اسلام آباد کو ”شہر علم“ بنانے کی ”خواہش“

25 اکتوبر 2013

گریڈ 22 کی ایک اعلیٰ خاتون افسر نے اپنے گھر کام کرنے والی اَن پڑھ ”مائی“ سے دریافت کیا کہ ”بی بی تمہاری کیا خواہش ہے تو اس نے برجستہ جواب دیا: ”باجی میری تو بس ایک ہی خواہش ہے کاش میری بیٹی بھی اس سکول میں تعلیم حاصل کرے جہاں آپ کی بچی پڑھ رہی ہے یہ سن کر وہ خاتون افسر نے ماسی کو تسلی دینے کی کوشش کی ”انشاءاللہ وہ وقت جلد آئے گا جب غریب اور امیر کے بچے ایک ہی سکول میں ایک ساتھ بیٹھ کر تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ جھوٹی تسلی دے کر وہ خاتون اعلیٰ افسر ”ماسی“ کی حسرت بھری نگاہوں کا سامنا تو نہ کر سکی لیکن وہ اپنے اندر ہی اندر اس آگ میں جلنے لگی جو اس ماسی نے اس کے دل میں لگائی تھی اس کا خیال تھا کہ ماسی دولت اور بنگلے کی خواہش کا اظہار کرے گی لیکن اس نے تو اپنی بچی کے لئے اس تعلیم کا مطالبہ کر دیا جو اس کا بنیادی حق ہے وہ کچھ کام کرنے کا عزم رکھنے والی خاتون ہے۔ پچھلی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہی اگر یہ کہا جائے کہ وہ پچھلی حکومت کو چلاتی رہی تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گا وہ جس حکومت کے اہم عہدوں پر فائز رہی دراصل وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی میرٹ نام کی کسی چیز سے آشنا ہی نہیں تھی لہٰذا اس دور میں وہ ”تعلیم سب کے لئے یکساں کی خواہش“ پوری نہ کر سکی یہ خواہش اس اعلیٰ خاتون افسر کی ہے جس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے سابق حکومت کو اس غلط کاریوں کے سنگین نتائج سے آگاہ کرنے کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ یہ خاتون اعلیٰ افسر وفاقی وزارت اقتصادی امور کی سیکرٹری نرگس سیٹھی ہیں جو پچھلی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود اس کے غلط فیصلوں کا حصہ نہیں بنیں قانون اور ضوابط کے اندر رہتے ہوئے فیصلے کئے یہی وجہ ہے وہ بیورو کریسی میں سخت گیر، دیانت دار اور doerافسر کے طور پر شہرت رکھتی ہیں۔ کرپٹ افسروں سے ہمیشہ ان کی لڑائی رہتی ہے جو بھی محکمہ ان کے سپرد کیا گیا انہوں نے اوپر سے نیچے تک سب کی طنابیں کھینچ لیں سابق حکومت نے انہیں کچھ دنوں کے لئے وزارت پانی و بجلی کا چارج دیا تو دنوں میں بجلی کی ترسیل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو ختم کر دیا وہ جس محکمہ میں جاتی ہیں وہاں سے ”کام چور اور کرپٹ افسر“ بھاگنا شروع ہو جاتے ہیں گزشتہ ہفتے اس پر عزم خاتون اعلی افسر سے اس کے دفتر میں ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ”موجودہ حکومت کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتی ہے“۔ میں نے ان سے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں کے بارے میں ان کا تاثر معلوم کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا میاں نواز شریف تو بالکل مختلف انسان ہیں۔ وہ اہم قومی ایشوز پر ہونے والی میٹنگز میں دوسروں کا نکتہ نظر بڑے تحمل سے سنتے ہیں مجھے ان کی زیر صدارت ہونے والے کچھ اجلاسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ نرگس سیٹھی کا کہنا ہے ”وزیر اعظم محمد نواز شریف کی اقتصادی امور کے بارے میں معلومات حیران کن ہیں شاید بہت سے experts کو ”اکنامک کا ریڈورز“ کا اتنا علم نہیں تھا جتنا میاں نواز شریف کو ان کے بارے میں آگاہی حاصل تھی۔
اب تک ان سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد ان کا تاثر یہ ہے کہ ”وزیراعظم محمد نواز شریف ملک کو درپیش مسائل حل کرنے میں انتہائی سنجیدہ ہیں اور وہ کم سے کم وقت ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں“۔ جب میں نے ان سے پنجاب میں گورنس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ”پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور وہ نتیجہ پر مبنی (result oreinted) کام دیکھنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ آج اچھے منتظم کی شہرت رکھتے ہیں“ اگرچہ نرگس سیٹھی کے پاس وزارت اقتصادی امور کا اہم قلمدان ہے لیکن میں نے ان کی گفتگو سے اندازہ لگایا کہ وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو یکساں نظام تعلیم کا شہر بنانا چاہتی ہیں وہ اسلام آباد کے تمام سکولوں کو ماڈل سکول کا درجہ دے کر اس قابل بنانا چاہتی ہیں جہاں امیر و غریب سب کے بچے تعلیم حاصل کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں اس مقصد کیلئے حکومت سے مزید فنڈز کا بھی تقاضا نہیں کررہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ فنڈز سے اسلام آباد کو تعلیم کے میدان میں ماڈل سٹی بنا سکتی ہیں۔ میں نے ان کو بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان بھی اسلام آباد کو امن و امان کے حوالے سے ایک ماڈل سٹی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے کئی اقدامات بھی کئے ہیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کو ”محفوظ شہر“ بنانے کیلئے نئی سکیورٹی پالیسی نافذ کی ہے اگرچہ سی ڈی اے قواعد و ضوابط کے تحت وزیراعظم کے پاس ہے لیکن عملاً سی ڈی اے کے معاملات چودھری نثار علی خان ہی دیکھ رہے ہیں۔ وہ اسلام آباد کو ماڈل سٹی بنانے کیلئے اچھی ٹیم کی تلاش میں ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسلام آباد کا بیشتر حصہ دیہی آبادی پر مشتمل ہے جہاں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ دیہی علاقے میں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسلام آباد میں اعلیٰ معیاری تعلیم کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے غریب آدمی کا بچہ اعلیٰ معیاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کی خواہش تو کرسکتا ہے لیکن ان کی بھاری فیس ادا نہ کرنے کے باعث داخلہ حاصل نہیں کرسکتا۔ چودھری نثار علی خان نے وفاقی وزارت داخلہ کا قلمدان چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔ وہ خطہ¿ پوٹھوہار کا سپوت ہونے کے ناطے اسلام آباد کو ماڈل سٹی بنانے کا عزم رکھتے ہیں اس کار خیر میں ایک پر عزم خاتون افسر کا تعاون بھی شامل ہو جائے تو یقیناً وہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی حکومت اپنا ”ہنی مون پیریڈ“ گزار چکی ہے۔ اب عوام حکومت سے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ فی الحال حکومت عوام کو بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے ان کو ووٹ دینے کی ”سزا“ دے رہی ہے۔ اسے اسلام آباد جہاں وفاق کی حکمرانی ہے کہ مثالی شہر بنانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسلام آباد کو تعلیم کے میدان میں ایسا شہر بنانا چاہئے جہاں ”ماسی“ بھی اپنی بچی کو تعلیم کی خواہش پوری کرسکے یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب چودھری نثار علی خان اور نرگس سیٹھی جیسی پر عزم شخصیت مل کر اسلام آباد کو ”شہر علم“ بنائیں۔