کشمیر پر ثالثی، اوباما نے نوازشریف کو ”سرخ جھنڈی“ دکھا دی: بھارتی میڈیا

25 اکتوبر 2013

نئی دہلی (ثناءنیوز + آئی این پی) پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ پر بھارت کی تکلیفوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے نوازشریف کے دورہ امریکہ کے خلاف پراپیگنڈا مہم شروع کر دی ہے۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان امریکہ مذاکرات میں کسی قسم کی اہم پیش رفت نہیں ہوئی، امریکی صدر بارک اوباما نے وزیراعظم نوازشریف سے کشمیر کے معاملے پر پالثی سے معذرت کر لی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پر بھارتی اخبار ”انڈیا ٹوڈے“ نے لکھا ہے کہ بارک اوباما نے کشمیر کے معاملے پر پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کو سرخ جھنڈی دکھا دی۔ ”ٹائمز آف انڈیا“ کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماو¿ں کے درمیان ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوازشریف پہلے سے لکھے ہوئے الفاظ پڑھ رہے تھے جس سے واضح نظر آرہا تھا کہ وہ کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جس سے امریکی صدر ناراض ہوں تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایبٹ آباد آپریشن سے پیدا ہونے والی چپقلش میں کمی آئی ہے۔ ”دی ہندو“ نے لکھا ہے کہ پاکستان امریکہ مذاکرات میں کسی قسم کی اہم پیش رفت نہیں ہوئی، نوازشریف اور بارک اوباما کے درمیان ملاقات میں جہاں پاکستانی وزیراعظم کا زور ڈرون حملوں پر تھا تو وہیں امریکی صدر نے حافظ سعید اور جماعة الدعوة پر بات کی، ملاقات کے بعد وائٹ ہاو¿س کی جانب سے کسی قسم کی پریس بریفنگ نہیں رکھی گئی جس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ ملاقات امریکہ کیلئے اتنی اہم نہیں تھی جتنی پاکستان کیلئے تھی۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات کے دوران نوازشریف کو انتہائی ناگوار سوالات کا سامنا کرنا پڑا، اوباما نے وزیراعظم سے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلانے میں تاخیر بارے پوچھ گچھ کی۔ پی ٹی آئی اور دی سٹیٹسمین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اعلیٰ امریکی قیادت سے ملاقاتیں کیں تاہم اس دوران انہیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کے لئے وہ تیار نہ تھے۔ صدر اوباما نے ملاقات کے دوران نوازشریف سے پوچھا کہ پاکستان کیوں ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا، ان کے خلاف مقدمات کیوں نہیں چلائے جا رہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نوازشریف امریکی ڈرون حملے روکنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس جواز بھی پیش کرنے میں ناکام رہے، انہیں مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکی ثالثی کے حوالے سے بھی واضح جواب مل گیا۔ رپورٹ کے مطابق ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں تاخیر بارے اوباما کے سوال کا نوازشریف نے میڈیا سے اپنی گفتگو میں بھی تذکرہ کیا۔