امریکہ کوئی ایسی حرکت نہیں کریگا جس سے طالبان سے مذاکرات میں رکاوٹ پڑے: پرویز رشید

25 اکتوبر 2013
امریکہ کوئی ایسی حرکت نہیں کریگا جس سے طالبان سے مذاکرات میں رکاوٹ پڑے: پرویز رشید

اسلام آباد (ثناءنیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے بند اور عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کر دے گا۔ امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مکمل مدد اور تعاون کا یقین دلایا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گا جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔ ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں پرویز رشید نے کہا کہ اس سے قبل حکمران امریکی حکام کی خوشنودی حاصل کرنے امریکہ جاتے تھے مگر میاں نواز شریف امریکی حکام کی خوشنودی حاصل کرنے نہیں گئے بلکہ انہوں نے وہاں بھی وہی موقف اختیار کیا جو ان کا پاکستان میں تھا۔ پاکستانی عوام نے ووٹ دے کر نواز شریف کو وزیراعظم بنا دیا نواز شریف کو امریکیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وزیراعظم نے جن جن باتوں کا انتخابی مہم میں ذکر کیا وزیراعظم بننے کے بعد ان کا امریکہ کے بارے میں جو موقف یہاں تھا وہی انہوں نے واشنگٹن جاکر بھی اختیار کیا۔ عافیہ صدیقی کا معاملہ اسی وقت حل ہوگیا تھا جس وقت پاکستان نے اس پروٹوکول پر دستخط کر دیئے جس کے ذریعے امریکہ اور پاکستان کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔ پروٹوکول کے عمل میں پانچ مہینے تک لگیں گے جب یہ عمل مکمل ہو گا تو پھر ہمیں یہ قانونی حق حاصل ہو جائے گا کہ ہم امریکہ سے کہیں کہ وہ ہمارے قیدیوں کو ہمارے حوالے کیا جائے جو معاہدہ ہو چکا ہے اس کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی مگر پاکستان کا جو موقف تھا وہ ہم نے برقرار رکھا، اس سے قبل پاکستانی حکمرانوں کی جب امریکیوں سے بات چیت چل رہی ہوتی تھی اسی دوران یہاں ڈرون حملے ہو رہے ہوتے تھے مگر وزیراعظم نواز شریف کے اس دورے کے دوران کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا جب وزیراعظم نے امریکی حکام سے کہا کہ میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے طالبان سے بات چیت کا آغاز کروں گا تو امریکیوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم آپ کی مدد اور معاونت کرینگے امریکیوں کے اس فقرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس دوران کوئی ایسی حرکت نہیں کریں گے جو بات چیت میں رکاوٹ بنے گی مشرف قومی مجرم ہیں ان کے کچھ مقدمات عدالتوں میں ہیں کچھ پر تحقیقات ہو رہی ہے منتخب حکومتوں پر کوئی دباﺅ ڈال سکتا ہے نہ وہ دباﺅ قبول کرتی ہیں میری جتنی بھی غیر ملکیوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں کسی نے بھی مشرف کا نام تک نہیں لیا کسی پاکستانی حکمران کے بیرون ملک اکاﺅنٹس کا مجھے علم نہیں اگر کسی صحافی کے پاس ہیں تو وہ سامنے لائے وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ شکیل آفریدی کا مقدمہ پاکستان کی عدالتوں میں ہے ان کے مستقبل کا فیصلہ پاکستانی عدالتیں ہی کریں گے حکومت اس میں بالکل کوئی مداخلت نہیں کر سکتی ہے ہم عدالتوں کے فیصلے کا احترام کریں گے جہاں تک عافیہ صدیقی کا معاملہ ہے تو ان کی واپسی کی راہ ہموار ہو رہی ہے انشاءاللہ وہ ضرور پاکستان آئیں گی۔آن لائن کے مطابق پرویز رشید نے کہا کہ امریکہ نے طالبان سے مذاکرات میں مدد کرنے کا کہا ہے جو کہ ڈرون حملے بند کرنے کی یقین دہانی بھی ہے، ڈرون حملے نہ رکے تو امریکہ مذاکرات میں مدد نہیں رکاوٹ پیدا کرے گا، بات چیت میں مدد کرنے کا فقرہ ہی اس بات کا عکاس ہے کہ ڈرون حملے نہیں ہوں گے۔ یورپی ممالک میں کسی کے غیر قانونی اکاﺅنٹس ہو سکتے ہیں نہ ہی کالا دھن ان ملکوں میں ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کی پاکستان آمد اور کابینہ کو بریفنگ کے بعد ہی بہتر طور پر بات کی جاسکتی ہے بھارت میں انتخابی مہم چل رہی ہے اور جتنی بھی باتیں کی جارہی ہیں وہ انتخابی مہم کا حصہ ہیں انتخابات کے بعد حقائق سامنے رکھ کر بات ہوگی۔