شاہ نعمت اللہ ولی کے حالات زندگی اور پشین گوئیاں

25 اکتوبر 2013

تحقیق: شفیق الرسول
انتخاب: محمد شبیر راجہ میرپوری
شاہ نعمت اللہ ولی کے تفصیلی حالات زندگی ایران اور افغانستان ی قدیم لائبریریوں میں موجود ہیں۔ آپ کا پورا اسم گرامی سید نورالدین نعمت اللہ ہے۔ آپ پانچویں امام سیدنا حضرت باقر اور اس واسطے سے حضرت علی مرتضیٰ ابن ابی طالبؓ کی اولاد ہیں۔ آپ کرمان (ایران) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دیوان میں مطبوعہ شدہ آپ کی تاریخ پیدائش بتاریخ چہاردہم ربیع الاول 731ہجری (14.3.731ہجری دوشنبہ) درج ہے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی اور حصول علم کے لئے عراق تشریف لے گئے۔ وہیں آپ کا بچپن اور جوانی گزری۔ چوبیس سال کی عمر میں آپ مکہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے مشہور صوفی بزرگ شیخ عبداللہ ایفائی کے ہاتھ پر روحانی بیعت کی اور سات برس تک وہیں ان کی خدمت میں قیام کیا۔ مکہ شریف سے آپ واپس عراق تشریف لائے تو یہ امیر تیمور کا زمانہ تھا۔ آپ امیر تیمور کی حکومت کو برملا ظالمانہ کہتے تھے۔ اس لئے امیر تیمور کو ملنے سے منع کر دیا۔ اس وجہ سے امیر تیمور آپ کو پسند نہ کرتا تھا لیکن آپ کے روحانی مرتبہ کی وجہ سے آپ کو ایذا دینے سے بھی گریزاں تھا۔ اس دوران آپ نقل مکانی کر کے سمرقند، ہرات اور یزد میں بھی سکونت پذیر رہے۔ امیر تیمور کو اپنے پوتے شاہ رخ مرزا سے بے پناہ محبت تھی۔ امیر تیمور نے نوجوانی میں ہی شاہ رخ مرزا کو ہرات اور غزنی کا حاکم مقرر کر دیا۔ یہاں شاہ رخ مرزا نے اسلامی اور مذہبی تعلیم کے لئے آپ کی شاگردی اختیار کی اور بعد ازاں آپ کے ہاتھ پر بیعت ہو گیا۔ شاہ رخ مرزا آپ کا انتہائی سعادت مند اور تابعدار مرید تھا۔ اس لئے آپ کو شاہ رخ مرزا سے بے حد لگاﺅ تھا۔ شاہ نعمت اللہ ولی نے اپنے علم کشف سے فارسی شعروں پر مشتمل شاہ رخ مرزا کی اولاد اور مغلیہ خاندان کے آنے والے دور اور حکمرانوں کے بارے میں اپنے مخصوص اسلوب میں پیش گوئیاں کیں اور تحفتاً شاہ رخ مرزا کو عطا کیں جو کہ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بالکل صحیح ثابت ہوئیں۔ ان مشہور قصیدہ ہا کا ہر شعر ”پیدا شود“ اور ”می بینم“ کے ردیف پر ختم ہوتا ہے۔
”می بینم“ کے ردیف میں کہے ہوئے 56اشعار آپؒ کے موجودہ دیوان صفحہ 527تا 529پر قصیدہ ہا بعنوان ”قصہ ای بس غریب“ کے اندر موجود ہیں۔ ان اشعار میں حضرت مہدیؑ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور تک کے حالات بیان کئے ہیں۔ آپ کا دیوان 850صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔
حیدر آباد دکن میں احمد شاہ بہمنی اور اس کا خاندان آپ کا انتہائی معتقد تھا۔ خاص طور پر احمد شاہ بہمنی اپنے تخت شاہی کو آپ کی دعاﺅں کا ثمر تصور کرتا تھا۔ چنانچہ اس کے بے حد اصرار پر نعمت اللہ ولی اپنے خاندان اولاد اور مریدین کے ہمراہ ہندوستان تشریف لے گئے جہاں احمد شاہ بہمنی نے آپ کو اور آپ کی اولاد کو انعامات اور جاگیریں عطا کیں۔
ہندوستان میں چند سال قیام کے بعد آپ ایک روحانی حکم کے تحت اپنے خاندان کے کچھ افراد کو ہندوستان میں چھوڑ کر کرمان تشریف لے گئے۔ واپسی سے پہلے آپ نے شاہ رخ مرزا کو عطا کی ہوئی پیش گوئیوں کی طرز پر احمد شاہ بہمنی کو بھی ایک نئی ردیف میں غزل ہا ہند گویم کے اشعار عطا کئے جن میں آنے والے قرن کے دوران ہندوستان میں پیش آنے والے واقعات کی پیش گوئیاں کی گئی تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ پیش گوئیاں 790ہجری کی دہائی میں کہی گئی تھیں۔ بعد ازاں یہ اشعار ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ آج بھی اولیائے کرام کے درباروں اور دین اسلام کے متوالوں کے پاس یہ اشعار صدیوں سے محفوظ چلے آ رہے ہیں۔ اس مسودہ میں مندرج اشعار دری فارسی زبان میں سینکڑوں سالوں سے اپنے اصلی الفاظ میں نقل کئے جاتے رہے ہیں۔ جبکہ مترجم وقت کے ساتھ اپنی سمجھ کے مطابق اس کا ترجمہ عوام الناس تک پہنچاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اصحاب ان شعروں کو اپنی سمجھ کے مطابق آگے پیچھے بھی کرتے رہے ہیں۔ آپ عالی مرتبت درویش مستجاب الدعوات ولی اللہ اور بلند پایہ پایہ شاعر تھے۔ آپ نے کئی کتابیں فارسی زبان میں لکھیں جن میں فتنہ¿ آخرالزمان ظہور امام مہدیؑ اور مختلف پیش گوئیاں شامل ہیں۔ آپ شاہ ولایت تھے۔ اس لئے آپ کے نام کے ساتھ ”شاہ“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ بادشاہان وقت آپ کے دروازے پر دعا و وجدان حاصل کرنے کے لئے بیٹھے رہتے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں دکنی خاندان بہمنی سلاطین نے ان کے سلسلہ کے متعدد اولیاءاور درویشوں کو اپنے دربار میں جگہ دی۔ ان کی اولاد کو ایران کے صفوی بادشاہوں نے رشتہ ازواج میں منسلک کیا۔
آپ نے کرمان قریب ایک پرفضا مقام ماہان میں اپنا مدرسہ قائم کیا اور اپنی عمر کے آخری پچیس سال اس خوبصورت مقام پر گزارے۔ آپ کا آستانہ مبارک آپ کے مدرسہ کے قریب واقع ہے۔ یہیں آپ نے وصال فرمایا۔ آپ کے دیوان میں مطبوعہ آپ کی تاریخ وفات 23رجب 832ہجری موسم بہار ہے۔
حضرت شاہ نعمت اللہ ولی چودھویں صدی عیسوی میں گزرے ہیں۔ آپ ہندوستان کے طول و عرض میں دری فارسی زبان میں غزل کے پیرایہ میں اپنی کہی ہوئی پیش گوئیوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ آپ نے اپنے دیوان میں نظموں، غزلیاں اور رباعیات کے اشعار میں قافیہ اور ردیف کے آخری الفاظ کے لئے ایک منفرد انداز اختیار کیا۔ آپ ایک خاص اسلوب میں ہر شعر کے قافیہ اور ردیف میں ایک ہی طرح کے ہم وزن الفاظ استعمال کرتے تھے۔ اس مسودہ کے تمام اشعار میں زمانہ، ظالمانہ، غائبانہ، غالبانہ، صدعلانہ اور رستمانہ جیسے الفاظ کا انتہائی خوبصورت استعمال ہوا ہے۔ ان اشعار میں آپ نے ہندوستان میں اسلام کے دوسرے قرن کے دوران پیش آنے والے واقعات اور حضرت مہدی علیہ السلام کے دور (عہد مہدیانہ) تک آنے والے حالات کی پیش گوئیاں لکھی تھیں۔
اردو ترجمہ
1۔ ایک ڈرانے والا قہر وارد ہو گا اور مسلمانوں کو ان کے جرموں کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قاتلانہ حکم صادر ہو گا۔ (نائن الیون 11ستمبر 2001ئ)
2۔ اور جب اس قرن کا آخری دور آئے گا تو اس زمانہ میں شہباز جیسی عرش باری تعالیٰ تک دیکھنے والی تیز نگاہ کے حامل مسلمانوں کے ہاتھوں سے عروج ضائع ہو جائے گا۔
3۔ اس وقت تم دنیا پر غیر مسلموں کی حکمرانی دیکھو گے اور وہ مسلمانوں کو مکر و فریب سے ہر طرف سے گھیر لیں گے۔
4۔ مومنوں کا ایمان کمزور ہو جائے گا اور انصاف کا ساتھ دینے والے مسلمان جنگ میں تنہا ہوں گے۔ کافر انہیں کثرت سے ایسے فریب دیں گے جیسے کسی کو شکار سکھانے کے لئے دیا جاتا ہے۔
5۔ ہر جگہ مومنوں کو برائی پر اکسائیں گے اور حد سے گزر جائیں گے اور مختلف حیلوں بہانوں سے ان کے ملکوں پر قبضہ کر لیں گے۔ (جولائی 2010ئ)
 6۔ مسلمان ایک ہتھیار بند ہندوﺅں جیسی قوم کے ہاتھوں تہ تیغ ہوں گے اور گرتے پڑتے بدحواسی کی حالت میں مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (اگست 2010ئ)
7۔ دنیا کی نظروں میں حقیر ٹھکرائے ہوئے بنو سلیمان (یعنی قوم افغان) اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے باعزت قوموں کی طرح مقابلہ کریں گے اور بے پروا ہو کر سو گنا زیادہ بہادری سے لڑیں گے۔
8۔ مسلمانوں کی جائیداد اور جان کافروں کے نزدیک بالکل بے وقعت ہو جائیں گی۔ وہ بے دھڑک مسلمانوں کے خون کے دریا بے حد و حساب بہائیں گے۔
9۔ غم و اندوہ کے اس دور میں اللہ تعالیٰ اپنے ایک دوست کو طاقت عطا فرمائے گا۔ (یہ شخص صاحب قرآن اور خدا کی طرف سے مامور ہو گا) اور اللہ کی خاص مدد کے ساتھ جہاد کے لئے تلوار میان سے نکال لے گا۔
 10۔ اچانک مومنوں کے خلاف واضح جھوٹ پر مبنی شور (طعن و تشنیع) آشکارا ہو گا اور مسلمانوں ان کافروں کے خلاف (اعلان جہاد کر کے) دلیری اور شجاعت سے جنگ کریں گے۔
11۔ اس کے بعد ملک ہند (پاکستان و بھارت) میں ایک شورش پیدا ہو گی۔ اور غازیان اسلام اعلان جہاد کر کے اوالعزمی کے ساتھ برسرپیکار ہوں گے۔ (ستمبر 2011ئ)
12۔ دشمنوں کی جارحیت کی وجہ سے اس بے قراری اور بے چینی کے دور میں رحمت باری مومنوں کے حال پر رحم و کرم فرمائے گی۔ (اکتوبر 2011ئ)
13۔ اچانک حج کے موقع پر حضرت مہدیؑ کا ظہور ہو گا۔ ان کے ظہور کی خبر فوراً سارے جہاں میں بے پناہ شہرت حاصل کرے گی۔ (نومبر 2011ئ)
14۔ جب دنیا کے سامنے دھتکارے ہوئے لیکن (اللہ کی راہ) میں آگے بڑھ کر لڑنے والے مجاہدین یہ خوشخبری سنیں گے تو وہ فوراً باب قدرومنزلت (خانہ کعبہ) پر جمع ہو جائیں گے۔ (دسمبر 2011ئ)
15۔ دریائے ہلمند (قندھار) کے پہاڑوں اور بیابان جنگلوں کے دیہاتوں میں رہنے والے مجاہد طاقت پکڑ لیں گے اور اسلام کی حمایت اور مدد کے لئے مومنانہ شان سے جہاں میں پیش قدمی کریں گے۔ (دسمبر 2011ئ)
16۔ جب محرم کا مہینہ آئے گا تو مسلمان متحد ہو کر مقابلہ کے اسلحہ سے لیس ہو جائیں گے اور جہادی عزم سے لڑنے والے اپنی جان نیار کرنے کے لئے جارحانہ قدم اٹھائیں گے۔ (دسمبر 2011ئ)
17۔ دین سے محبت رکھنے والا ایک شخص کفار کے خلاف ہر طرح کے محاذ جنگ میں علم جہاد بلند کرے گا اور اس کے بے مثل ہتھیار سے کافر جہنم ایندھن بنیں گے۔
18۔ یہ غزوہ چھ سال تک انسانیت کے لئے بدقسمتی کی گہری تاریک غار کی طرح ہو جائے گی تو جان لے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی راہ میں بڑھ کر لڑنے والے ہر جگہ جام شہادت نوش کرنے کے لئے موقع تلاش کریں گے۔ (فروری مارچ 2012ئ)
19۔ سرحدی غازیوں (چودھویں صدی کی سلطنت عثمانیہ کی سرحدیں) کے جہادی دبدبہ سے زمین قبر کی طرح لرزے گی اور وہ بے مقصد جہاد کے حصول کے لئے دیوانہ وار پیش قدمی کریں گے۔
20۔ شہادت کا قصد کر لیا تو وہ چیونٹیوں اور ٹڈی دل کی طرح حملہ آور ہو کر غلبہ پائیں گے۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ افغان قوم عزت کے ساتھ فتح یاب ہو گی۔ (مئی 2012ئ)
21۔ ایک مرتبہ خون بہنا شروع ہو گیا تو اتنی شدت سے خون خرابہ ہو گا کہ دریائے اٹک تین مرتبہ کافروں کے خون سے (سرخ) لبریز ہو جائے گا۔ (جون 2012ئ)
22۔ یہ جہاں چترال ہمالیہ کے پہاڑوں اور دریائے سندھ کی گزرگاہوں کے راستے پورے ملک گلگت (قدیم زمانہ میں پورا کشمیر اس ملک میں شامل تھا) میں ہر طرف پھیل جائے گا۔ اے مخاطب تو جان لے کہ ملک تبت (موجودہ شمال مغربی چین) پر بھی مسلمان غالب ہو کر قبضہ کر لیں گے۔ (جون 2012ئ)
23۔ جب شہر لاہور (پورے) پنجاب کا دارالخلافہ ہو جائے گا تو یہ مسلمانوں کے لئے کشمیر کی فتح میں مددگار ثابت ہو گا اور مومن دوابہ (گنگا اور جمنا) اور شہر بجنور تک غالب آ جائیں گے۔ (جولائی 2012ئ)
24۔ افغانستان پاکستان اور ایران کے مجاہدین یک جان ہو جائیں گے اور ان ملکوں کے مجاہد تمام ہندوستان کا غازیانہ انداز میں فتح کر لیں گے۔ (جولائی 2012ئ)
25۔ ایک کینہ پرور بنیا جس کا چھ حرفی نام گ سے شروع ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے لطف و جرم سے مسلمان ہو جائے گا۔ (اگست 2012ئ)
26۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے خوش ہو جائیں گے اور تمام ہندوستان ہندوانہ رسوم سے پاک ہو جائے گا۔
27۔ جس طرح ہندوستان بدقسمتی کا شکار ہوا۔ اسی طرح مغرب کی بدقسمتی کا آغاز ہو گا۔ پچھلی عظیم جنگوں کی طرح انہیں بدقسمتی اس طرح گھیر لے گی کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود اس جنگ کا نقارہ بن کر رہے گا۔ (ستمبر 2012ئ)
28۔ اس جنگ کی ابتدا فرانسیسی قوم کی شدید ناراضگی سے ہو گی اور وہ انگلستان اور اٹلی کو باہمی جنگی معاہدوں میں گھیر لیں گے۔ (ستبمر 2012ئ)
29۔ ج (جرمنی) جو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا شکست خوردہ ہے را (روس) کے ساتھ اتحاد کر کے شریک جنگ ہو گا۔ وہ جہنمی آگ اگلنے والے ہتھیار تیار کر کے میدان جنگ میں آئے گا۔
30۔ ایک جیسی خصلت والے دو الف والے میں سے ایک الف دو ٹانگوں پر کھڑے سیخ پا گھوڑے کی طرح جنگ شروع کرے گا جبکہ (روس) مغربی الف (امریکہ) پر حملہ آور ہو گا (600سال قبل یہ دونوں ملک نقشہ دنیا میں موجود نہ تھے) (اکتوبر 2012ئ)
31۔ اس الف کی حیثیت و طاقت اس کوچہ دنی امیں ایک نقطہ کی طرح کمتر اور حقیر ہو جائے گا۔ یہاںتک اس کا نام اور تذکرہ ہی تاریخ لکھنے والے کی کتابوں میں رہ جائے گا۔
32۔ ان بے ایمان لوگوں نے (فساد برپا کر کے) دنیا میں اپنی قسمت خراب کر لی۔ آخر کار اپنی ہی لگائی ہوئی جہنمی آگ کی نذر ہو جائیں گے۔ (نومبر 2011ئ)
33۔ دین و ایمان کے سارے دشمن مار ڈالے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کے ساتھ مومنوں پر شان و شوکت اور نوازشوں کی بارش فرمائے گا۔ (دسمبر 2012ئ)
34۔ یہ سزا انہیں قدرت کی طرف سے آئے گی اور انہیں مجرم انسانیت کا خطاب ملے گا۔ اس کے بعد راہبانیت کا تمدن کبھی سر نہ اٹھا سکے گا۔ (دسمبر 2012ئ)
35۔ اس طرح کفر کے مٹ جانے کے بعد مسلمانوں کی بہتری (نشاة ثانیہ) کا دور آئے گا۔ حضرت مہدی علیہ السلام) کو عروج حاصل ہو گا اور وہ حقیقی اسلامی حکومت قائم کریں گے۔ (دسمبر 2012ئ)
36۔ اے مومن اگر تو ان کاموں کو جلد از جلد چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کا طلب گار رہے تو خدارا رب عظیم کے احکامات کی دل و جان سے پیروی کر۔ عین القین)
37۔ یہ جو راز میں نے بیان کئے ہیں اور نادر موتی جو میں ن پروئے ہیں یہ نصرت حق کے طلب گاروں کے لئے غیبی امداد کا کام دیں گے۔ (علم القین)
 38۔ اے نمت! خاموش رہ۔ اللہ کے پوشیدہ رازوں کو فاش نہ کر۔ جو باتیں میں نے بیان کی ہیں وہ سب سال کنت کنزآ (642+790) (1432ہجری) تک اسی طرح واقع ہو جائیں گی۔
انشااللہ 2013ءسے 2020ءتک مسلمانوں کی بہتری (نشاة ثانیہ) کا دور آئے گا۔
فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،