میانمار: روہنگیا مسلمانوں کو زیادہ سکیورٹی ملنی چاہئے: آنگ سوچی

25 اکتوبر 2013

ینگون (این این آئی) میانمار میں حزب مخالف کی رہنما آننگ سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے نسلی فسادات کو نسل کشی قرار دینے کے امکان کو مسترد کردیا۔برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تشدد کے ان واقعات میں بودھوں کو بھی نشانہ بنایا گیا لیکن مسلمانوں کوزیادہ سکیورٹی ملنی چاہئے۔۔ انہوں نے کہا کہ فسادات کے بعد دونوں جانب خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ جب آنگ سان سوچی پر یہ بات تسلیم کرنے کیلئے دباو¿ ڈالا گیا کہ تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے تو انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ بہت سے بودھوں کو بھی ملک چھوڑنا پڑا ہے۔ آنگ سان سوچی نے کہا تھا کہ بودھ اکثریت کے ملک میانمار میں مسلمانوں کو زیادہ سکیورٹی ملنی چاہئے۔ اس وقت سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسلمان روہنگیا آبادی اور بدھ مت کے پیرو کاروں کی آبادیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا عمل جاری ہے۔ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ نسلی فسادات کے خاتمے کا یہ طویل المدتی حل نہیں ہے۔