فرانس میں پرنٹ میڈیا

25 اکتوبر 2013

پاکستان اور افغانستان کے صحافیوں کو فرانس کے دو ممتاز اخباروں لافگارو Le Figaro اور لے مونڈ Le Monde کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ دونوں اخبارات فرانس کے ممتاز اخبارات ہیں لیکن دونوں میں سخت مقابلہ ہے۔ لے مونڈ کے ایڈیٹر سے ملاقات بڑی دلچسپ رہی۔ موصوف نے بتایا کہ ان کا اخبار صبح ساڑھے دس بجے شائع ہوتا ہے۔ عموماً دنیا بھر میں اخبارات رات کے آخری پہر میں شائع ہوتے ہیں‘ لیکن لے مونڈ ساڑھے دس بجے شائع ہوتا ہے۔ اخبار کے ایڈیٹر کے مطابق ہم خبروں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ بلکہ ہمارا اخبار سیاسی اور بین الاقوامی معاملات پر تجزیے دیتا ہے اور تہلکہ مچا دینے والی خبروں کے ذریعہ وہ قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ لے مونڈ کے ایڈیٹر کا کہنا تھا وہ ایک بڑا اخبار چلا رہے ہیں۔ انہوں نے فرانس کے موجودہ صدر ہولینڈ کی حمایت کی تھی۔
لیکن لے مونڈ کے ایڈیٹر کا کہنا تھا وہ کسی قوم یا لوگوں کے مذہبی جذبات اور عقائد کا احساس نہیں کرتے۔ وہ سب مذاہب کے خلاف اگر کوئی خبر ہو تو خبر شائع کرا دیتے ہیں۔ مثلاً جب راقم الحروف نے ان سے پوچھا کہ ان کے اخبار نے نبی کے بارے میں ڈنمارک میں شائع ہونے والے خاکے دوبارہ شائع کئے تو ایڈیٹر نے بتایا کہ ہم نے اخبار کے اندرونی صفحات پر یہ خاکے شائع کئے۔ ہمارے خیال میں یہ سٹوری یعنی خبر تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے خلاف بھی خبریں شائع کرتے ہیں۔ لے مونڈ کے ایڈیٹر نے اخبار کو درپیش چیلنجوں کا بھی کھل کر تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی اخبارات نے ان کی سرکولیشن کو متاثر کیا ہے۔ ان کی سرکولیشن کم ہوئی ہے لیکن نیٹ یا ویب پر ان کی سرکولیشن بڑھ رہی ہے۔ لے مونڈ کے ایڈیٹر نے کہا کہ وہ دفاعی معاملات کی رپورٹنگ بھی کھل کر کرتے ہیں اور وہ امریکی صحافت کی اس اصطلاع Embedaed Journalism کے خلاف ہیں۔ اگر کوئی امریکی کسی دوسری فوج کے کسی یونٹ کے ساتھ وابستہ ہو کر رپورٹنگ کرتا ہے تو قارئین کو کھل کر بتایا جائے کہ وہ کس کی اعانت یا مدد سے رپورٹنگ کر رہا ہے اور اس کے ذرائع کیا ہیں ؟
لے مونڈ اخبار کے مخالف اخبار لے فگارو کے ایڈیٹر ایلان بارلو نے بتایا کہ ان کا اخبار دائیں بازو کا اخبار ہے۔ فرانس کے حالیہ انتخابات میں انہوں نے سوشلسٹ صدر اور ان کی پارٹی کی مخالفت کی وہ سابق صدر سرکوزی کے حامی تھے لا فگارو کی سرکولیشن بھی پانچ لاکھ کے قریب ہے لیکن پاکستان اور افغانستان کے صحافیوں کو بتایا گیا جو ادارہ فرانس کا اتنا بڑا اخبار شائع کرتا ہے اس کمپنی کے کئی دوسرے مفادات ہیں مثال کے طور پر اخبار کی مالک کمپنی طیارہ سازی کی صنعت میں بھی ہے۔ لافگارو کی مالک کمپنی بھارت کو اربوں ڈالر کے عوض رافیل طیارے بھی فراہم کر رہی ہے۔ جب لافگارو کے ایڈیٹر سے پوچھا گیا کہ وہ اخبار کی آزادی کو کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں جبکہ ان کی کمپنی طیارہ سازی کی صنعت میں بھی مفادات کا تحفظ کر رہی ہے تو ایڈیٹر نے تسلیم کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ رافیل طیاروں کی سودا بازی کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہوئے محتاط رہتے ہیں۔ لیکن ان پر کوئی دبا¶ نہیں۔ جب ان سے استفسار کیا گیا کہ پاکستان کو آگسٹا آبدوزوں کے سکینڈل میں سابق صدر سرکوزی بھی مبینہ طور پر ملوث تھے تو کیا لافگارو نے ان کے بارے میں کوئی خبر بریک کی تو ایڈیٹر نے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے کوئی بڑی خبر بریک نہیں کی۔ ان کے اخبار کو پاکستان کو آبدوزوں کی فراہمی میں کمیشن کھائے جانے اور کراچی میں فرانسیسی شہریوں پر حملے کا پورا علم ہے لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی تحقیقی خبر نہیں دی۔
فرانس کے دو بڑے اخباروں کے مدیروں سے ملاقات کر کے فرانس میں پرنٹ میڈیا کی صورتحال کے بارے میں پاکستان اور افغانستان کے صحافیوں کو پرنٹ میڈیا کے بارے میں دلچسپ معلومات ہوئیں۔ دونوں بڑے اخباروں کی سرکولیشن کم ہو رہی ہے لیکن ان کی آن لائن سرکولیشن پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ دونوں اخبارات اپنی پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی ان اخبارات کو ضرور پڑھتے ہیں لافگارو اور لے مونڈ دونوں اخباروں کے مستقل قاری ہیں جو یہ اخبارات ہر صورت میں خریدتے ہیں۔

پرنٹ لائن

رمیزہ مجید نظامی ایڈیٹر‘ پرنٹر‘ پبلشر نے ندائے ملت پر یس سے چھپوا کر ...

پرنٹ لائن

رمیزہ مجید نظامی ایڈیٹر‘ پرنٹر‘ پبلشر نے ندائے ملت پر یس سے چھپوا کر ...