ڈاکوئوں سے بے پر بوڑھوں کا لوٹا ہوا سرمایہ جلد برآمد کیاجائے

25 اکتوبر 2013

مکرمی! ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن( ای۔ او۔ اے۔ بی۔ آئی) پاکستان میں واحد ایسا مالیاتی ادارہ ہے جس میں موجود سرمایہ میں اُن افراد کی جمع پونجی بھی شامل ہے جو نجی صنعتی اداروں میں نچلے اور درمیانہ درجہ کے ملازمین تھے۔حکومت ان کی تنخواہوں کا کچھ حصہ کٹوتی کی شکل میں ہر ماہ حاصل کرکے ای۔ او۔ اے۔ بی۔ آئی کے کھاتے میں جمع کردیتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے نمبر 2وزیراعظم راجہ رینٹل نے اپنے داماد کو بھی میرٹ کی کسوٹی استعمال کئے بغیر ای۔ او۔ اے۔ بی۔ آئی میں براہ راست ملازمت دلوا دی تھی۔ اس طرح اسی پارٹی کے ایک وفاقی وزیر چودھری نذر محمد گوندل کی ’’ خدمات‘‘ کے عوض اسکے چھوٹے بھائی کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی طورپر اس مالیاتی ادارے کا سربراہ بنادیا تھا تاکہ وہ اس ادارے کی ’’خدمت‘‘ کرنے میں کسی قسم کا ’’ کوئی دقیقہ فرد گذاشت‘‘ نہ کرے۔ مسٹر گوندل وغیرہ کے خلاف تفتیشی سرکاری محکمے نے ابھی تک صرف گوندل اینڈ کمپنی کو قانون کے شکنجہ میں لانے کیلئے مساعی جاری رکھی ہوئی ہیں حالانکہ ان کے ساتھ محکمہ مال کی رجسٹریشن برانچ( رجسٹرار سے پٹواری تک) کے وہ افراد جو ای۔ او۔ اے ۔ بی ۔ آئی کے سرمائے سے خرید کئے جانے والی اراضی کے انتقالات محکمہ مال کے ریکارڈ میں درج کرنے میں ملوث ہیں جنہوں نے مال پانی لیکر انتقالات میں رقوم کو اراضی کی مارکیٹ ریٹ سے کہیں زیادہ قیمتیں درج کی تھیں۔ ہماری درخواست ہے کہ ان ملزمان کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد فوری طورپر بحق سرکار ضبط کرکے ای۔ او۔ اے۔ بی۔ آئی کے نام منتقل کردی جائے۔( از بشیر اصغر چودھری ۔ لاہور)

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...