محرم میں ڈبل سواری پر پابندی، موبائل فون بند کرنے پر غور کر رہے ہیں: رانا ثنائ

25 اکتوبر 2013

لاہور (سٹاف رپورٹر + نامہ نگاران + نوائے وقت رپورٹ) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی اور موبائل فون سروس بند کرنے کے حوالے سے باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوںنے یہ بات کمشنر آفس ڈیرہ غازیخان میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے اور علما سے قابل عمل تجاویز طلب کرنے کیلئے صوبائی سطح پر کیبنٹ کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس نے ڈیرہ غازیخان ڈویژن سے دوروں کا آغا ز کر دیا ہے۔ اس موقع پر چےئرمےن کیبنٹ کمیٹی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں گے اور اس موقع پر پاک فوج اور رینجرز کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دسویں محرم کے جلوس مغرب کی اذان سے قبل چاردیواری کے اندر لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر صوبہ بھر میں عملدرآمد کرایا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ لا¶ڈ سپیکر ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا اور خلاف ورزی پر سامان ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وال چاکنگ کرنے والوں سے دہشت گردی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔ رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے تمام وسائل استعمال کئے جائیں گے۔ وہ سرکٹ ہاﺅس ملتان میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام سے محرم الحرام کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے ضمن میں انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم گیلانی نے اپنے بیٹے کے اغوا کاروں سے رابطے پر پنجاب حکومت کو آگاہ نہیں کیا۔ گیلانی کے مغوی بیٹے کے بدلے کسی دہشت گرد کو اڈیالہ جیل سے رہا کرنے کی تجویز زیر غور نہیں، دورہ امریکہ میں شکیل آفریدی سے متعلق نوازشریف نے وہ کچھ کہا جو امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام سے قبل طالبان سے مذاکرات پنجاب حکومت کے زیر غور نہیں، یہ وفاقی حکومت کا معاملہ ہے وہی اسے دیکھے گی۔ دریں اثناءپنجاب پولیس کی جانب سے محرم کے حوالے سے سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں، حساس قرار دئیے جانیوالے اضلاع میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی، امن و امان کے قیام کے لئے 9 اور 10 محرم کو حساس قرار دئیے جانیوالے اضلاع میں ڈبل سواری پر پابندی بھی زیر غور ہے جبکہ اس کے ساتھ جلوس کے راستوں میں جیمرز کے ذریعے موبائل سروس معطل کو معطل کیا جائے گا، امام بارگاہوں، مساجد کے باہر پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ جلوسوں کے راستے میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈیٹکٹر سے چیکنگ کے بعد جلوس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔