پاکستانی اور بھارتی پنجاب زمینی راستے سے تجارت کو فروغ دینے کے خواہش مند

25 ستمبر 2012
پاکستانی اور بھارتی پنجاب زمینی راستے سے تجارت کو فروغ دینے کے خواہش مند

 نئی دہلی (آن لائن )2007سے پاک بھارت تعلقات بتدریج معمول کی طرف آرہے ہیں اسی کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بھی اضافہ ہورہا ہے، دونوں ا طراف سے اشیائ سے بھرے ٹرکو ں کے داخلے میں درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جا رہا ہے ،ایسے میں بھارتی پنجاب بھی وسیع پیمانے پر پاکستان سے تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستانی پنجاب اور بھارتی پنجاب زمینی راستے سے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ ایک بھارتی اخبار نے پاک بھارت کے تجارتی تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل اٹاری واہگہ بارڈر کے زمینی راستے سے تجارت کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے خواہش مند ہیں،اس کے ساتھ وہ حسین والا اور فضیکا کے تجارتی راستے بھی کھولنا چاہتے ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ زمینی راستوں سے تجارتی وسعت خطے میں معاشی ترقی کے نئے دور میں اہم سنگ میل ہوگی۔اخبار لکھتا ہے کہ تجارتی راستوں کو کھولنا موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاک بھارت553کلومیٹر طویل سرحد کو دہشت گردی اور اسمگلنگ کے خطرے کے پیش نظر خار داڑ اوربجلی کی تاروں سے بند کیا گیا ہے۔اٹاری واہگہ صرف پنجاب میں وہ واحد پوائنٹ ہے جہاں لوگوں اور اشیائ کے آنے جانے پر محدود اجازت دی گئی ہے۔بھارت کی سے اپریل میں اٹاری کے مقام پر انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ( آئی سی پی) کھلنے کے بعد دونوں طرف کی بزنس برادری میں تعلقات کے فروغ میں کافی توقعات پیدا ہوئیں ہیں۔