ناقص کارکردگی، محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

25 اکتوبر 2013

لاہور (میاں علی افضل سے) محکمہ اینٹی کرپشن میں کام نہ کرنیوالے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ناقص کارکردگی دینے والے ڈیپوٹیشن افسران کو واپس ان کے محکموں میں بھجوانے کےلئے فہرستوں کی تیاری شروع کر دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن عابد جاویدکوپنجاب کے 9ریجن اور ہیڈکوارٹر میں کرپشن کی شکایتوں پر ہونیوالی تحقیقات کی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں 5731 انکوائریاں التواءکا شکار ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس سے محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ تحقیقات کی سست روی کا فائدہ سرکاری محکموں میں کرپشن کرنیوالے اہلکاروں و افسران کو ہو رہا ہے۔ ان تحقیقات میں 2ہزار 5سو 98 انکوائریاں 3ماہ سے،1ہزار 2سو90 انکوائریاں 3ماہ سے زائد عرصہ سے، 1ہزار 99 انکوائریاں 6ماہ سے زائد عرصہ سے،6سو 84 انکوائریاں 1سال سے زائد عرصہ سے زیر التواءہیں جبکہ 60انکوائریوں کو 1سال زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہیں کیا جا سکا جس سے ہزاروں سائل کو شدید پریشانی کا سامنا ہے سب سے زیادہ زیر التواءانکوائریز گوجرانوالہ ریجن کی ہیں جن کی تعداد 1ہزار 2سو79ہے جبکہ لاہور ریجن کی زیر التواءانکوائریز کی تعداد 1ہزار 1سو73ہے اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر میں زیر التواءانکوائریز کی تعداد 39ہیں جبکہ روالپنڈی ریجن میں575 زیر التواءانکوائریز، فیصل آباد ریجن میں 325زیر التواءانکوائریز ہیں۔ ایک سال سے زیر التواءانکوائریوں میں اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر پنجاب میں زیرالتواءانکوائریوں کی تعداد 2، لاہور ریجن میں زیر التواءانکوائریز کی تعداد 172، گوجرانوالہ ریجن میں 4، راولپنڈی ریجن میں 141، فیصل آباد ریجن میں 13 ہے۔