بلوچ زلزلہ زدگان تنہا نہیں

25 اکتوبر 2013

 بلوچستان( آواران) میں آنے والے حالیہ زلزلے کے نتیجہ میں یہاں کے مکینوں کو شدید مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس قدرتی آفت نے جہاں لوگوں کو ان کے پیاروں سے ہمیشہ کیلئے جُدا کردیا وہیں ہزاروں لوگ کچھ ایسے بے گھر ہوئے کہ ان کے سر پر چھت کے نام پر صرف نیلا آسمان ہی رہ گیا۔ وفاقی حکومت نے جو گو ناگوں اندرونی و بیرونی مسائل کا شکار ہے اس سلسلے میں ایک ریلیف فنڈ بھی قائم کیا ہے تاکہ امداد کے منتظر لوگوں کی بحالی میں مدد کی جا سکے۔ صوبہ بلوچستان کی حکومت نے بھی اس سلسلے میں دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئر مین ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنی ہی قابل تقلید روایت کو برقرار رکھتے ہوئے زلزلہ زدگان کیلئے ایک ریلیف فنڈ قائم کیا ہے۔ اس فنڈ میں انہوں نے خود اور ان کے رفقائے کار نے ابتدائی عطیات بھی جمع کرائے۔ اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے قوم سے اپیل بھی کی۔ جس کے نتیجے میں 23 لاکھ روپے کی نقدرقم، 27 لاکھ روپے کی اجناس کل 50 لاکھ مالیت کا ضروریات زندگی کا دیگر سامان اکٹھا ہوا۔ یہ سامان جمعرات کی صبح ٹرکوں کے ذریعے کوئٹہ بھجوایا گیا ہے جہاں نظریہ پاکستان کے بورڈ آف گورنرز کے رکن سید فصیح اقبال آف کوئٹہ اسے رینجرز کے حوالے کرینگے جو بعد ازاں یہ سامان متاثرین میں تقسیم کرینگے۔ سامان کی روانگی کے وقت ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کے علاوہ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کرنل (ر) جمشید احمد ترین، ڈاکٹر رفیق احمد، میاں فاروق الطاف، شاہد رشید،  مولانا شفیع جوش اور ڈاکٹر پروین خان بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا کہ آزمائش اور ابتلا کے ہر موقع پر قوم نے دل کھول کر اپنے دکھی بہن بھائیوں کی امداد کی ہے۔ بلوچستان کے عوام ہمارے بھائی ہیں اس مصیبت میں ہم انہیں تنہا چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، ہم ان کی ہرممکن مدد کریں گے اور یہ حکومتی ذمہ داری ہے کہ بے گھر افراد کے گھر تعمیر کرنے میں ان کی مدد کرے۔ انہوں نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ ریلیف فنڈ میں عطیات دینے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ جناب ڈاکٹر مجید نظامی نے ابتلا کے ہر وقت میں ریلیف فنڈ قائم کئے ہیں اور ذاتی عطیہ سے آغاز کرتے ہیں اور قوم بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان فنڈز میں بھرپور حصہ لیتی رہی ہے۔ جناب ڈاکٹر مجید نظامی کی کوششوں سے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد پاکستان کے حامی لاکھوں محصورین کو اب تک 2 کروڑ 67لاکھ 82 ہزار 93 روپے کشمیر ریلیف فنڈ کے ذریعے، کشمیری مجاہدین کو 2 کروڑ 92 لاکھ 37 ہزار 31 روپے، اکتوبر 2005ء کے زلزلہ زدگان کو 3 کروڑ 36 لاکھ 2 ہزار 230 روپے کا، بلوچستان میں ہی 2008ء کے زلزلہ متاثرین کو 95 لاکھ 27 ہزار 654 روپے، سوات و مالا کنڈ متاثرین کو ایک کروڑ 64 لاکھ 76 ہزار 636 روپے، اگست 2010ء کے سیلاب متاثرین کو 2 کروڑ 15 لاکھ 69 ہزار 300 روپے اور 2011ء میں سندھ میں آنیوالی بارشوں کے متاثرین میں 25 لاکھ روپے بطور امداد تقسیم کئے گئے۔ اسکے علاوہ انہوں نے انتہائی خاموشی سے ایسے سینکڑوں غریب طلبا و طالبات کے تعلیمی اخراجات و کفالت کا بھی بیڑہ اٹھایا ہوا ہے جو معاشی تنگی کے سبب ایسا ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے جب بھی قوم کے نام اپیل کی ہے قوم نے انکی آواز پر ہمیشہ لبیک کہا اور عطیات، اجناس اور سہولیات دینے سے کبھی انکار نہیں کیا ہے اور ان فنڈز میں حصہ لینے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے خواتین و حضرات اور ریٹائرڈ پنشنر بھرپور حصہ لیتے ہیں۔