اپوزیشن لیڈر محمودالرشید کا تقرر آئینی ہے: ق لیگ، تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کا بھی اظہار اعتماد

25 اکتوبر 2013

لاہور (خصوصی رپورٹر + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) پنجاب اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ ریاض احمد اور سابق ڈپٹی اپوزیشن لیڈر شوکت بسرا نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ انہوں نے گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ راجہ ریاض کا اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید کی تبدیلی کا مطالبہ ان کی ذاتی رائے ہے اسے پارٹی موقف نہیں کہا جا سکتا جبکہ میاں محمودالرشید نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مجھے اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے مک مکاﺅ کی سیاست پیپلز پارٹی کا وطیرہ بن چکی ہے۔ پیپلز پارٹی والے خود فرینڈلی اپوزیشن کا اعتراف کر چکے ہیں اپنی سیاست چمکانے کیلئے میری تبدیلی کا غیرجمہوری اور غیر اخلاقی مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ ق لیگ کے جنرل سیکرٹری چودھری ظہیر الدین خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر محمودالرشید کا تقرر آئینی طریقہ کار اور پارلیمانی اقدار کے مطابق ہے جبکہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے بھی اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ سازشی عناصر کو کچھ نہیں ملے گا۔ راجہ ریاض نے پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے مطالبہ کیا کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تبدیل کریں۔ انہوں نے میاں محمود الرشید پر الزام عائد کیا کہ وہ عوامی ایشوز پر اپوزیشن کا گلا دبا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میاں محمودالرشید نے پنجاب حکومت سے اپنے چھوٹے بھائی کو ایل ڈی اے میں ملازمت دلوا دی ہے۔ میاں محمود الرشید نے پنجاب حکومت سے مک مکا کر لیا ہے۔ عمران خان پنجاب اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر کو تبدیل کریں۔ عمران خان نے پنجاب میں مک مکا کی سیاست شروع کر دی ہے۔ خیبر پی کے میں تو عمران خان عوام کا جنازہ نکال چکے ہیں۔ محمود الرشید مہنگائی اور دیگر مسائل پر اسمبلی میں بات کرنے کو تیار نہیں۔ آئی این پی کے مطابق سابق ڈپٹی اپوزیشن لیڈر شوکت بسرا نے کہا کہ اگر عمران خان نے میاں محمودالرشید کو برطرف نہ کیا تو ہم ان کو ہٹانے کیلئے پنجاب میں تحریک چلائینگے۔ علاوہ ازیں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ راجہ ریاض کا اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کی تبدیلی کا مطالبہ انکی ذاتی رائے ہے اسے پارٹی موقف نہیں کہا جا سکتا، راجہ ریاض اور پریس کانفرنس میں موجود دوسرے رہنماﺅں سے اس بارے وضاحت طلب کی جائیگی‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر تنویر اشرف کائرہ‘ منظور مانیکا‘ غلام محی الدین ‘ عمر شریف بخاری ‘ شکیل ملک سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ منظور وٹو نے کہا کہ راجہ ریاض نے کس حیثیت میں پنجاب کے اپوزیشن لیڈرکی تبدیلی کی بات ہے اس بارے مےں پوچھوں گا لیکن یہ ہرگز پیپلز پارٹی کا موقف نہیں۔ اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی یا انکے بھائی کی ایل ڈی اے میں تعیناتی تحریک انصاف کا معاملہ ہے اور وہ خود اس معاملے کو دیکھے۔ علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ ہم بھرپور اپوزیشن کر رہے ہیں اور مہنگائی‘ بے روزگاری اور حکومت پالیسوں کے خلاف یکم نومبر سے احتجاجی تحریک بھی شروع کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز اپوزیشن چیمبرز میں میڈیا سے گفتگو میں محمود الرشید نے کہا کہ وفاق میں فرینڈلی اور مک مکاﺅ کی سیاست کرنیوالی پیپلز پارٹی اب اپنی سیاست چمکانے کیلئے میری تبدیلی کا غیر جمہوری اور غیر اخلاقی مطالبہ کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے خود ہمیشہ ہر دور میں مک مکاﺅ کی سیاست کی ہے اور آج بھی وفاق میں فرینڈلی اپوزیشن کر رہی ہے۔ دریں اثنا ق لیگ کے رہنما چودھری ظہیر الدین خان نے کہا ہے کہ میاں محمودالرشید پر تنقید بلاجواز اور پنجاب میں بطور اپوزیشن لیڈر ان کی کارکردگی کومتاثر کرنے کی منفی کارروائی ہے۔ اس وقت عوام بے پناہ مسائل کا شکار ہیں اس وقت مضبوط اور موثر اپوزیشن کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں اپوزیشن کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش جمہوریت اور عوام کے حق میں بہتر نہیں ہو گی۔ پنجاب حکومت کے متنازعہ لوکل گورنمنٹ بل اور متنازعہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید نے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر پنجاب اسمبلی کے اندر اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔دریں اثنا تحر یک انصاف کے ارکان پنجاب اسمبلی نے میاں محمودالرشید کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سازشی عنا صرکو مایوسی کے سواکچھ نہیں ملے گا اور پنجاب میں تحر یک نہ صرف حقیقی اپوزیشن کرتی رہے گی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ناکامیوں ‘عوام دشمن پا لیسوں ‘کرپشن سمیت تمام کر توتوں کوعوام کے سامنے بے نقاب کیا جائیگا ‘پیپلزپارٹی کے بعض ناکام لوگوں کی اپوزیشن لیڈر پر تنقید سے خود پیپلزپارٹی نے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی سبطین خان‘ احمد خان‘آصف محمود‘ احمد علی خان دریشک، اعجاز خان‘ جاوید اختر‘ ملک تیمور سعید‘ میاں ممتاز احمد مہاوری‘ محمد عارف عباسی‘ محمد جہانزیب خان کچھی‘ محمد صد یق خان‘ مراد راس‘ نبیلہ حاکم علی‘ سعدیہ سہیل‘ راحیلہ انور‘ مسعود شفقت، جاوید اختر انصاری، حاجی وحید اصغر، عبدالمجید نیازی، راجہ راشد حفیظ‘ صلاح الدین خان‘ سردار علی رضا‘ سید اعجاز حسین شاہ بخاری‘ ظہیر الدین خان‘ شینلا روتھ اور دیگر کی طرف سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو میاں محمود الرشید کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں انکو مایوسی کے سواکچھ نہیں ملے گا۔