افغانستان سرحد پار حملے روکے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے ورنہ خود کریں گے ۔ قبائلی جرگہ

25 اکتوبر 2013

پشاور + باجوڑ ایجنسی (آئی این پی) باجوڑ ایجنسی میں قبائلی جرگے نے افغانستان کو خبردار کیا ہے وہ سرحد پار حملوں کو روکنے کے لئے اپنے علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرے ورنہ قبائلی خود ان کی پناہ گاہوں کو ہدف بنائیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ روز باجوڑ میں مہمند قبائل کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں قبائلی عمائدین کے علاوہ باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سہیل خان مقامی انتظامیہ کے حکام سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جرگہ نے سرکئی گاؤں میں افغان عسکریت پسندوں کی جانب سے کئے گئے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے افغان حکام کو تنبیہ کی وہ اپنے علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کو سرحد پار پاکستانی علاقوں میں حملوں سے روکیں اور دوبارہ سرکئی طرز کا کوئی حملہ ہوا تو قبائلی خود افغان علاقے میں داخل ہو کر عسکریت پسندوں کی کمین گاہوں کو نشانہ بنائیں گے۔ قبائلی عمائدین نے سرحد پار حملوں کو روکنے کے لئے مقامی انتظامیہ کو اپنی مکمل حمایت اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور وعدہ کیا وہ عسکریت پسندوں کے مقامی حامیوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے عمائدین نے کہا ہم افغان حکومت سے اپیل کرتے ہیں وہ پاکستانی علاقوں میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے مسئلے سے ترجیحاتی بنیادوں پر نمٹے، انہیں اس قسم کی کارروائیوں کو روکنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ اس سے سرحدی علاقوں میں دو اطراف کے قبائلیوں کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سہیل احمد نے عمائدین اور امن کمیٹیوں کے ممبران پر زور دیا وہ عسکریت پسندوں کی جارحیت سے اپنی سرزمین کو بچانے کے لئے قبائلیوں کو متحرک کریں۔