کشمیر اور ڈرون حملوں کے تذکرے کے بغیر نوازشریف‘ اوبامہ ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ …… وزیراعظم قوم کو بتائیں‘ انہوں نے دورۂ امریکہ میں کیا کھویا‘ کیا پایا؟

25 اکتوبر 2013

امریکی صدر باراک اوبامہ اور وزیراعظم میاں نوازشریف کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق دونوں رہنمائوں میں مختلف معاملات پر تبادلہ خیال اور دونوں ملکوں کے اشتراک اور باہمی مفاد و احترام کے حوالے سے بات ہوئی۔ دونوں رہنمائوں نے دوستانہ تعلقات کے فروغ پر زور دیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ تعلقات کے فروغ کی بنیاد باہمی احترام ہونا چاہیے۔ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال‘ علاقائی اور عالمی امن کے حوالے سے اشتراک پر بھی بات ہوئی۔ صدر اوبامہ نے علاقائی امن میں اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان امریکہ کا دیرینہ شراکت دار ہے اور خطے میں امن کیلئے اس کا کردار اہم ہے۔ اوبامہ نے میاں نوازشریف کو تیسری بار وزیراعظم بننے اور جمہوری عمل کے فروغ پر مبارکباد دی۔ دونوں رہنمائوں نے توانائی بحران کے خاتمہ کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ میاں نوازشریف نے باہمی تجارت اور پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔ ملاقات میں دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا اور میاں نوازشریف نے انتہاء پسندوں کے خاتمہ میں امریکہ کی مدد پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنمائوں نے دہشت گردی کی مذمت کی۔ دونوں رہنمائوں نے تاپی گیس کے منصوبے پر بھی بات کی۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنمائوں نے پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری پر زور دیا۔ صدر اوبامہ نے کہا کہ ہم پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔
اوبامہ ‘ نوازشریف ملاقات اس تناظر میں انتہائی اہم قرار دی جا رہی تھی اور پورے عالمی میڈیا نے اس ملاقات کو اپنی خبروں اور تبصروں میں فوکس کیا ہوا تھا کہ اس ملاقات میں مسئلہ کشمیر کی بنیاد پر پاکستان بھارت کشیدگی اور جنگی ماحول کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ اس ملاقات کے موقع پر حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں اور میڈیا نے پاکستان میں جاری امریکی ڈرون حملوں کے مضمرات کو اسی تناظر میں اجاگر کیا کہ نوازشریف‘ اوبامہ ملاقات میں ڈرون حملے روکنے کی فضا ہموار ہو جائے۔ میاں نوازشریف خود بھی امریکہ روانہ ہوتے وقت اور امریکہ میں قیام کے دوران میڈیا اور مختلف وفود سے بات چیت کے دوران کشمیر اور ڈرون حملوں کو فوکس کرکے باور کراتے رہے کہ وہ صدر اوبامہ اور واشنگٹن انتظامیہ کے سامنے یہ دونوں ایشوز پاکستان کے بہترین مفادات کے تحت پرزور انداز میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے امریکہ روانگی کے وقت مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں پیدا ہونیوالی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے صدر اوبامہ کیلئے تجویز پیش کی کہ وہ اس مسئلہ کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کا کردار ادا کریں جبکہ ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی انہوں نے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کیلئے پیدا ہونیوالی مشکلات کو اجاگر کیا اور کہا کہ وہ اسی تناظر میں ڈرون حملوں پر صدر اوبامہ سے ملاقات کرینگے۔ اگرچہ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم میاں نوازشریف نے اس امر کا تقاضا کیا کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں جبکہ انہوں نے میڈیا کو اس امر سے بھی آگاہ کیا کہ دوران ملاقات انہوں نے مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ایشو بھی انہوں نے اٹھایا ہے مگر وائٹ ہائوس میں صدر اوبامہ اور میاں نوازشریف کے مابین تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی ون آن ون ملاقات کے حوالے سے پانچ صفحات پر مبنی 25 سو الفاظ کا جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا‘ ان میں کوئی ایک لفظ بھی مسئلہ کشمیر اور ڈرون حملوں سے متعلق موجود نہیں۔ اسی طرح صدر اوبامہ نے بھی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مسئلہ کشمیر کا تذکرہ کیا‘ نہ ڈرون حملوں کے بارے میں کئے گئے سوالات کے جواب میں کسی قسم کی وضاحت پیش کی۔ اسکے برعکس ملاقات کے حوالے سے میڈیا کے ذریعے جو باتیں منظر عام پر آئی ہیں‘ ان سے واضح طور پر یہ عندیہ ملتا ہے کہ دوران ملاقات صدر اوبامہ نے عملاً بھارت کے وکیل کا کردار ادا کرتے ہوئے دراندازی کے معاملات میں پاکستان سے وہی تقاضا کیا جو پہلے بھارت کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان بشمول حافظ محمد سعید کی بھارت حوالگی اور پاکستان سے دراندازی روکنے کا بھی تقاضا کیا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی باور کرایا کہ پاکستان کو قبائلی علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرنی چاہیے۔ اسی طرح اوبامہ نے امریکی کانگرس کی خارجہ امور کمیٹی کی جانب سے ہیرو قرار دیئے گئے پاکستانی مجرم ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا بھی تقاضا کیا چنانچہ اس تناظر میں اوبامہ‘ نوازشریف ملاقات کو پاکستان کیلئے امریکی‘ بھارتی تقاضے بڑھانے کی نشست کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا جبکہ پاکستان کیلئے اس ملاقات کی اہمیت ’’نشستند‘ گفتند‘ خوردند‘ برخاستند‘‘ کے سوا اور کچھ نہیں۔
اس ملاقات میں انرجی‘ ایجوکیشن اور دہشت گردی کو فوکس کیا گیا جبکہ پاکستان کو درپیش اصل مسائل بشمول پاکستان کی سالمیت کیخلاف بھارتی جارحانہ عزائم کی پیش بندی‘ یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل اور پاکستان کی خودمختاری کو براہ راست چیلنج کرنیوالے امریکی ڈرون حملوں کے معاملہ کو ملاقات کے ایجنڈہ میں شامل نہ کرکے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ امریکہ کو بھارت کی جانب سے پاکستان کیلئے پیدا کئے جانیوالے مسائل کے حل سے کوئی سروکار ہے‘ نہ وہ ڈرون حملوں سے متعلق اپنی پالیسی کیخلاف کوئی بات سننا چاہتا ہے جبکہ توانائی کا بحران حل کرنے کیلئے پاکستان کی مدد کرنے کے معاملہ میں پاکستان ایران گیس پائپ لائن کے بجائے تاپی گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل پر زور دیا گیا جو پاکستان سے زیادہ بھارت کے مفاد میں ہے اور ترکمانستان سے براستہ افغانستان یہ گیس پائپ لائن پاکستان پہنچتے پہنچتے مزید دس سال ضائع ہو جائینگے۔
اس تناظر میں تو اوبامہ‘ نوازشریف ملاقات سراسر امریکی اور بھارتی مفادات کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے جس کے مشترکہ اعلامیہ میں موجود نکات بھی اس حقیقت کی چغلی کھا رہے ہیں کہ ملاقات میں اٹھائے گئے غیرمتعلقہ ایشوز نہ صرف ہماری سفارت کاری کی ناکامی ہے بلکہ وزیراعظم پاکستان ملک کے مفاد میں کسی ایک نکتے پر بھی صدر اوبامہ کو قائل نہیں کر سکے۔ اصولی طور پر تو انہیں صدر اوبامہ کی جانب سے ممبئی حملوں کے تناظر میں حافظ محمدسعید کے تذکرہ پر مسلمانوں کیخلاف سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگائوں کی دہشت گردی میں ملوث بھارتی کرنل پروہت کی پاکستان حوالگی کا تقاضا کرنا چاہیے تھا اور بھارت کی جانب سے اب تک کی گئی کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں اور کراچی اور بلوچستان میں بھارتی ایجنسی کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے معاملات سے امریکی صدر کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ بلاشبہ دہشت گردی کا ناسور ہماری معیشت کی تباہی پر منتج ہو رہا ہے جس پر امریکہ کو اپنی سلامتی کے حوالے سے تشویش ہے تو ڈرون حملوں کی بنیاد پر پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی ہماری سلامتی کیلئے بھی سنگین خطرے کا باعث بن رہی ہے۔ اسکے تدارک کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کرنا اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر متفق ہونا یقیناً دونوں ممالک کے مفاد میں ہے مگر جس طرح امریکہ کو اپنی سلامتی عزیز ہے اسی طرح ہمیں بھی اپنی سلامتی عزیز ہونی چاہیے۔ صدر اوبامہ نے تو قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ قائم کرنے پر زور دیا مگر میاں نوازشریف دہشت گردی کے محرکات کے تدارک کیلئے نہ ڈرون حملے رکوانے پر صدر اوبامہ کو قائل کر سکے‘ نہ بھارتی دہشت گردی کی اصل تصویر انہیں دکھا سکے جبکہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنا پڑیگا۔ اس کیلئے بھی تو عملی اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے مگر وہ دہشت گردوں کیخلاف سکیورٹی فورسز کے فیصلہ کن اپریشن کے معاملہ میں آج بھی گومگو کا شکار نظر آتے ہیں اور یہی ہماری وہ کمزوری ہے جس سے فائدہ اٹھا کر امریکہ‘ بھارت اور پاکستان مخالف دیگر قوتوں کو ہم پر ملبہ ڈالنے اور تقاضے بڑھانے کا موقع ملتا ہے۔
میاں نوازشریف اس ملاقات میں پاکستان کے بہترین مفاد میں کیا حاصل کرکے آئے ہیں‘ یہ تو ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ میں بخوبی عیاں ہے۔ اس اعلامیہ کی بنیاد پر تو قوم کو سوائے مایوسی اور ناکامی کے کچھ نظر نہیں آرہا۔ وزیراعظم اب لندن قیام کے بعد ملک واپس لوٹ رہے ہیں‘ انہیں ملک واپسی پر پہلی ہی فرصت میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس میں صدر اوبامہ اور واشنگٹن انتظامیہ سے طے پانے والے تمام معاملات پیش کرنے اور حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر اس دورے کے تناظر میں ان پر قوم کا اعتماد مجروح ہو گا تو انہیں اور انکی پارٹی کو ہی اس کا نقصان اٹھانا پڑیگا۔