اہل علم کی فضیلت

25 اکتوبر 2013

چند روز پیشتر اساتذہ کی اہمیت قدر و منزلت اجاگر کرنے کیلئے ’’یوم اساتذہ‘‘ پر جہاں کئی ممالک میں اساتذہ کو پھول پیش کئے گئے، تقریبات منعقد ہوئیں سلام ٹیچر وغیرہ جیسے کلمات تحسین و تبریک پیش کئے بدقسمتی سے استاد کے مقام و مرتبہ کے سب سے بڑے علمبردار اسلام کی اسلامی ریاست میں اساتذہ پر لاٹھی چارج کے ذریعہ سرکاری پروٹوکول سے نوازا گیا۔
اب پھر ڈسٹرکٹ اتھارٹیز کے قیام امتحانات کے نئے تجربات وغیرہ کے منصوبوں کیخلاف اور دیگر مطالبات کے ہمراہ ہمارے اساتذہ سراپا احتجاج ہیں اور حسب معمول حسب عادت جب تک بدامنی پر مبنی غیر معمولی ہنگامہ بپا نہیں ہوتا نہ میڈیا نہ ہی حکومتی کسی کے کان پر جوں نہیں رینگے گی۔ اسلامی تاریخ تو بادشاہ کے بچوں کی اساتذہ کے جوتے اٹھا کر پہنانے جیسی درخشندہ روایات سے بھری پڑی ہے۔ انہی سے سبق حاصل کرتے ہوئے اہل مغرب نے بھی عظمت استاد کو پہچان لیا اور ترقی کے عروج پر فائز ہوگئے۔ جنگ عظیم دوئم کے اختتام پر ونسٹن چرچل وزیراعظم برطانیہ نے اپنی تقریر میں سب سے پہلے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہی کی وجہ سے قوم مشکل حالات سے مقابلہ کیلئے تیار ہوئی۔
مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش میں تبدیلی کا سانحہ اسکا سب سے بڑا محرک ہندو اساتذہ کو ٹھہرایا جاتاہے جنہوں نے طلبا میں نفرت علاقائی تعصب کا بیج بو کر پاکستان سے بدگمان و متنفر ایک نسل تیار کی۔آج بھی کئی مغربی ممالک میں اساتذہ ٹریفک کے سگنلز کی پابندی سے استثناء حاصل ہے۔ انہیں حکمرانوں جیسا پروٹوکول دیا جاتا ہے معروف دانشور اشفاق احمد مرحوم نے ایسے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا کہ روم میں گاڑی کے ایک چالان کے سلسلہ میں عدالت میں پیش ہونا پڑا لیکن جب جج کو انکا تعارف بطور استاد ہوا تو وہ احتراماً اپنی کرسی سے اٹھ کر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔  کوئی بھی مہذب و ترقی پسند قوم ملک معاشرہ استاد کے مقام و مرتبہ اور اہمیت سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا خصوصاً اسلامی معاشرہ میں تو اساتذہ و علماء کو جو ادب و احترام حاصل ہے اسکی نظیر کوئی دوسرا مذہب و معاشرہ دینے سے قاصر ہے۔ خود معلم انسانیت حضرت محمدؐ کے ایک فرمان کیمطابق ایک شخص کے تین باپ ہیں ایک جس نے جنا دوسرا سسر اور تیسرا اسکا استاد۔ آپؐ نے استاد کو ان تینوں سے اعلیٰ قرار فرمایا۔ خود آپؐ نے خود کو معلم بنا کر بھیجنے کا واضح فرمایا۔حضرت علیؓ نے تو یہاں تک فرما دیا کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھا دیا وہ میرا آقا ہے اور یہ بھی آپؓ  کا حکم ہے اگر تم بادشاہ بھی ہو تو اپنے باپ اور استاد کے احترام کیلئے کھڑے ہو جائو۔ آپ حضرت علیؓ ہی کا یہ عالیشان قول ہمارے بحرانوں کی جامع و خوبصورت نشاندہی اور انکا حل پیش کرتا ہے فرمایا اہل علم کی بدحالی زوال کی علامت ہے۔ خوشامد سے منع کیا گیا ہے لیکن استاد کی خوشامد کو جائزہ قرار دیا گیا ہے۔ غرض ایسے اقوال زریں احادیث مبارکہ احکام خداوندی اور اسلامی روایات سے کتب بھری پڑی ہیں جن میں استاد کی اہمیت و فضیلت اجاگر کی گئی ہے۔
 شرح خواندگی میں اضافہ کے خواہاں ہمارے حکمران دانشور و دیگر ارباب اختیار دوسرے ممالک کے دورے کرتے ہوئے وہاں کے نظام تعلیم، نصاب تعلیم، عمارات اور دیگر تمام امور کا جائزہ تو لیتے ہیں لیکن اس نظام کا اصل محرک اصل روح استاد اسکے کردار و عمل کو کیوں نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہمارا استاد کمرہ جماعت میں بھی دال روٹی اور یوٹیلٹی بلز کے مسائل و تفکرات میں کھوایا ہوتا ہے۔ہمیں اپنے پیارے ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور شاہراہ ترقی پر گامزن کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اپنے معیار تعلیم کو بلند کرنا ہوگا ۔