لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی

25 اکتوبر 2013

اسلام انسان کو امن کا ایسا عالمگیر پیغام دیتا ہے تاریخ اسکی شاہد ہے اور مدینہ کی ریاست میں سب سے پہلا باضابطہ تحریری طور پر نافذ ہونے والا آئین ’’میثاق مدینہ‘‘ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قیام پاکستان کے شروع دن سے ہی بانی پاکستان قائداعظم کو گورنر جنرل محمد علی جناح نے نئی مملکت کا بنیادی مقصد بیان کرتے ہوئے یہ حکیمانہ فلسفہ بیان فرمایا تھا کہ انشأاللہ پاکستان اسلام کی ایسی جدید تجربہ گاہ ثابت ہو گا جو عالمی سطح پر امن انصاف اور مساوات کی ایک روشن مثال پیش کرے گا۔ لیکن بدقسمتی سے بھارت نے پاکستان کی آزاد مملکت کے وجود کو تسلیم نہ کر کے اکھنڈ بھارت کے مذموم مقاصد کو عملی جامع پہنانے کے خمار میں نہ صرف برصغیر بلکہ پورے جنوبی اور وسطی ایشیا کے امن کو دائو پر لگا دیا۔ ایک طرف بھارت نے ریاست جموں و کشمیر ریاست حیدر آباد اور ریاست جونا گڑھ پر غائبانہ حملے کرکے ان پر اپنا غیر قانونی تسلط قائم کیا بلکہ مشرقی پاکستان پر بھی جنگ مسلط کر کے پورے خطے کی آبادی کے امن و امان کو تباہ کر دیا۔ 
یہ محض پاکستان کی عظیم قوم اور پاکستان کی بہادر افواج کا جذبہ ایمان اور اس قوم پر ربّ العزت کی نظر عنایت ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قوم کے ہر فرد نے ایمان، اتحاد، تنظیم کا دامن مضبوطی سے تھام کر اپنی سرزمین کی آزادی خود مختاری اور قومی غیرت کے تحفظ کا عزم کرتے ہوئے اگر بھارت سے ایک ہزار سال تک بھی جنگ کرنا پڑی تو کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ جس طرح بھارت اور امپیریل برٹش گورنمنٹ کے گٹھ جوڑ کو شکست دیکر اس قوم نے ایک معجزہ برپا کیا تھا اسی طرح بھارت اسرائیل اور امریکہ کے ناپاک گٹھ جوڑ کے باوجود پاکستان نے نیوکلیئر پاور اور میزائل ٹیکنالوجی میں بھارت سے بہتر صلاحیتیں حاصل کر کے ایک اور معجزہ دنیا کے سامنے پیش کر کے پاکستان کی دشمن طاقتوں کی نیندوں کو حرام کر رکھا ہے۔ 
قارئین نے ذرا سا غور کرنے اور سنجیدگی سے موجودہ حالات کا بغور اندازہ لگانے سے محسوس کیا ہو گا کہ گزشتہ مئی کے انتخابات کے بعد ایک مضبوط جمہوری حکومت کے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ تین ماہ کے دوران جہاں ایک طرف وزیراعظم میاں نواز شریف بھارت کے ساتھ نہایت خلوص سے نہ صرف تعلقات معمول پر لانے کے خواہشمند ہونے کا متواتر اظہار کر رہے ہیں تاکہ برصغیر میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کو فروغ دینے کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا جائے۔ یہاں تک کہ میاں صاحب نے آل پارٹی کانفرنس بُلا کر طالبان کے ساتھ بھی غیر مشروط مذاکرات کی ایک سے زیادہ دفعہ پیشکش کو دہرایا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ نہ ہی بھارت کی طرف سے اور نہ ہی طالبان کی طرف سے کوئی مثبت پیشرفت کا اظہار ہُوا ہے۔ طالبان کی طرف سے اس دوران جو چاروں صوبوں کے دارالحکومتوں میں دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں شدت میں اضافہ ہوا ہے وہ کسی تبصرہ یا پُرامید حوصلہ افزا مستقبل کی نشاندہی کا عندیہ نہیں دیتا جس سے امن کے دریچے کھلنے کی خوشبو کا احساس بیدار ہوتا ہو۔ کسی بھی امن مذاکرات میں APPEASEMENT یا جسے پنجابی میں ’’تھلے لگنا‘‘ کا رجحان مخالف کی خوشنودی کیلئے عمل میں لایا جائے تو پھسلنے کا یہ عمل اس پسپائی کی نشاندہی کرتا ہے اور قدرتی طور پر طالبان اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
کچھ ایسا ہی ردعمل بھارت کی طرف سے پاکستان کے وزیراعظم کی بھارت کیساتھ پینگیں بڑھانے کے جذبہ کے جواب میں میاں صاحب کی بطور وزیراعظم حلف برداری کے موقع پر بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو شرکت کی دعوت سے لیکر نیو یارک میں من موہن سنگھ جی کے ساتھ ارمانوں بھری لاحاصل ملاقات کے انجام تک سردار جی نے شاید میاں صاحب کا من موہ لیا ہو لیکن نہ نواز شریف سردار جی کے دل کے کسی گوشہ میں امن کی آشا کے چراغ جلانے میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ بھارتی وزیراعظم نے اس بے بنیاد الزام تراشی میں سفارتی آداب کا یہ کہتے ہوئے رتی برابر احساس نہیں کیا کہ ’’پاکستان خطہ میں دہشت گردی کا اڈا ہے‘‘ صرف یہ ہی نہیں بلکہ من موہن سنگھ جی کی نئی در فنطنی ملاحظہ ہو۔ ’’جب تک یہ صورتحال قائم ہے اور ممبئی میں دہشت گردی کے ملزم بشمول حافظ سعید بھارت کے حوالے نہیں کئے جاتے یا پاکستان میں ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات کا آغاز نہیں کیا اس وقت تک پاکستان سے تعلقات معمول پر لانے کیلئے جامع مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکتا۔‘‘ 
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں کیرن سیکٹر میں پاکستان کی طرف سے دراندازی کے الزامات لگاتے ہوئے بھارت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل وکرم سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ اس سیکٹر میں پاکستانی فوج کی دراندازی دراصل کارگل منصوبہ کی طرز کا ایکشن تھا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے، ثبوت کے طور پر یہ الزام تراشی کی گئی ہے کہ کیرن سیکٹر پر ایک دہشت گرد کی جیب سے پاکستانی فوج کے حوالدار کا یک خطہ برآمد ہوا ہے جس کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ ایک اور مضحکہ خیز الزام یہ بھی لگایا گیا کہ پاکستان اپنی جہادی بٹالین کے زیادہ سے زیادہ جنگجو 2014ء سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں اکھٹے کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی میں اضافہ اور شدت پیدا کی جا سکے۔ چنانچہ ایسے پروپیگنڈہ سے بین الاقوامی سطح پر بھارتی افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر بھڑتی ہوئی اشتعال انگیزی کا جواز پیدا کیا جا سکے۔اس پس منظر میں پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بیان قوم کیلئے قابل توجہ ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی ناجائز متواتر اشتعال انگیزی افواج پاکستان کیلئے باعث تشویش ہے۔