شریعت بنچ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے‘ زرعی اصلاحات ایکٹ 77ءبحال نہ کیا جائے: پنجاب حکومت کا سپریم کورٹ میں تحریری جواب

25 اکتوبر 2013

اسلام آباد (ثناءنیوز) سپریم کورٹ میںزرعی اصلاحات کے حوالے سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران حکومت پنجاب نے ملک میں زرعی اصلاحات بحال کرنے کی مخالفت کردی ہے جبکہ دیگر تین صوبوں نے مقدمہ میں اپنے تحریری جوابات جمع نہیں کرائے جس پر عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت 12نومبر تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس تصدق جیلانی ، جسٹس جواد ایس خواجہ ، جسٹس اعجاز احمد چوہدری، جسٹس گلزاراحمد، جسٹس محمد اطہر سعید ، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اقبال حمیدالرحمن پر مشتمل سپریم کورٹ کے9 رکنی لارجر بنچ نے ورکرز پارٹی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل184(3) کے تحت دائر درخواست کی سماعت شروع کی توحکومت پنجاب کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت عظمی کے شریعت بینچ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے اس لئے سپریم کورٹ زرعی اصلاحات ایکٹ 1977کو بحال کرنے کا حکم جاری نہ کرے۔عدالت نے صوبہ سندھ ، خیبرپی کے اور بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرلز کو کیس کے حوالے سے اپنا موقف عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ملک میں زرعی اصلاحات کے حوالے سے دائر آئینی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ اس مقدمہ میں ملک بھر کے کسانوں کا زرعی اصلاحات کے حوالے سے وسیع تر مفاد وابستہ ہے اس لئے اس کیس کے حق اور مخالفت میں ہزاروں افراد دلچسپی لے سکتے ہیں۔ ورکرز پارٹی کے چیئرمین عابدحسن منٹو نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اس کیس سے ملک کے لاکھوں کسانوں کا مفاد وابستہ ہے اس لئے زرعی اصلاحات بارے فیصلہ پر نظرثانی کی جائے ۔