دورہ ٔ امریکہ … توقعات ‘ امکانات

25 اکتوبر 2013

 وزیراعظم نوازشریف ’’ امریکہ ‘‘ میں اہم ملاقاتوں میں مطلوبہ اہداف کے حصول میں مصروف رہے۔ پورا ہفتہ عوام سمیت میڈیا کا فورکس ’’ دورہ امریکہ ‘‘ رہا کیونکہ ہماری بقاء جو ’’ امریکہ ‘‘کی ہاں یا ناں سے جڑی ہوئی ہے… وزیراعظم کی روانگی سے ایک دن پہلے امریکہ نے پاکستان کو ایک ارب 60کروڑ ڈالر کی امداد خاموشی سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا … اس کا آغاز نئے سال سے ہوگا … دونوں باتیں معنی خیز ہیں… ’’ خاموش‘‘… جبکہ اطلاع بھی عام کردی… ’’ فراہمی‘‘ نئے سال کے آغاز میں … مطلب پہلے وعدے کی تکمیل کا ایک اور وعدہ وہ بھی نیا سال شروع ہونے کے بعد … امریکہ کو سوچناچاہئے کیا یہ رقم گیارہ سال جنگ میں ہماری معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے ’’ سو ارب ڈالر‘‘ کے نقصان کی تلافی کرسکی ہے ؟ محض ’’ مونگ پھلی ‘‘ ہاں البتہ ہمارے پاس موجود میں سے بہت کچھ جانے کا احتمال ہے… کچھ ضروری فیصلے منظوری مانگتے ہیں… امریکہ کو فی الوقت محفوظ انخلاء کی ضمانت چاہئے… افغانستان میں امن کے قیام اور ’’ نیٹو’’ کے پُر امن انخلاء کیلئے وہ ٹھوس یقین دہانی کا طلبگار ہے … اسی لئے وہ تمام فریقوں سے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھارہا ہے … اسلئے ممکن ہے کہ ’’ ڈاکٹر عافیہ ‘‘ کو وہ رہا کردے تاکہ عوام میں امریکہ مخالف جذبات کم ہوسکیں …
’’ وائٹ ہائوس‘‘ پاکستان سے مستحکم، مضبوط اور اچھے تعلقات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے تو اُسے یہ دیکھنا پڑے گا کہ خطے میں امن کیلئے خود پاکستان کا پُر امن ہونا ہی تعلقات کو سود مند بناسکتا ہے … امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے مگر ایسا کیوں ہے کہ وہ ’’ ایک اہم ملک‘‘ کے حقیقی مسائل کو سمجھ کر بھی نہ سمجھنے والا رویہ اپنائے ہوئے ہے … ہماری ترجیحات، سلامتی کو لاحق خطرات، توانائی بحران اور دہشت گردی کے نتیجہ میں تباہ ہوتی ہوئی معیشت و معاشرت،’’ایل او سی ‘‘ پر جاری بھارتی اشتعال انگیزی کے متعلق امریکہ کو کوئی دلچسپی نہیں… ’’وزیراعظم‘‘ کو چاہئے کہ وہ ’’ توانائی بحران‘‘ کی سنگینی اور عوام کے جذبات سے امریکہ کو باخبر کرتے ہوئے راضی کریں کہ وہ ایران گیس منصوبہ کی بلاوجہ مخالفت نہ صرف ترک کردے بلکہ نئے’’ آبی ذخائر ‘‘ کی تعمیر کیلئے بھی مکمل امداد مہیا کرے … اس کے علاوہ بھارتی قبضہ سے ہمارے دریا واگزارکروائے … کیونکہ ’’ توانائی بحران‘‘ کسی بھی وقت موجود نظام کو نگل سکتا ہے … حکومت خراب معیشت کا علاج مزید قرضوں سے کرنے کی بجائے پاکستانی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک آسان، ٹیکس فری رسائی کو منوانے کی کوشش کرے۔
 علاوہ ازیں ’’ بھارت‘‘ کی مسلسل بڑھتی ہوئی جارحانہ کارروائیوں کی موثر روک تھام کیلئے ’’ کشمیر ‘‘ کے تمام فریقین کو قابل قبول حل کی اب کوئی ٹھوس صورت نکالے … یہ بات خوش آئند ہے کہ ایک لمبے عرصے کے بعد ’’ امریکہ ‘‘ نے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی دونوں ممالک کو تجویز دی ہے … مگر ایسا نہ ہو کہ زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کی عادت رکھنے والا امریکہ کے نزدیک یہ محض ایک ’’لالی پاپ‘‘ ہو… قیادت کو وعدوں، یقین دہانیوں اور تسلی نما الفاظ کی سفارت کاری کے مہلک وار سے بچنے کی ضرورت ہے … محض فوٹو سیشن یا ’’ آفیسرز لیول‘‘ کا پُر تپاک استقبال مسائل کا حل نہیں یہ حکمرانوں کی ضرورت ہوسکتی ہے مگر گیارہ سال سے قوم پر ٹوٹنے والے مصائب اور مشکلات کا مداوا نہیں کرسکتے … 
’’ پاکستانی قوم‘‘ اپنے دکھوں کا فوری علاج اور مسائل کا نتیجہ خیز حل چاہتی ہے۔انہی مسائل میں ڈرون حملے نہ صرف ہماری خود مختاری کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ ہمارے ’’ غیور قبائل‘‘ اور ریاست کے مابین دوری، بغاوت اور نفرت پیدا کرنے کا بھی موجب بنے…’’اقوام متحدہ ‘‘ کی پیش کردہ رپورٹ ہے کہ ’’9سالوں‘‘ میں پاکستان میں ’’330ڈرون‘‘ حملوں میں 400 شہری مارے گئے جبکہ نشانہ بننے والو ں میں ’’200‘‘ افراد جنگجو بھی نہیں تھے …’’ رپورٹ‘‘ میں ’’ڈرون پالیسی ‘‘ پر سی۔ آئی ۔ اے کی گرفت کے باعث مصدقہ حقائق جاننے میں دشواری کا اعتراف بھی کیا گیا… جبکہ ’’ہماری کتاب‘‘ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد زیادہے کیونکہ ناقابل رسائی دشوار علاقوں تک پہنچ نہ ہونے کے باعث ٹھوس اعدادو شمار ابھی تک سامنے نہیں آسکے… ’’ ایمنسی انٹرنیشنل‘‘ کی رپورٹ نے بھی ہمارے موقف کی سچائی کو ثابت کر دکھایا… یہ رپورٹ ہمارے مطالبے کو فتح کے بالکل قریب لے آئی ہے … یہ پاکستان کی قسمت یاوری کر رہی ہے … دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ڈرون حملوں نے قومی مزاج، معاشرے کی تاروپود تک ہلا کر رکھ دی ہیں … کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کہیں دھماکہ نہ ہو…آخر ہم کب تک نعشیں اٹھاتے رہیں گے ؟ ہماری قربانیوں کو لفظی خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے ’’امریکہ ‘‘ ہمارے نقصانات کی تلافی کرے … تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیر نو اور دہشت گردی کے اسباب و علل کے خاتمہ کیلئے صحیح سمت نتیجہ خیز پیشرفت کا آغاز کرے …