لاپتہ افراد اور ڈرون حملوں کے معمے

25 اکتوبر 2013

سپریم کورٹ میں جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران لاپتہ افراد کو ہر حال میں بازیاب کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے لاپتہ افراد کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچا کر رہینگے، حساس ادارے قانون کیمطابق کارروائی کے مجاز ہیں۔ لاپتہ افراد اور ڈرون حملوں کا مسئلہ ہمارے ملک میں سیکورٹی معاملات کے حوالے سے وقت گزرنے کیساتھ ساتھ سنگین نوعیت اختیار کر کے اُبھرا ہے مگر افسوس کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دوراقتدار سے لیکر آج تک لاپتہ افراد اور ڈرون حملوں دونوں معاملات کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جا سکا۔ ہمارے ہاں دہشت گردی کی لہر صوبہ خیبر پی کے سے وسیع ہو کر پورے ملک میں خوفناک ہو چکی ہے۔ لاپتہ افراد کا معمہ آج بھی بلوچستان کے کشیدہ تر حالات کی اہم تر وجہ بنا ہوا ہے لیکن حکومت اور تمام تر قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس سنگین اور اہم نوعیت کے مسائل کو حل کرنے کے ضمن میں کسی قسم کی پیش رفت کو ظاہر کرنے سے قاصر ہیں۔ ان دنوں وزیراعظم میاں نواز شریف اپنے پہلے سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود ہیں انہوں نے امریکہ میں ڈرون حملوں کے حوالے سے اپنے موقف کو اُجاگر کیا ہے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے بند کرنے کی ٹھوس یقین دہانی کروائے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حملوں کے ذریعے امریکہ کو قتل عام کا لائسنس دیا گیا ہے اور پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت میں ناکام رہا۔ ڈرون حملوں کے ذریعے امریکی حکام نے غیر قانونی طور پر لوگوں کی جان لی۔ حملے غیر قانونی، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان امریکہ سے جواب طلب کرے۔ ڈرون حملوں کیخلاف پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کے دور میں پارلیمنٹ اور سینٹ سے قراردادیں منظور کی گئیں۔ ہماری پاک فضائیہ کے چیف ایڈمرل ڈرون طیارے مار گرانے کی صلاحیت رکھنے کا اعتراف کرتے رہے۔ ایٹمی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اعتراف بھی ریکارڈ پر آیا کہ ہم ڈرون طیارے مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اسکے باوجود ایک طرف ہمارے حکمران دعوے کرتے رہے کہ امریکہ ان کی منشائخ کے بغیر ڈرون حملے کر رہا ہے اور دوسری طرف ایک بھی امریکی ڈرون طیارہ مار گرایا نہیں گیا۔ اسکے بعد بہت سارے اعترافات کئے گئے۔ سابق صدر اور امریکی مجاہد جنرل (ر) پرویز مشرف نے تسلیم کر لیا کہ ان کے امریکہ کیساتھ ڈرون حملوں کے بارے میں خفیہ معاہدے موجود تھے۔ پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت کے بارے میں بھی باخبر حلقوں کا اظہار عام رہا کہ اس حکومت کے امریکہ کیساتھ ڈرون حملوں کے بارے میں خفیہ معاہدے موجود ہیں۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقتدار میں ہے اور اگر موجودہ حکومت نے حقیقتاً امریکہ کیساتھ ڈرون حملوں کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں کرنا اور وزیراعظم میاں محمد نوازشریف ڈرون حملوں کو بند کروانے کی غرض سے حقیقتاً امریکہ سے ٹھوس یقین دہانی چاہتے ہوئے کوئی معاہدہ نہیں کرتے تو پھر امریکہ کی طرف سے کئے جانیوالے تمام ڈرون حملے غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں گنے جائینگے جس کے بعد اگر ہماری حکومت وائٹ ہاؤس سے پاک داخلی و خارجی پالیسی تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یقینی طور پر پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کو بند کروانے کیلئے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز کا سہارا لے کر امریکہ کو ڈرون حملوں جیسے اس اقدام سے روکا جا سکتا ہے۔ ڈرون حملوں اور لاپتہ افراد کے معمے کو موجودہ حکومت کو ہر حال میں حل کرنا ہو گا۔ حکومت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ڈرون حملوں اور لاپتہ افراد کے معاملے کے باعث ہمارے ملک کے دو اہم ترین صوبے یعنی صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پی کے بدترین حالات سے دوچار ہیں۔ دونوں صوبوں کے اندر شورش برپا ہے۔ آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ نہتے اور بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام جاری ہے۔ صوبہ خیبر پی کے کی حکومت عید کے روز اپنے صوبائی وزیر قانون کے جاں بحق ہونے کے باوجود اے پی سی کے فیصلوں کیمطابق طالبان سے مذاکرات کی خواہاں ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبہ خیبر پی کے کی حکومت بنگلہ دیش یعنی مشرقی پاکستان جیسے حالات کو دہرانا نہیں چاہتی۔ وقت ثابت کر رہا ہے کہ ملک دشمن قوتیں حکومت اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کی ہر راہ کے درمیان بارود کی سرنگیں بچھا کر روڑے اٹکا رہے ہیں ان کو دور کرنا حکومت اسٹیبلشمنٹ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ہی ذمہ داری ہے۔ لاپتہ افراد اور ڈرون حملوں کے معاملات حل طلب ہیں۔ ایک طرف توانائی ذرائع کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور توانائی بحران ملک کے اندر معاشی و اقتصادی دیوالیہ پن کی صورت میں عوام کی صفوں میں بے چینی اور اضطراب کو ہَوا دے رہے ہیں تو دوسری طرف لاپتہ افراد اور ڈرون حملوں کے معمے ملکی داخلی و خارجی محاذوں پر ہم سب کو کمزور کر رہے ہیں۔ بادی النظر میں وزیراعظم کو وسیع تر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اگر ڈرون حملے بند اور لاپتہ افراد کی بازیابی بھی موجودہ حکومت کے دوراقتدار کے دوران نہیں ہوتی تو پھر عوام آئندہ کس سے توقع وابستہ رکھیں۔