بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل

25 اکتوبر 2013

افشاں احتشام   ....

کسی بھی ملک میں جب آبادی اس ملک کے دستیاب وسائل سے بڑھ جائے یا تکنیکی الفاظ میں آبادی کی افزائش میں شرح نمو اسی ملک کی اقتصادی ترقی میں شرح افزائش سے تیز ہو تو عوام کی خوشحال طرز زندگی کی منزل سراب بن جاتی ہے یہ کام اس وقت بھی کٹھن رہتا ہے جب آبادی اور اقتصادیات میں یکساں شرح سے اضافہ ہو۔ اسی حقیقت کے پیش نظر گوشۂ زمین پر بسنے والی جس قوم نے بھی اس فلسفے کی حقیقت کو جانا اور اس پر عمل کرنے میں دوسروں پر سبقت لے گئیں مالتھس نے اپنے نظریہ آبادی میں ان مصائب اور عوابث کا تذکرہ کیا ہے جو آبادی کے بے ہنگم پھیلائو کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں انکا یہ نظریہ کہ وسائل میں اضافہ حسابی لحاظ جبکہ آباد ی میں اضافہ جیومیڈیکل طریقے سے ہوتا ہے آج کے تیز رفتار زمانے میں بجا طور پر درست معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی کے سنگین مسئلے نے نہ صرف ہماری اقتصادی ترقی کے ثمرات کو بے حد کم کر دیا ہے بلکہ ہماری معاشرتی اور اخلاقی زندگی پر بھی بے حد منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی اس مسئلے سے دوچار ہے اور پاکستان میں اس مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر نجی شعبے کے ساتھ ساتھ بہبود آبادی کے مسائل کا شعور پیدا کرنا اور اس کو کنٹرول کرنے کے طریقے دریافت کرنا ہے۔ کچھ عرصہ سے وفاقی وزیر بہبود آبادی پارٹنرز ان پاپولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ کی 14 ویں بورڈ میٹنگ میں شرکت کے لئے بیجنگ تشریف لے گئے۔ جہاں ممبر ممالک نے اپنے اپنے ممالک میں بہبود آبادی تولیدی صحت ماحول اور دیگر موضوعات پر بہتری کے لئے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ پاکستان کا نقطۂ اٹھاتے ہوئے وفاقی وزیر بہبود آبادی بورڈ کی توجہ اس بات پر مبذول کرائی  کہ دنیا بھر میں کوئی کام تنہا کوئی ادارہ انجام  نہیں دے سکتا اور نہ ہی حکومتی سطح پر تمام اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پارٹنرزان پاپولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ جو کہ آبادی، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت، تعلیم و غربت اور دیگر اس نوعیت کے اہم موضوعات پر کام کرنیوالی ایک بہت بڑی تنظیم ہے جس میں لگ بھگ 30ممالک دو عشروں سے نہایت تندہی کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ 2013ء میں دنیا کی آبادی سات ارب ہونے کا امکان ہے اس سے قبل 1999ء میں دنیا کی آبادی 6 ارب تھی، آبادی میں یہ اضافہ ترقی پذیر ممالک میں وقوع پذیر ہوگا دنیا کے بہت سے ممالک میں بارآوری کی شرح گر رہی ہے لیکن اس کے باوجود دنیائی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ آبادی سے متعلق پیشگوئیوں کی بنیاد اس مفروضے پر قائم ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں شرح بارآوری بھی اس طرح گرے گی جس طرح آج ترقی یافتہ ممالک میں گر رہی ہے یعنی دو بچے فی شادی شدہ عورت موجودہ دور میں دنیا سے سب سے زیادہ بارآوری میں پائی جاتی ہے جہاں 7.4 بچے فی شادی شدہ عورت جبکہ دنیا میں کم ترین بارآوری تائیوان میں پائی جاتی ہے جہاں ایک بچہ فی شادی شدہ عورت ہے۔ دنیا کی آبادی میں آج بڑا حصہ (1.2 بلین) نوجوانوں کا ہے یعنی اس میں تقریباً 90 فیصد نوجوان ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں یہ نوجوان 10 میں 8 افریقہ اور ایشیاء سے تعلق رکھتے ہیں اگلی چند دہائیوں میں یہ نوجوان دیہی علاقوں سے نکل کر شہروں کا رخ کریں گے اور ماہرین آبادی کے لئے یہی سب سے بڑا سوال ہے کہ کیا انہیں مناسب تعلیم، روزگار، رہائش اور صحت کی سہولیات میسر ہو سکیں گی؟ اور ان کی امیدیں کس حد تک بر آئیں گی۔   آبادی میں بے ہنگم اضافے سے پانی کا مسئلہ، بیروزگاری، توانائی کا بحران اور دہشت گردی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مسائل کو کم کرنے کے لئے معاشی شرح نمو میں اضافہ ضروری ہے کم آبادی کا تیزی سے بڑھنا ہمارے وسائل کو محدود کر رہا ہے اور انہیں مسائل میں تبدیل کر رہا ہے۔ اگر آبادی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو سونامی اور ڈیزاسٹر کو جنم دے گا۔ آئمہ کرام اور سوشل موبلائزر کے طور پر سامنے لا کر عوام میں آبادی کو کنٹرول کرنے سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کی جائے ۔