روس کی پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی خواہش

25 اکتوبر 2013

 روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں دوطرفہ تعاون بڑھانا اور مستحکم تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کیساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو بھی وسعت دینا چاہتے ہیں۔ وہ گزشتہ روز کریملن میں 19 ملکوں کے سفیروں کے کاغذات تقرری کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریب میں روس میں پاکستان کے نئے سفیر عالمگیر بابر نے اپنے کاغذات تقرری صدر روس کے حوالے کئے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد سیاسی قیادت نے خارجہ پالیسی کی تشکیل کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا تو ترجیح روس کے ساتھ تعلقات کو دیتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان کا روس کا دورہ طے ہوا لیکن عین موقع پر وزیراعظم روس کے بجائے امریکہ چلے گئے جسے روسی قیادت نے اپنی توہین سمجھا اور طویل عرصہ پاکستان کیلئے بغض کا مظاہرہ کیا۔ وہ پاکستان کیخلاف کسی بھی جارحیت میں بھارت کیساتھ کھڑا رہا۔ اب بھارت کی خارجہ پالیسی میں امریکہ کی طرف واضح جھکائو پایاجاتا ہے تو روس نے بھی پاکستان کیساتھ تعلقات کو اہمیت دینا شروع کردی ہے۔ بھارت امریکہ سے تعلقات کو بڑھانے کیساتھ ساتھ روس کیساتھ بھی اپنے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے جبکہ ہمارا مکمل جھکائو امریکہ کی طرف ہے۔اب پاکستانی قیادت کے پاس 1950 کی غلطی سدھارنے کا موقع ہے۔امریکہ کیساتھ معمول کے تعلقات قائم رکھتے ہوئے روس کیساتھ تعلقات کے حوالے سے وہی پالیسی اختیار کی جانی چاہئے جو چین کیساتھ ہے۔