حضرت علامہ پیر ابوالفیض محمد عبدالکریم محدث ابدالویؒ

25 اکتوبر 2013
حضرت علامہ پیر ابوالفیض محمد عبدالکریم محدث ابدالویؒ

سید علی معظم رضوی
حضرت علامہ ابو الفیض عبدالکریم ابدالوی یکم جنوری 1930ء سرگودھا کے گاو¿ں ابدال میں باعث تکریم متوسط زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی حضرت میاں حافظ محمد سراج الدین نے آپ کا نام محمد عبدالکریم رکھا۔ آپ کی رکنیت ابوالفیض جبکہ درجہ ولایت قطب عالم ہے ۔ آپ محدث ابدالوی کے لقب سے بھی معروف ہیں آپ بچپن ہی سے نہایت سنجیدہ، باوقار اور خاموش طبع تھے۔ حضرت عبدالکریم ابدالوی نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ والدہ ماجدہ سے قرآن پاک، اپنے چچا زاد بھائی حضرت میاں سیف الدین سالمی نقشبندی سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی جو اپنے وقت کے عالم اور بے مثل شیخ الحدیث تھے۔ آپ درس نظامی کی تکمیل کے بعد اپنے شیخ کامل غازی اسلام حضرت پیر محمد شاہ بھیروی کے دراقدس پر حاضر ہوئے ۔ جنہوں نے دورہ حدیث کی تکمیل کیلئے لائل پور (فیصل آباد) میں ہندوستان کے ایک بڑے محدث عالم دین کی خدمت میں روانہ ہونے کی ہدایت کی ۔ محدث اعظم پاکستان ابوالفضل مولانا علامہ سردار احمد چشتی قادری کی محبت و شفقت کے سایہ میںآپ نے دورہ حدیث مکمل کیا اور روحانیت کی تمام تر منازل طے کیں جبکہ 1954ءمیں خانقاہ ڈوگراں سے اپنے دیگر رفقاءسمیت حضرت محدث اعظم پاکستان کی خدمت میں حاضر ہوکر علاقہ کی صورت حال بیان کرتے ہوئے ہدایت طلب کی ۔محدث اعظم پاکستان کی نگاہ انتخاب محدث ابدالوی پر پڑی اور انہوں نے یہ دعا دے بھیجا کہ وہاں ثابت قدمی اور پرخلوص تبلیغ کے نتیجہ میں جامع مسجد نہ صرف مقامی باسیوں کے لئے ہدایت کا ذریہ بن گئی بلکہ ملک بھر میں اس کی شہرت دوام پا گئی پھر 1958ءمیں حضرت ابدالوی نے وہاں دارالعلوم چشتیہ رضویہ کی بنیاد رکھی پھر اس عظیم درس گاہ سے اسلام کی خدمت کے انوار ایسے پھوٹے کہ دنیا آج بھی اس دور کو یاد کرتی ہے۔ جب قبلہ حضرت ابدالوی وعظ فرماتے یا خطبہ جمع ارشاد کرتے تو راہ چلتے لوگ بھی رک کر آپ کے ارشادات سنتے ۔ آپ نے صرف تبلیغ و وعظ ہی نہیں بلکہ تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری کیا۔ آپ کی یادگار تصانیف میں ”عصمت ابی البشر‘ التوحید، دینی تعلیم کیوں ضروری ہے، تنویر القبور، فیض مرشد، پیغام رجب، احکام قربانی، تذکار شہدائ، اللہ اور رسول کے سنہری اصول، حزب مجاہد، ہم عید میلادالنبی کیسے منائیں، سود، مسئلہ علم غیب اور فتاویٰ کریمیہ شامل ہیں۔ بالخصوص آپ کی تصنیف ”ضرب مجاہد“ آفاقی شہرت کی حامل ثابت ہوئی جس میں آپ نے حضرت شاہ احمد رضا بریلوی پر دیگر مسالک کے مولویوں کی طرف سے کئے گئے اعتراضات کے جوابات رقم فرمائے گئے تھے۔ تحریک نفاذ مصطفیٰ کے دوران حضرت عبدالکریم ابدالوی کا مسکن ملک بھر کے مرکزی قیادت کا مرکز رہا۔آپ تحریک ختم نبوت میں پیش پیش رہے جس کی پاداش میں آپ کو تین ماہ شیخوپورہ جیل میں قیدوبند کی صعوبتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما حضرت مولانا شاہ احمد نورانی اور مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی سمیت دیگر جید علمائے دین و اکابرین جب بھی لاہور یا شیخوپورہ آتے تو حضرت محدث ابدالوی سے نشست رکھتے۔ آپ کی سماجی خدمات کا سلسلہ بھی خاصا طویل ہے آپ کی زیر نگرانی المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی، ٹیوشن سنٹرز، فری ڈسپنسری، ابو الفیض تعلیمی سنٹر، ابوالفیض قرآن اکیڈمی، غوث الاعظم تعلیمی سنٹر، امام الاعظم ابوحنیفہ تعلیمی سنٹر اور ابوالفیض فاو¿نڈیشن سمیت سماجی خدمت کے دیگر ادارے پروان چڑھے جبکہ مستحقین کی در پردہ مالی اعانت اور غریب گھرانوں کی بچیوں کی شادیوں کے سلسلہ میں بھی پیش پیش رہے۔ آپ کے 6 صاحبزادگان ہیں سب سے بڑے صاحبزادے علامہ محمد نور المصطفیٰ رضوی چشتی ہیں جو مرکزی جامع مسجد کھجور والی شاہ کوٹ (ضلع ننکانہ صاحب) کے خطیب اعظم ہیں۔ آپ کے فرزندان تبیغ دین ، تحفظ ختم نبوت، تحریک نفاذ نظام مصطفیٰ سمیت دیگر دینی تحریکوں میں اپنا کلیدی کردار ادا کر کے خود کو حضرت محدث ابدالوی کا حقیقی جانشین ہونا ثابت کر چکے ہیں ۔حضرت قبلہ ابوالفیض محمد عبدالکریم ابدالوی نے 31 اکتوبر 2013ءکو رحلت فرمائی آپ کا مزار پرانوار دارالعلوم چشتیہ خانقاہ ڈوگراں شریف میں مرجع خلائق ہے۔ آپ کے مریدین کی کثیر تعداد علمائے دین اور حفاظ قرآن پر مشتمل ہے جو حضرت محدث ابدالوی کے مختلف مقامات پر قائم کردہ 45 سے زائد دینی مدارس کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔
فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،