وزیراعلیٰ پنجاب کا دو روزہ دورہ چین

25 اکتوبر 2013

 وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے عوام کو توانائی کے بحران سے پیدا ہونیوالے اندھیروں سے نکالنے کا عہد کیا ہے۔ چین کی حکومت اور سرمایہ کار توانائی بحران سے نکالنے کیلئے اپنا کردارادا کریں۔
 وزیراعظم میاں نواز شریف نے حلف اٹھانے کے بعد چین کا پہلا دورہ کیا جس میں توانائی بحران سے نمٹنے ، کمزور اقتصادیات کو مضبوط کرنے، سست روی کی شکار ملکی پیداوار کو بڑھانے اورکرنسی کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال رکھنے کے منصوبہ جات شامل تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ان منصوبہ جات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے چین کا دورہ کررہے ہیں ۔ میاں شہباز شریف چینی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے پنجاب میںسولر انرجی سسٹم لگا کر توانائی بحران کو ختم کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ چین کی طرف سے 32 سو میگاواٹ بجلی کی آفر کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ہمیں چین کیساتھ تجارتی تعلقات کووسعت دیکر اپنی معیشت کو مضبوط کرنا چاہئے۔ بھارت چین کیساتھ اگر دس معاہدے کرتا ہے تو 10کو ہی پورا کرتا ہے اسی لئے چین اور بھارت کے مابین تجارتی حجم2015 تک ایک سو ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے جبکہ پاکستان اور چین کا تجارتی حجم گزشتہ سال 12 ارب ڈالر تک تھا جو آئندہ تین سال تک 15 ارب ڈالرتک پہنچانے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ سرحد پر کشیدگی ہونے کے باوجود بھارتی وزیرعظم نے اب بھی چین سے 10معاہدے کیے ہیں جبکہ ہم قریبی ہمسایہ ملک کو چھوڑ کر سات سمندر پار دوستیاں بڑھانے کیلئے بھاگ رہے ہیں، چینی کمپنیوں اور حکومت کے ساتھ جتنے بھی معاہدے کیے گئے ہیں انہیں عملی جامہ پہناکر تجارت کو وسعت دینی چاہئے اور خصوصی طورپر توانائی بحران کیلئے چین کی مدد بہت ضروری ہے۔ چین کراچی میں ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے جوہری پلانٹ بھی لگانے کا اعلان کرچکا ہے سولر لگانے اور ڈیم بنانے میں بھی اس سے مدد لی جائے۔