نواز شریف کا دورہ امریکہ ناکام رہا: اپوزیشن، عوامی ترجمانی کی: فضل الرحمن

25 اکتوبر 2013

لاہور + فیصل آباد + کراچی (خصوصی نامہ نگار + نمائندہ خصوصی + نیوز رپورٹر + ایجنسیاں) بی بی سی کے مطابق پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے یہ دورہ ایک ہائی پروفائل فوٹو سیشن کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا جس سے بظاہر پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا جس طرح وزیراعظم نواز شریف اپنے ساتھ مطالبات کی ایک بڑی لسٹ لے کر گئے تھے ان میں بظاہر کسی بھی مطالبے پر ان کو رعایت نہیں مل سکی۔ طالبان سے مذاکرات کے تناظر میں ڈرون حملوں پر امریکہ کی طرف سے عارضی ریلیف بھی مل جاتی یعنی کچھ وقت کے لئے حملے روک دئیے جاتے تو اس سے حکومت کے ہاتھ مضبوط ہوتے اور وہ طالبان سے باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے امریکہ اس خطے میں پائیدار امن نہیں چاہتا۔ نواز شریف نے اپنا مقدمہ ضرور پیش کیا لیکن اس کے بدلے میں انہیں وہاں سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ تحریک انصاف نے بھی وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کو ناکام قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور خیبر پی کے حکومت کے ترجمان شوکت علی یوسفزئی نے کہا وزیراعظم کا موجودہ دورہ امریکہ ملک کے سابق حکمرانوں کے دوروں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔ خصوصی نامہ نگار کے مطابق ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے اوباما نے نواز شریف سے ملاقات کے دوران اپنے مفادات سے زیادہ انڈیا کی خواہشات کو سامنے رکھا، جماعة الدعوة اور ممبئی حملہ کیس سے متعلق گفتگو کرکے بھارت کی وکالت کی گئی۔ منور حسن نے کہا نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں امریکہ نے اپنے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق بات کی۔ اوباما نے نواز شریف سے دہشت گردی پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا جماعة الدعوة فلاحی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے۔ اوباما بھارت کی ترجمانی کا حق ادا کرتے رہے۔ وزیراعظم کو سخت موقف اختیارکرتے ہوئے امریکہ سے اپنے مطالبات منوانے پر زور دینا چاہئے تھا۔ مولانا سمیع الحق نے کہا اوباما نے نواز شریف کے ساتھ حافظ محمد سعید کی بات بھارت کو خوش کرنے کیلئے کی۔ حکمرانوں کو چاہئے تھا وہ عافیہ صدیقی کی رہائی اور ریمنڈ ڈیوس کا مسئلہ بھی اٹھاتے۔ ڈرون حملے ہوتے رہیں گے۔ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا امریکہ نے ڈرون حملے بند کرنے کا پاکستانی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ جنرل (ر) حمیدگل نے کہا اوباما نے انڈیا کی وکالت کی۔ امریکہ نے انڈیا کے مطالبہ پر جماعة الدعوة پر بات کی۔ امریکی اپنے ایجنڈے کی تکمیل اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں ہو گا یہ ان کی بھول ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی ملاقات کا اوباما پر اثر ہے۔ تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر اعجاز چودھری نے کہا نواز شریف پوری قوم کا مینڈیٹ لیکر امریکہ گئے تھے لیکن اوباما سے ملاقات میں ڈرون حملے روکنے کی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ اعجاز الحق، حافظ عبدالغفار روپڑی و دیگر نے کہا بھارت سرکار کے کہنے پر امریکہ کی جانب سے جماعة الدعوة کو موضوع بحث بنایا جارہا ہے۔ کسی کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا نواز شریف اور اوباما ملاقات فوٹو سیشن کے سوا کچھ نہیں تھی۔ فرید احمد پراچہ نے کہا ملاقات کے نتائج کا تاحال انتظار ہے۔ محض نشستد، گفتند، برخاستند والی ملاقات ہوئی۔ اے پی اے کے مطابق تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے امریکی حکام کو ڈرون حملے روکنے کے حوالے سے واضح پیغام دینے میں ناکامی کو بڑی بدقسمتی قراردیا۔ کراچی سے نیوز رپورٹر کے مطابق حلقہ خواتین کے تحت منعقدہ تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے منور حسن نے کہا کہ مغربی تہذیب کا کھوکھلاپن اب کھل کر سامنے آ گیا ہے اس کے پاس کوئی پیغام نہیں اور جس کے پاس کوئی پیغام نہ ہو وہ ہتھیاروں ہی کا سہارا لیتا ہے۔ فیصل آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے وزیراعظم نواز شریف نے امریکی صدر اوباما سے ملاقات کے دوران پاکستان کے عوام کے موقف کو پیش کرکے عوام کی ترجمانی کی اور وہ میاں محمد نواز شریف کی طرف سے پیش کئے گئے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کشمیر کے مسئلے پر بھی امریکی صدر کی خاموشی پاکستان میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھی گئی۔ امریکہ کو چاہئے وہ پاکستان اور افغانستان میں اپنی مداخلت بند کر دے تاکہ افغانستان اور پاکستان میں حالات پرامن ہوجائیں۔ بلوچستان کے موجودہ حالات کے حل کے لئے آل پاکستان پارٹیز کانفرنس بلائی جائے۔