سرکاری سکیم کے تحت دور رہائش گاہیں دی گئیں، صفائی ناقص تھی: حاجیوں کی شکایات

25 اکتوبر 2013

جدہ (شعیب الدین سے) پی آئی اے کے چیف حج کوآرڈینیٹر اور ڈائریکٹر کارپوریٹ پلاننگ شاہ نواز رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان سے فریضہ حج کی ادائیگی کےلئے آنے والے حجاج کرام کے حوالے سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، حجاج کرام کو کسی بھی مشکل اور تکلیف سے بچانے کےلئے دن رات پی آئی اے کے افسران خود خدام حجاج کے ساتھ مل کر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ وہ گزشتہ روز جدہ حج ٹرمینل پر پاکستان سے آنے والے صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے اس موقع پر کنٹری منیجر پی آئی اے اولمپیئن شہباز احمد سینئر، جنرل منیجر سینٹرل کنٹرول کیپٹن انور عادل، جنرل منیجر پسنجر ہینڈلنگ عامر بشیر اور شعبہ تعلقات عامہ کے اطہر اعوان، سمیر نظامی اور یوسف خان بھی موجود تھے۔ شاہ نواز رحمان نے کہا کہ حجاج کو وطن واپس پہنچانے کا کام جاری ہے۔ حج ٹرمینل جدہ سے قومی ایئر لائن کی پروازیں وقت پر روانہ ہو رہی ہیں، عوامی شکایات دور کرنے کےلئے اس مرتبہ پی آئی اے حج آپریشن کی نگرانی مینیجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے محمد جنید یونس اور چیئرمین پی آئی اے محمد علی گردیزی خود کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حج آپریشن کے دوران کسی بھی طیارے میں خرابی کی صورت میں متبادل طیارے موجود ہیں ان کہنا تھا کہ اب تک جدہ سے روانہ ہونے والی 38حج پروازوں میں سے صرف 3 پروازوں میں معمولی تاخیر ہوئی ۔ شاہ نواز رحمان کا کہنا تھا کہ آج جمعرات کے روز تک 38 پروازوں کے ذریعے 14 ہزار سے زائد حجاج کرام کو وطن واپس پہنچایا جا چکا ہے۔ انہوں نے حجاج کرام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ پی آئی اے کی جانب سے مقرر کردہ سائز کے مطابق سامان لائیں۔ شاہ نواز رحمان کا کہنا تھا کہ سعودی سول ایوی ایشن حکام ہم سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جدہ حج ٹرمینل پر پشاور کے حسین احمد، مردان کے عبداﷲ، فیصل آباد کے شہزاد، نوید احمد، تابش، ڈیرہ اسمعیل خان کے نیئر زمان، بھکر کے ریاض احمد، شیخ مطیع ، اﷲ بخش، راولپنڈی کے کاشف سلیم اور اسلام آباد کے نو بہار خان نے پی آئی اے کی پروازوں اور عملے کوجہاں سراہا وہیں انہوں نے وزارت مذہبی امور کے حوالے سے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کی نسبت بہتر سہولیات ملی ہیں لیکن سرکاری سکیم کے تحت آنے والے حاجیوں کو 8 سے 10 کلو میٹر دور ٹھہرایا گیا تھا جہاں کھانے پینے کی اشیاءمشکل سے دستیاب تھیں۔ صفائی کا انتظام ناقص تھا لفٹ اکثر خراب رہتی تھی حکومت ان معاملات کو بھی درست کرے۔