اوبامہ کے منہ میں بھارت کی زبان

25 اکتوبر 2013

نواز شریف کے سفر امریکہ کے محاسن کاتذکرہ تو ان کے دیہاڑی دارکالم نویس کریں گے۔ مجھے ان قصیدہ نویسوں سے ہمدردی ہے کہ ان پر سرکاری مناصب کی نوازشات نہیں ہوئیں لیکن پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ،یہ لوگ قلم گھسائی میں پورے انہماک سے مگن ہیں۔
میںنے اتنی بے چینی سے اخبارات کا کبھی انتظار نہیں کیا، اسی بے چینی میں رات کے دو بجے میری آنکھ کھل گئی۔ ٹی و ی آن کیا۔ اوبامہ اور شریف آمنے سامنے بیٹھے تھے، اوبامہ صاحب کے لب و لہجے میں بے اعتنائی تھی، ان کی باڈی لینگوئج بھی اس امر کی غمازی کر رہی تھی کہ وہ کسی ایسے سین میںپھنس گئے ہیں جس میںانہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ شریف صاحب کے ہاتھ میں ایک بے ڈھنگی سی نوٹ بک تھی جو عام طور پر ہمارے اخباری رپورٹروں یا دفتری ا سٹینو گرافروںکے استعمال میں رہتی ہے، ان کی نظریںاسی پر جمی رہیں اور وہ کسی کی آنکھ سے آنکھ ملائے بغیر بولنے کی کوشش کر رہے تھے۔
وزیر اعظم شریف نے امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کے دوران تو انگریزی میں گفتگو کی، اور یہ نوے منٹ پر محیط تھی، اپنے اپنے اسٹیمنا پر منحصر ہے۔بعد میں میڈیا کےساتھ اردو کااستعمال کیا۔امریکی میڈیا کو بتانے کے لئے ان کے پاس کچھ ہوتا تو وہ لازمی طور پر انگریزی کا سہارا لیتے، مگر اردو میڈیم اخبار نویسوں کو زیادہ سہارے کی ضرورت تھی۔
 صدر اوبامہ نے وزیر اعظم شریف سے سے کچھ وقت تو اپنی زبان میں بات چیت کی لیکن زیادہ تر وہ بھارتی زبان میں بولتے رہے۔کوئی پوچھے کہ اگر کشمیر کے مسئلے میں امریکہ یا کوئی تیسرا ملک مداخلت کرنے کا حق نہیں رکھتا تو ممبئی سانحے کی تحقیقات میں وہ ٹانگ کیسے اڑا سکتے ہیں۔
مگر اوبامہ صاحب نے مداخلت ضروری سمجھی، یہ پٹی انہیں بھارتی وزیر اعظم ان سے حالیہ ملاقات میں پڑھا آئے تھے۔ اوبامہ نے کٹھ پتلی کی طرح وہ سب کچھ اگل دیا۔اور وزیر اعظم شریف سے استفسار کیا کہ حافظ سعید اور ممبئی سانحے کے دیگر ملزموں کو کیفرکردار تک کیوںنہیں پہنچایا گیا۔
اوبامہ صاحب نے ایک سو اسی ڈگری پر ٹرن لیتے ہوئے مہمان سے یہ بھی سوال کیا کہ و ہ امریکہ کے خادم خاص ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کیفر کردار تک کیوں پہنچانا چاہتے ہیں اور اپنے نام کا لحاظ کرتے ہوئے انتہائی شرافت سے شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کیوںنہیں کر دیتے۔
اس ملاقات میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کا بھی ذکر ہوا، مگر کس پیرائے میں اور طے کیا ہوا، اس پر خاموشی طاری ہے۔وہ کب تک امریکی جیلوںمیں گلتی سڑتی رہے گی اور ڈاکٹر شکیل، ریمنڈ ڈیوس کی طرح کب اڑنچھو ہو جائیں گے، اس پر جو بھی فیصلہ ہوا،ا س کا ذکر دونوں ملاقاتیوںمیں سے کسی ایک نے بھی نہیں کیا۔مشترکہ اعلامیہ بھی اس پر خاموش ہے۔
جانے کو تو ملالہ بھی چلی گئی بلکہ لے جائی گئی، آپریشن تو پاکستان میں ہو گیا تھا اور کامیاب رہا تھا، اسکے پیچھے اس کا باپ بھی چلا گیا اور ساتھ زخمی ہونے والی کائنات بھی۔ پیچھے کون رہ گیا۔ وہ جنہوںنے ملالہ اور کائنات کو نشانہ بنایا۔ہم ان سے مذاکرات کریں گے اور ملالہ وزیر اعظم بننے کے لئے واپس آئے گی، پوری طرح تجربہ کار ہو کر۔
نواز شریف کے پاس ایک ہی ترپ کا پتہ تھا کہ صدر کلنٹن کے دستخطوں سے جاری ہونے والے اعلان واشنگٹن کی رو سے جناب اوبامہ سے اصرار کر کے کہتے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرانے کے لئے ذاتی طور پر مداخلت کریں۔ میں نے مشترکہ اعلامیہ کو محدب عدسے کے ذریعے کھنگال مارا ہے، مجھے اس میں کشمیر کا لفظ تک نہیںملا۔البتہ اس میںانڈیا کا لفظ تین بار استعمال ہوا ہے۔پہلے تو اس گیس پائپ لائن کا ذکر ہے جو ترکمانستان، افغانستان، پاکستان سے ہوتی ہوئی بھارت پہنچے گی، ساتھ ہی اسی نوع کے ایک بجلی کے ترسیلی نظام کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔اعلامیہ کے اختتامی پیرا گراف میںپاک انڈیا دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے پر زور دیا گیا ہے اوراعلامیہ کی آخری سطر میں ایک بار پھر پاک بھارت معاشی تعلقات کے فروغ، بھارت سے پاکستان کو بجلی اور گیس کی فراہمی،ویزہ کے اجرا میںنرمی،تجارت کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، اس پر اعلامیہ ختم ہو جاتا ہے۔ کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ اعلامیہ پاکستان اور امریکہ کی قیادت کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہوا ہے یا پاکستان اور بھارت کی قیادت کی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے، یہی باتیں کہنی تھیں تو ان کے لئے نواز شریف کو دوبارہ عازم امریکہ ہونے کی کیا ضرورت تھی، یہ سب کچھ تو شریف ،من موہن ملاقات کے بعد اعلامیہ میں سمویا جا سکتا تھا ،مگر اس وقت کوئی اعلامیہ جاری ہی نہ ہو ا، دونوں ملکوںنے بہتر سمجھاکہ یہ باتیں اصل آقا یعنی امریکہ کے منہ سے کہلوائی جائیں۔
تو بھارت کی وہ ضد کہاں گئی کہ پاک بھارت معاملات میں کسی تیسرے فریق کو مداخلت کا حق نہیں۔
اور امریکہ کاوہ موقف کہاں گیا کہ پاکستان اور بھارت تمام معاملات باہم مل بیٹھ کر طے کریں ۔اگر یہ اصول بائبل کی طرح مقدس تھا تو پاکستان سے کیوں پوچھا جا رہا ہے کہ ممبئی سانحے کے ملزموں پر مقدمہ کیوںنہیں چلایا جاتا۔ کون کہتا ہے یہ مقدمہ نہیں چلا۔پاکستان کی عدالتوں میں چلا اور حافظ سعید کو اس میں بری کیا گیا۔ پاکستانی عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کیوںنہیں کیا جاتا، نہ بھارت کی طرف سے، نہ امریکہ کی طرف سے۔بھارتی عدالت اجمل قصاب اور افضل گورو کو پھانسی کی سزا سنائے تو برحق اور پاکستانی عدالت کوئی فیصلہ دے تو اسے جوتی کی نوک پر رکھا جاتا ہے۔واہ رے امریکہ بہادر! اپنا مرتبہ دیکھ اور بھارت کا جثہ دیکھ۔ اس کے رعب میں کیوں آ گئے ہو۔اس بھارت کو تو روس نے بھی گھاس نہیں ڈالی اور من موہن کو چند روز قبل ماسکو کے دورے میں انرجی ٹیکنالوجی پر ٹھینگا دکھا دیا، چین نے بھی بھارت کو پرکا ہ کے برابر اہمیت نہیں دی اور اپنی مرضی کے معاہدوں پر من موہن سنگھ سے انگوٹھے لگو الئے۔پتہ نہیں ، امریکہ کو بھارت سے کیا عشق ہے، شاید اسرائیل کی وجہ سے جو بھارت کے ساتھ مل کر ایشیا اور مڈل ایسٹ پر تھانیداری جمانا چاہتے ہیں۔
 امریکی دورے نے نواز شریف کے بھارت کے ساتھ عشق کی وجوہات بھی صیغہ راز میں نہیں رہنے دیں، ہماری خام خیالی تھی کہ نواز شریف اپنے مفادات کے تحت بھارت کے عشق میں مبتلا ہیں، اب پتہ چلا ہے کہ وہ وہی کچھ چاہتے ہیں جو پیا چاہتا ہے۔ اورپرد ے کے پیچھے امریکہ تاریں ہلا رہا ہے اور ہمارے وزیر اعظم کٹھ پتلی بنے نظر آتے ہیں۔پاکستان کا مفاد ایران سے گیس پائپ لائن میں ہے،اس کا ذکر وزیر اعظم شریف نے نہیں کیا۔
اگر وائٹ ہاﺅس سے جاری ہونےوالے مشترکہ اعلامیے کے ساتھ ہی ایک حقائق نامے کو دیکھا جائے تو ا س میں امریکہ نے پاکستان پر اس قدر احسانات گنوائے ہیں کہ ہمیں اس تنقید پر شرم محسوس ہوتی ہے جو ہم ا مریکہ پر کرتے رہتے ہیں، ظاہر ہے نواز شریف انہی احسانات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
 میںکسی کی مایوسی میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا مگر کیا کروں پورے مشترکہ اعلامیہ میں ڈرون کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں۔