پنجاب میں انگریزی نظامی تعلیم بدلنے کا فیصلہ

25 اکتوبر 2013

وزیرتعلیم پنجاب رانا مشہود احمد نے ایک بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے کہ پنجاب کے تعلیمی نصاب کو مکمل طور پر انگریزی سے اردو میں بدلنے پر غور کر رہے ہیں۔طلباء و طالبات کو انگریزی زبان کا سلیبس آپشنل ہو گا۔ طلباء کی قابلیت کسی زبان کی بجائے ان کے علم، ذہانت سے جانچنے اور پرکنے کا طریقہ کار اپنایا جائیگا۔ جاپان، جرمنی، فرانس، چین اور دیگر کئی  یورپی اور ایشیائی ممالک ایسے ہی  فارمولے پر کاربند ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم میں رٹا سسٹم ختم کرنے کیلئے  یہ پالیسی ایک اہم کردار ادا کریگی۔ اگلے چارہ ماہ میں جامع پالیسی  بنا کر وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کو پیش کر دی جائیگی۔ حکومت پنجاب صوبے کے55 ہزار سرکاری سکولوں میں بچوں کو کتابیں مفت دینے کی بجائے انہیں کمپیوٹرائزڈ ٹیبلٹس مفت فراہم کریگی۔ حکومت پنجاب دیہات کی سطح تک یہ ٹیبلٹس مفت فراہم کریگی۔ 
رانا مشہود احمد سابقہ دور میں  پنجاب کے ڈپٹی سپیکر کے عہدہ پر پانچ سال پورے کر چکے ہیں، تاہم موجودہ صوبائی کابینہ  میں انکا وزارت تعلیم کا انتخاب وزیراعلیٰ کے حسن انتخاب کا نمایاں ثبوت ہے۔ جنہوں نے شعبہ تعلیم   کیلئے ایسے وزیرتعلیم کا انتخاب کیا ہے جو نئی نسل میں پاکستان کے قومی تشخص کو فروغ  دینے اور اپنی قومی زبان کے رائج کرنے میں کوشاں ہیں۔ ان کے اس فیصلہ سے ملک میں بڑے پیمانے پر تعلیمی انقلاب برپا ہو گا جس کے انتہائی مثبت اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ دنیا بھر کی تمام ترقی یافتہ و ترقی پذیر اقوام اپنی مادری زبان پر فخر کرتی ہیں، جن میں تمام قوموں نے اپنی اپنی زبانوں سے علوم حاصل کر کے ہی ترقی کی ہے۔ 
ذریعہ تعلیم کی اہمیت کیلئے ایک زندہ مثال سے واضح ہو جائیگا کہ زندہ قوموں کی کیا نشانیاں ہوتی ہیں۔ ’’جنگ عظیم دوم میں ایٹم بموں کی تباہی کے سبب جب جاپان ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گیا تو اتحادی فوجوں کے امریکی جنرل میکارتھر شہنشاہ جاپان کے محل میں آیا اور ہتھیار ڈالنے کیلئے کہا،  شہنشاہ نے اسے کہا کہ میری ایک شرط ہے اگر تمہیں منظور ہو تو میں ہتھیار ڈالنے کا حکم دیتا ہوں، ورنہ آخری جاپانی تک تمہاری فوجوں کو لڑنا ہو گا۔ جنرل مکارتھر نے کہا مجھے منظور ہے۔ آپ شرط بتائیں، شہنشاہ نے کہا کہ تم ہمارے نظام تعلیم کو نہیں چھیڑو گے۔ اس کا نتیجہ  یہ نکلا کہ جنگ کے چند سالوں بعد جاپان  معاشی محاذ پر ساری دنیا کو مات دیکر ایک بڑی اقتصادی قوت بن چکا ہے۔ ایک طرف ہم پاکستانی لارڈ میکالے کے نظام تعلیمی کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی طاقتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ پاکستان اپنی قومی زبان نافذ کرے اور یہ تدریسی زبان بن جائے کیونکہ اس صورت میں ہماری قوم کے نونہال جدید عصری علوم اور ٹیکنالوجی پڑھ کر ایک بڑی طاقت بن سکتے ہیں جو انہیں منظور نہیں ہیں۔
رانا مشہود احمد صاحب آپ ملک و قوم کیلئے ایک تاریخ ساز فیصلہ کرنے جا رہے ہیں، جلد از جلد اس تعلیمی پالیسی پر عمل شروع کرا دیں۔ آپ کے وزیراعلیٰ خود بھی ایک متحرک اور محب وطن رہنما ہیں، یہ ان کے نعرہ ’’بدلہ ہے پنجاب‘ ہم بدلیں گے پاکستان‘‘ کا عملی مظاہرہ ہو گا۔ اس نئے تعلیمی نصاب کو نہ صرف سرکاری بلکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں تک بھی رائج کریں تاکہ صوبہ بھر میں ایک ہی تعلیمی نظام رائج ہو سکے۔ اس طرح انگلش میڈیم کے نام پر ہزاروں روپے ماہوار فیسیں بٹورنے والے تعلیمی اداروں کو لوٹ مار میں بھی کمی ہو گی جو ایک بہت بڑا بزنس بن چکا ہے۔