پاکستان کو ہر قیمت پر باوقار بنایا جائے !

25 اکتوبر 2013

ہم پاکستانی لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بہت محبت کرتے ہیں اور ہم میں سے اگر کسی کے کان میں بھی معمولی سا درد شروع ہو جائے تو ہم اس پاکستانی بھائی کے کان کو اپنا کان سمجھتے ہیں اور کان میں ہونے والے درد کو بھی اپنا ہی درد سمجھتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ہمدرد واقع ہوئے ہیں۔ ہم اپنے پاکستانی بھائی کی تکلیف سُنتے ہی کوئی نہ کوئی مشورہ ضرور دیتے ہیں، نہ صرف مشورہ دیتے ہیں بلکہ اس پر فوری عمل کرنے پر زور بھی دیتے ہیں۔ 
ہمارے ایک دوست کو پنڈلی میں اچانک کھچائو محسوس ہُوا اُس نے اپنے ہمدرد پاکستانی بھائی سے اس تکلیف کا تذکرہ کیا تو اُس نے اسے ایک نجومی بابے سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ ہمارا دوست پنڈلی میں سخت درد کے باوجود نجومی بابے کے ہاں پہنچا۔ اپنی باری آنے پر جب نجومی بابے نے ہمارے دوست کی پنڈلی پر ایک نظر ڈالی پھر نجومی نے اپنی دونوں آنکھیں بند کر لیں اور ہمارے دوست سے کہا: ’’تم پر کسی ہَوائی چیز نے اثر کیا ہے؟‘‘ تم پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کہاں کہاں سے گزرے تھے اور یہ بھی بتائو کہ تمہیں اس راستے میں سے کون کون سی چیزیں نظر آئی تھیں۔ ہمارے دوست نے بلا تامل جواب دیا: ’’بابا جی! میں کل رات گیارہ بجے چائنہ سکیم سے گزرا تھا مجھے راستے میں کچھ کالی بھینسیں، چار پانچ گدھے، چند جگنو یعنی ہونڈا 70 موٹر سائیکلیں‘‘ میرا اندازہ بھی یہی تھا یہی وہ چیزیں ہیں جو انسان پر اثر کر جاتی ہیں۔ ہمارے دوست نے نجومی بابے سے پوچھا : بابا جی! آخر ان میں سے کون سی چیز ہَوائی ہے یہ ساری چیزیں زمینی ہیں؟ ’’یہ ساری چیزیں اگرچہ زمینی ہیں لیکن تم نے اندھیرے میں دیکھی ہیں تو تم پر اثر کر گئی ہیں۔ ہمارے دوست نے بڑے ادب سے کہا : بابا جی! آپ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر روشنی ڈال رہے ہیں یا میری پنڈلی کے درد کے اسباب بتا رہے ہیں! ہمارے دوست نے نجومی بابا سے کہا کہ بابا جی! اگر آپ پاکستان کے بارے میں یہ کہیں کہ اس پر کسی ہَوائی چیز نے یا کسی باہر کی چیز نے اثر کر رکھا ہے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم پر ڈرون حملے ہو رہے ہیں اور باہر کی چیز کس بَلا کا نام ہے، کسی سے مخفی نہیں۔ ہم پوری پاکستانی قوم اپنے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب سے یہ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ جب ہمارے وزیراعظم صاحب وطن واپس آئیں گے تو پاکستانی قوم کیلئے انسدادِ دہشت گردی، توانائی بحران اور معاشی بحران کیلئے چند شیر بہدف نسخے لائینگے۔ ہمارے وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں بھی بڑی دانش مندی سے اپنی تقریر کے ایک حصے میں ڈرون حملے بند کرنے کی بات کی تھی اسے میڈیا نے سراہا۔ اب میاں صاحب اگر باراک اوباما کے سامنے ڈرون حملوں کا مسئلہ رکھتے ہیں اور ڈرون حملے بند ہو جاتے ہیں تو میاں صاحب کی گُڈی چڑھ جائیگی لیکن نیویارک ٹائمز کا کیا کیا جائے کہ اس نے نجومی بابے کا کردار ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی تلوں میں تیل نہیں ہوتا۔ اگر دیکھا جائے تو ڈرون حملوں کا آغاز کیسے ہوا؟ امریکہ نے القاعدہ کو سبق سکھانے کیلئے پاکستان پر دبائو ڈالا اور ہم امریکہ کی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح گر گئے۔ ہم امریکہ کے اتحادی بنے اور دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہو گئے پھر ہمارے اپنے سینے چھلنی ہونا شروع ہو گئے۔ اگر ہمارا ملک چلانے کا کوئی پروگرام ہے تو پھر اسے رکشا سمجھ کر نہ چلایا جائے۔ پاکستان غریب عوام کی لاکھوں قربانیوں کے عوض حاصل کیا گیا تھا۔ قائداعظم نے قانون کے دائرے کے اندر رہ کر پاکستان حاصل کر لیا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کی عزت اور وقار کی بات کی۔ اس وقت پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ برسر اقتدار ہے اس جماعت کو قائداعظم کے فرمودات سے سرِمُو انحراف نہیں کرنا چاہئے‘ اگر ہم امریکہ کے بحری بیڑوں سے ڈرتے رہیں گے، اسکی ہوائی چیزوں سے ڈرتے رہیں گے اور اسکے ایٹموں سے لرزتے رہیں گے تو پھر ہم اسکے سامنے جائز اور حق بات بھی نہیں کر سکیں گے۔ اس وقت ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اسے بہت کافی سمجھنا چاہئے اور اب ہمیں قائداعظم کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ملک کو بحرانوں اور طوفانوں سے نکال کر باوقار بنانا چاہئے۔