری تجارتی و صنعتی برداری کو اس پر توجہ دےنی چاہےے۔
جس طرح بھارت نے ہمارے آبی ذخائر پر قبضہ کر کے اور تمام دریاﺅں پر متنازعہ ڈیم بناکر پاکستان جو بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے س کو خشک سالی کا میدان بنانے کی پلاننگ کر رہا ہے اور ( FICCI) ےعنی فےڈرےشن آف انڈےن چےمبر آف کامرس کی رپورٹ میں اسی بات کو خصوصی اہمیت دی گئی تھی کہ پاکستان کے دریاوئں کا پانی خشک کر کے اسکی زراعت کو تباہ کر دیا جائے اور اگر اس پر بھی پاکستان ختم نہ ہو تو اس پر ایٹم بم ما ر دیا جائے۔ اب ان بھارتی تاجروصنعتکاروں کے رویئے ، انکے عوامی رویئے ، انکے ثقافتی اور میڈیا کے رویئے دیکھنے کے بعد ہمارے کچھ طبقے بھارتی دوستی میں مرعوب ہو کر اپنے قومی اور سلامتی کے مفادات کو نظرانداز کر رہے ہوں تو ان میں اور ہندوستانیوں میں کیا فرق رہ جاتا ہے اس لئے ہمارے ارباب اختیار ، تمام سیاسی قیادت اور خصوصاً فیصلہ کرنے والی قوتوں پر لازم ہے کہ وہ ان حقا ئق کی روشنی میں بھارت سے تعلقات بڑھانے اور امن کی آشا کی پینگیں بڑھانے والوں کو روکنے کے اقدامات کریں۔