امریکہ کا کامیاب دورہ مبارک!

25 اکتوبر 2013

یوں توتین مئی 1950 کا دن واشنگٹن ڈی سی میں ایک عام سا دن تھا، لیکن اسکے باوجود وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمیاںدیکھنے میں آئیں۔صبح ہوتے ہی امریکی سربراہ ریاست کے دفتر میں کام کا آغاز ہو ا تو وقت تیزی سے گزرنے لگا۔ امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین نے پہلے سے طے شدہ شیڈول میں بہت سے کام جلدی میں نمٹائے ، جبکہ کئی طے شدہ اپوائنٹمنٹس ملتوی کردیں۔ دراصل امریکی صدر کو دن کی سب سے اہم اپوائنٹمنٹ کی فکر تھی، جو تین بج کر پینتیس منٹ پر طے تھی۔اس وقت ہیری ٹرومین کو نیشنل ایئرپورٹ پر اپنی اہلیہ کے ساتھ جاکر ایک معزز غیر ملکی مہمان کااستقبال کرنا تھا۔مقررہ وقت پرمعزز مہمان اپنی اہلیہ اور وفد کے ہمراہ طیارے سے باہر آیاتو ہیری ایس ٹرومین کا چہرہ تشکر کے جذبات سے چمک رہا تھا۔چار بج کر پانچ منٹ پر ایئرپورٹ پر باقاعدہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں امریکی صدر نے سپاسنامہ پیش کیا، یہ سپاس نامہ آج بھی ٹرومین لائبریری میں ان الفاظ میں محفوظ پڑا ہے’’عزت مآب، وزیراعظم اور بیگم صاحبہ!آپ کی آمد امریکہ کیلئے ایک یادگار لمحہ اور میرے لیے ذاتی طور پر انتہائی فخرو انبساط کا باعث ہے۔ امریکہ میں آپ کا استقبال کرکے میں خوشی سے پھولے نہیں سمارہا۔میں ، میری اہلیہ اور اس ملک کے کروڑوں امریکی عرصہ درازسے آپکے دورے کے منتظر تھے۔مجھے خوشی ہے کہ آپ نے ہمیں اور ہمارے ملک کواپنی مہمان نوازی کرنے کا اعزاز بخشا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ کا سفر بھی خیریت سے گزرا۔ہر امریکی جو آپ کے ملک گیا ، وہ واپسی پر آپ کی مہمان نوازی کے گیت گاتا پایا گیا ہے۔مجھے امید ہے کہ آپ خود کو امریکہ میں بیگانہ محسوس کرنے کی بجائے اپنے گھر جیسا پائیں گے۔اپنے دورے میں آپ کو محسوس ہوگا کہ آپکے ملک اور امریکہ میں بہت سی باتیں اور چیزیں مشترک ہیں۔میں جانتا ہوں امریکہ میں آپ کو محدود وقت میں بہت سی دعوتوںمیں شرکت کرنا ہے، یہ دعوتیںیقینا آپکے ملک کیساتھ امریکیوں کی محبت کی غماز ہے۔میں امریکی قوم کی جانب سے آپکواس دورے پر ایک مرتبہ پھر ہدیہ سپاس پیش کرتا ہوں‘‘۔ امریکی صدر نے ایئرپورٹ پر دئیے جانیوالے استقبالیہ میں جس ملک کے سربراہ کیلئے یہ الفاظ کہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان تھے۔ امریکی صدر کے یہ جذبات محض الفاظ کی حد محدود تک نہ تھے بلکہ یہ ایک آزاد ملک کے غیور حکمران کو امریکیوں کا خراج عقیدت بھی تھا۔جس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اسی رات امریکی صدر نے بلیئر ہاؤس میںلیاقت علی خان اور انکے وفد کے اعزاز میں شاندار عشائیہ بھی دیا۔ اِس عشائیہ کی اہمیت یہ تھی کہ اس میں امریکی صدر کے خاندان، سپیکرسام ریبرن، چیف جسٹس فریڈ ایم ونسن اورکابینہ کے تمام ارکان اپنی بیگمات کیساتھ شریک تھے۔ دو دن بعد پانچ مئی کو میفلاور ہوٹل میں لیاقت علی خان کے اعزاز میں دیے جانیوالے ایک اور ڈنر میں امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر اپنی بیگم کیساتھ شرکت کرکے وزیراعظم پاکستان کے دورے کی امریکیوں کی نظر میں اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔اسی دورے میں ٹرومین نے لیاقت علی خان سے درخواست کی کہ روس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے امریکی سی آئی اے کو پاکستان میں اپنا فوجی مستقر بنانے کی اجازت دی جائے۔ امریکیوں کی شاندار مہمان نواز ی کے باوجود لیاقت علی خان نے اس درخواست پر کورا سا جواب دیا توپاکستانی وزیراعظم کو پہلے لالچ سے رام کرنے، پھر دھونس سے دباؤ میں لانے اور آخر میں دھیمے لہجے میں امداد بند کرنے کی دھمکی سے بھی خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی،لیکن ان سب کے جواب میںوزیراعظم لیاقت علی خان کا جواب امریکیوں کو کبھی نہ بھول سکا۔ 
غیور حکمرانوں کا طرز عمل یقینا ویسا ہی ہونا چاہیے، جس طرح لیاقت علی خان امریکیوں کے ساتھ پیش آئے،لیکن آئندہ برسوں میں پاکستان کو میسر آنیوالے حکمرانوں میں سے کسی میں بھی لیاقت علی خان جیسی حمیت نہ تھی۔گلشن میں علاجِ تنگی داماں ہونے کے باوجود نادان حکمران چند کلیوں پر ہی قناعت کر تے رہے، یوں وطن عزیز کو بھکاری بناکر رکھ دیا گیا۔تھوڑی سی امداد کیلئے سارے کا سارا ملک ہی بیچ کھانے والوں نے اپنی تجوریاں بھر بھر کر قوم کو غیر ملکیوں کے قرضوں تلے اس طرح دبا کر رکھ دیا کہ گزشتہ چھ دہائیوں میں اس قوم کو گردن اٹھانا نصیب نہیں ہوئی۔1950ء کے بعد تریسٹھ برسوں میں کسی بھی پاکستانی حکمران کا اس قدر فقید المثال استقبال نہیں کیا گیا، جس طرح کا استقبال لیاقت علی خان کا کیا گیا۔ اگرچہ 1956ء میں پاکستان نے امریکہ کو پشاور میں فوجی اڈہ بھی فراہم کردیا، لیکن اسکے باوجود امریکہ پاکستانی حکمرانوں کی بے توقیری جاری رکھ کر اُنہیں اُن کی اوقات یاد دلاتا رہا۔گزشتہ چھ دہائیوں میں جب بھی کوئی پاکستانی حکمران سرکاری دورے پر امریکہ گیا تو اُس کا استقبال ڈپٹی سیکرٹری لیول کے افسر سے بڑے امریکی حکام نے نہیں کیا، لیکن اس بار تو حد ہی ہوگئی۔پاکستان میں بھی حکومت کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے امریکی دورے کا بڑا پراپیگنڈا کیا گیاتھا، لیکن پراپیگنڈے کے اس پہاڑ سے مرا ہوا چوہا بھی برامد نہیں ہوسکا۔اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پاکستانی وزیراعظم یا صدر سرکاری دورے پر امریکہ پہنچے اور امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں یہ انداز اپنایا گیا ہو لیکن اس بار تو بے توقیری کی حد ہی کردی گئی۔ پہلے تو پاکستانی وزیراعظم کو ملاقات کیلئے تین دن انتظار کرایا گیا اور پھر چھوٹی سی ملاقات کا ’’شرف‘‘ بخشاگیا۔میڈیا میں آنے والی خبروں کیمطابق اِس ’’کامیاب‘‘ ملاقات میںامریکی صدر پاکستان کو اپنے ’’طور طریقے‘‘ درست کرنے کی ہدایت کرتے دکھائی دیے۔جس طرح اوبامہ نے ملاقات میں ممبئی حملے کے ملزموں کو کٹہرے میں لانے، جماعتہ الدعوۃ کے معاملے اور ’’پڑوسی‘‘ ملک کیساتھ امن سے رہنے سے بات کی ،اس سے توصاف لگ رہا تھا کہ جیسے پاکستانی وزیراعظم بھارت کے وکیل کے ساتھ ملاقات کرنے گئے ہوں۔
قارئین محترم!!پاکستان میں فوجی اڈے بنانے کی اجازت نہ ملنے پر امریکہ نے لیاقت علی خان کودھمکایا تھا کہ امریکہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لے گا۔ لیاقت علی خان نے اس دھمکی پر امریکہ کو ٹکا کر جواب دیا تھا ’’ہم نے آدھا کشمیر امریکہ کی حمایت کے بغیر حاصل کیا ہے، باقی آدھا کشمیر بھی امریکہ کی حمایت کے بغیر ہی حاصل کرلیں گے‘‘۔ کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خان کا کورا جواب سن کر امریکیوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ، اُنہیں ایک اہم ملک ہاتھ سے نکلتا دکھائی دیا تو امریکی مشینری پاکستانی وزیراعظم کو رام کرنے میں لگ گئی، لیکن تریسٹھ برس بعد صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ملک کو امریکہ کی کالونی بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کے باوجود امریکہ کی نظر میں پاکستان اور پاکستانی حکمرانوں کا مقام یہ رہ گیا ہے کہ جس ملاقات کا اتنا ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا، وہ ملاقات دال روٹی پر گفتگوسے آگے نہ بڑھ سکی۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ تریسٹھ برسوں میں پاکستان امریکہ کے ’’دوست‘‘ سے ترقی کرکے ’’اسٹریٹیجک پارٹنر‘‘ کے ’’عہدہ‘‘ پر براجمان ہوگیا ہے اورہمارا حکمران طبقہ اسی میں مسرور دکھائی دے رہا ہے۔ اگر کسی کو اس دورے میں پاکستان کی بے توقیری محسوس نہیں ہوئی توپھر اُسے یہ ’’کامیاب‘‘ دورہ مبارک ہو۔