ملاوٹ۔۔ ناقابل معافی جرم

25 اکتوبر 2013

خالد یزدانی .....
حدیث ہے کہ ’’جس نے ملاوٹ کی وہ ہم سے نہیں ہے‘‘ اس حدیث نبوی میں صاف صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ملاوٹ کرنے والا شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ’’ہم میں سے نہیں‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص جو ملاوٹ کرکے دوسرے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچاتا ہے وہ مسلمان بھائی کا دوست کیسے ہوا؟
کیونکہ ملاوٹ شدہ دودھ ہو یا انسانی خوراک اگر وہ  خالص حالت میں نہیں ہے تو وہ مضر صحت ہے اسی طرح اگر کوئی دوا دو نمبراور   مقررہ معیار کے مطابق  نہیںہے تو اسے استعمال کرنے والا اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو سکتا ہے ۔ بلا شبہ ملاوٹ کے  اس  مہلک دھندے کا تعلق انسان کی زندگی اور موت سے جا ملتا ہے۔ ایسی ملاوٹ شدہ اشیاء فروخت کرنے والے انسانیت کے دوست نہیں دشمن کہے جا سکتے ہیں۔
زیادہ سے زیادہ نفع کمانے اور راتوں رات امیر بننے کی دوڑ میں ہم اچھے برے کی تمیز بھولتے جا رہے ہیں ۔ اصل چیزوں میں ملاوٹ کرکے یعنی دودھ میں پانی یا دیگر  مضر صحت  اشیاء سے اس کی تیاری کسی لحاظ سے انسانی صحت کیلئے مفید نہیں۔ اس   کے علاوہ مرچوں میں لکڑی کا برادہ رنگ کرکے ملایا جا رہا ہے یا چائے کی پتی میں ملاوٹ کی خبریں آئے روز میڈیا کے ذریعے سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ مرچ مصالحوں کے ساتھ ساتھ دو نمبر ادویہ کی فروخت بھی عروج پر ہے۔ جس طرح نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے اپنی رگوں میں زہر اتار رہے ہوتے ہیں اسی طرح ملاوٹ شدہ چیزیں بھی انسانی جسم میں زہر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ عام آدمی کھانے پینے کی روزانہ  کی اشیاء کو  معمول کے مطابق استعمال کرتا ہے کہ اس سے اس کی اور اس کے اہل خانہ کی صحت بہتر رہے گی لیکن اگر وہی اشیاء ملاوٹ شدہ ہیں تو وہ انسانی صحت کو تباہ کر دیں گی۔ دیکھا جائے تو ملاوٹ کا گھنائونا کاروبار ظہور اسلام سے پہلے سے چلا آ رہا ہے مگر   دین اسلام نے اس سلسلے میں واضح ہدایات دی ہیں۔ جس کے بعد واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی  مسلمان کے ہاتھوں دوسرے مسلمان  بھائی  کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔  اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ معاشرے  میں   کوئی فرد چوری، ملاوٹ اور ناانصافی جیسے کام نہ کرے بلکہ ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائے ۔ کارو بار زندگی میںاگر کوئی چیز جس میں ذرا سا بھی نقص ہو وہ بھی اگر کسی کو بیچنی ہو تو وہ گاہک کو پہلے اس کی خامی سے آگاہ کرے۔
ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف قانون بھی موجود ہے اور وقتاً فوقتاً متعلقہ ادارے ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کرتے رہتے ہیں مگر’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘کے مصداق ملاوٹ کرنے والوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی دودھ میں ملاوٹ کر رہا ہے تو کوئی آٹا، دال اور چائے کی پتی میں ہیر پھیر کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ مردہ  ضمیر لوگ  چند پیسوں کے لالچ میں انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا کھیل رہے ہوتے ہیں ۔اکثر حکومتی اداروں کی طرف سے اعلانات  بھی سامنے آتے ہیں کہ فلاں تاریخ تک ملاوٹ کرنے والے اپنے آپ کو درست کر لیں ورنہ ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کو جرمانہ کے علاوہ سزا بھی دی جائے گی۔ مگر ان اعلانات پر عملدرآمد کم کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آج بھی شہروں، دیہاتوں میں ہر جگہ ملاوٹ والی اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ اس سے زیادہ فکر انگیز بات اور کیا ہو گی کہ تھوک فروش ہو یا پرچون والا اس سے ایک ہی شے کی مختلف اقسام اور ان کی مختلف قیمتیں وصول کی جا رہی ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر دکاندار سے سرخ مرچ، ہلدی، گرم مصالحے، دالیں، بیسن، طلب کرنے پر  گاہک سے پوچھا جاتا  ہے کہ کونسی اشیاء چاہئے، کتنے روپے کلو والی چاہئے اور  دکاندار ان کی دو تین قسمیں بھی  بتا دیتا ہے۔ اب خریدار پر منحصر ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق کون سی چیز خریدتا ہے۔ دنیا بھر میں عموماً کھانے پینے کی اشیاء خالص اور ان کے نرخ یکساں ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے وطن عزیز میں معاملہ اس کے برعکس ہے اور دکاندار گاہک کو فخر سے بتاتا ہے کہ ہمارے پاس ہر قسم  اور ہر معیارکی اشیاء موجود ہیں خالص بھی اور ملاوٹ والی بھی۔
دیکھا گیا ہے ملاوٹ ختم کرنے کی جب بھی مہم زور شور سے چلائی گئی کچھ اور فرق پڑے نہ پڑے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں فرق ضرور پڑا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ دودھ یا دہی کی قیمت آج سے مقرر کی جاتی ہے کہ دودھ پچاس روپے اور دہی ساٹھ روپے کلو فروخت ہو گا اس کے نتیجہ میں دودھ پچاس سے ساٹھ روپے کلو اور دہی ستر روپے فروخت ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح صحت مند جانور وںکے گوشت کو فروخت  کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں کہ بیمار جانور یا گوشت میں پانی کی آمیزش نہ کی جائے۔  لیکن اس کے نتیجہ میں گوشت فروخت کرنے والوں کی دکانوں پر سرکاری نرخ تو دکھائی دیتے ہیں مگر گوشت مہنگا ہی فروخت ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل کا واقعہ ہے ہمارے محلے میں دودھ دینے والے گوالے سے کسی نے پوچھا کہ بھائی تم نے دودھ میں کتنا پانی ملایا ہے تو وہ بڑی معصومیت سے اپنی سائیکل کے دونوں طرف لٹکے ڈرموں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا دائیں طرف کے ڈرم میں چار کلو پانی ملا جبکہ  بائیں طرف والے ڈرم  میں    بھینس کے ساتھ  تھوڑا سا گائے کا دودھ اور پانی  ملا دودھ دستیاب ہے۔ اس گوالے نے بعدازاں پورے محلے  میں یہ وعدہ کرکے  قیمت بڑھائی کہ آئندہ سے میں آپ سب کو خالص دودھ مہیا کروں گا اور چند دن اس پر عمل کرنے کے بعد وہ  آہستہ آہستہ پھر پرانی ڈگر پر آ گیا۔
دیکھا جائے تو ہمارے لوگوں میں ملاوٹ کی عادت اب اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ اس سے چھٹکارا نظر نہیں آ رہا نفسا نفسی کے اس دور میں راتوں رات امیر بننے کے چکر میں اسی طرح کے گھنائونے کام ہوتے رہیں گے اور ان کے سدباب کے لئے کام کرنے والی سرکاری مشینری بھی کوئی قابل ذکر اقدامات نہ کر سکے گی۔ اس کے لئے ہم سب کو باہم متحد ہو کر ایسا کام کرنے والوں کے خلاف ڈٹ جانا ہو گا ورنہ  دودھ سے لے کرگھی ، آئل اور کھانے کی دیگر اشیاء میں ملاوٹ کرکے اور اسے اصل کہہ کر منہ مانگے داموں فروخت کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ آج بھی لوگ زندگی بچانے کے لئے اصلی ادویات کے نام سے جعلی ادویات کھا کر موت کی نیند سو رہے ہیں اور کچھ غیر معیاری اشیاء خور و نوش سے آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلے جا رہے ہیں۔ صحت مند معاشرہ کے قیام کے لئے مثبت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملاوٹ کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہو بلکہ  انہیں قانون کے شکنجے میں بھی لایا جا سکے۔