جے سالک کے منہ پر کالک؟

25 اکتوبر 2013

 جے سالک انوکھا اور سیدھا سادہ سیاستدان ہے، وہ اتنا سادہ ہے کہ ایسے آدمی پر چالاک ہونے کا گمان ہوتا ہے وہ چالاک ہو بھی تو خطرناک اور شرمناک نہیں جو ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا اعزاز اور امتیاز ہے۔ عجیب عجیب طریقے کے احتجاج جے سالک کا مشغلہ ہے۔  اب ان دنوں  ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ پریس کلب اسلام آباد کے سامنے منہ پر کالک مل کر احتجاج کیا۔  اہلیہ کے سامنے یہ حرکت اور بڑا احتجاج ہے۔  یہ کالک کئی برسوں سے امریکہ ہمارے منہ پر مل رہا ہے اور ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا ہمیں شرم بھی نہیں آتی۔ ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں بلکہ جرنیلوں کو ڈرون حملوں کے خلاف بیان دیتے ہوئے بھی شرم نہیں آتی جیسے بھکاریوں کو بھیک مانگتے ہوئے شرم نہیں آتی، کوئی آدمی نہ دے تو دوسرے سے مانگنا شروع کر دیتے ہیں دس آدمی کچھ نہ  دیں  کوئی آدمی بے عزتی بھی کر دے۔ اتنا ہٹا  کٹا ہو کے بھی بھیک مانگتے ہو ہمارے حکمران اعلیٰ سے اعلیٰ کپڑے پہن کر سب سے مہنگے ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں شاندار گاڑی پر امداد مانگنے جاتے ہیں تو دینے والے انہیں دیکھتے  رہ جاتے ہیں۔ حیران بھی نہیں ہو سکتے۔
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
اور وہ جب پاکستان آ کے  ’’حکومتی بھکاریوں‘‘ کے گھر دیکھتے ہیں تو پریشانی کے مارے پریشان بھی نہیں ہو سکتے۔جنرل مشرف اور صدر زرداری کے بعد وزیراعظم نوازشریف اور سب اگلے پچھلے چھوٹے موٹے حکمران اور سارے سیاستدان  ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور بیان داغتے ہیں مگر امریکہ نے ڈرون حملے نہ روکے۔  پارلیمنٹ کی قرارداد کی عزت اس طرح  رکھی کہ شام سے پہلے ڈرون حملہ کر دیا اور ہم کچھ نہ کر سکے۔ 
عمران خان کو بھی شرم کرنا چاہیے اسے شرمندہ بھی ہونا چاہیے اب ان دونوں کاموں سے ہمارے حکمران اور حکمران نما سیاستدان فارغ ہو چکے ہیں۔ میں جے سالک کے لئے محبت دل میں رکھتا ہوں۔ یہ عوامی احتجاج ہے علامتی احتجاج بھی ہے یہ امریکہ  کو بھی متوجہ کرنے کی کوشش ہے کہ تم بھی ہمارے منہ پر کالک ملتے ہو ہماری محرومی ہے کہ وہ ہمیں نظر ہی نہیں آتی  صرف دنیا والوں کو اور تمہیں نظر آتی ہے  ہم خود کالک منہ پر مل رہے ہیں جو ہمیں نظر آئے تاکہ ہماری تسلی ہو۔ کوئی ماں کا لال ہے جو امریکہ کے منہ پر کالک مل سکے؟ مگر ہم اپنے منہ پر تو مل سکتے ہیں۔ ہمارا ہاتھ اس کے گریبان کی طرف حرکت بھی نہیں کر سکتا اس نے ہمارے گریبان کی دھجیاں  پوری دنیا میں بکھیری ہیں۔ کچھ بھارت کو تحفے میں دے دی ہیں۔ بھارت کے ساتھ دوستی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ ہم نے خود  اپنے گریبان  میں ہاتھ ڈالا ہے کہ ابھی ہماری پوری طرح تسلی نہیں ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جتنی رسوائی تذلیل اور توہین ہونا چاہیے تھی وہ ابھی نہیں ہوئی ۔ رہی سہی کسر ہم خود اور ہمارے اگلے پچھلے حکمران اور سیاست دان پوری کر رہے ہیں۔
ہمارا بھی تو آخر زور چلتا  ہے گریباں پر 
ہمیں  جے سالک کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے ڈرون حملوں  کے خلاف احتجاج کا صحیح طریقہ ہمیں بتایا ہے۔ وہ کیسا سیاستدان ہے  وزیر بھی رہا مگر وزیر شذیر نہیں رہا اتنی حکمرانی سے ہمارے سیاستدان من مانی کی انتہا کر دیتے ہیں اور بھی بہت کچھ کر لیتے ہیں۔ کرپشن تو بہت کر لیتے ہیں لوٹ مار اور ہرطرح کی مارا ماری کھل کر  کرتے ہیں۔ جے سالک نے تو کچھ بھی نہ کیا، بس احتجاج ہی کیا ہے وہ اقتدار میں ہو کے بھی احتجاج کرتے تھے مطالبے کرتے تھے مگر اس طرح کوئی مطالبہ نہ کیا جو ہمارے وڈے اور اصلی حکمران امریکہ سے کرتے ہیں۔ طلب اور مطالبے میں  ایک فرق ہوتا ہے جو انہیں سمجھ میں نہیں آتا ان کا پیٹ بھرتا ہی نہیں ان کی حرص   اور ہوس  ختم ہی نہیں  ہوتی جتنا قرضہ امریکہ سے اگلے پچھلے حکمرانوں نے لیا ہے وہ کہاں گیا۔ صدر زرداری نے اور اسحاق ڈار نے جو قرضہ لیا ہے وہ کہاں گیا ہے قرضے کے معاملے میں اسحاق ڈار آگے ہیں۔ اس لئے میں نے نوازشریف کا نام نہیں لیا آخر اسحاق ڈار نوازشریف  کے سمدھی ہیں۔ نوازشریف کی بیٹی اسحاق ڈار کی بہو ہے اس رشتے کی نزاکت سے کون واقف نہیں ہے۔ ڈار صاحب  کو مبارک ہو انہوں نے منشی سے سمدھی تک بڑا شاندار سفر کیا ہے۔ 
اب تو ڈرون ہماری روٹین ہے ہمارے کلچر میں شامل ہو گئے ہیں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ تم نے مجھ پر ڈرون حملہ کر دیا ہے۔ ڈرون  کے لئے اردو ترجمہ صرف ڈراؤنا ہے۔ ڈر اب ہماری زندگی میں سرایت کر  گیا ہے۔  ہم تو امریکہ وغیرہ سے پہلے دن سے ڈرے ہوئے ہیں اب تو امریکہ کے اشارے پر ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے بھارت سے بھی ڈرنا شروع کر دیا ہے۔ بھارت سے ڈرنے کی بجائے مرنے کو ترجیح دینا چاہیے۔ آج کے حکمران کہتے ہیں بھارت سے ڈرو ڈرتے  نہیں ہو تو ڈرنے کی اداکاری کرو تاکہ ہم بھارت اور امریکہ کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔میں نے کہا تھا کہ اب امریکہ یورپ نے ملالہ کو پاکستان کا وزیراعظم سمجھ لیا  ہے اس سے کس نے کہلوایا  ہے وہی جو وزیراعظم بناتے ہیں  ملالہ نے کہا کہ میں وزیراعظم ہوں گی ملالہ نے بھی  صدر اوباما سے ڈرون حملے بند کرنے کے لے تکلفاً کہہ دیا تھا تو امریکہ کچھ تو  شرم کرے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ سے خطاب کے دوران کہا کہ ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے مگر یہ امریکی قوانین کے عین مطابق ہے۔ پاکستانی قوانین (اگر وہ ہیں) تو ان کی بھی خلاف ورزی  نہیں ہے؟   ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ ایک ڈیل میں امریکہ اور پاکستان دونوں متفق ہیں کہ ڈرون حملے ہونا چاہیں اس لحاظ سے سب حکمران ایک قطار میں کھڑے ہیں سیاسی قیادت اور عسکری قیادت آپس میں اس لحاظ سے ایک ہے۔ امریکی ایجنڈے پر سیاستدان  اور جرنیل کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔ فیض کا ایک شعرعشق کرنے والوں کے لئے ہے حکومت کرنے والوں کے حوالے سے پڑھیں  تو اس کے معانی بدل جاتے ہیں۔
یہ ہمی تھے جن کے لباس پر سرراہ  سیاہی لکھی گئی ۔۔۔ یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ کوئے یار چلے گئے