سوارہ جیسی فرسودہ رسومات

25 اکتوبر 2013

سوات میں مختلف جرگوں کے دوران 5 لڑکیوں کو سوارہ دینے کے احکامات جاری کر دیئے گئے جن لڑکیوں کو سوارہ میں مخالف خاندان کے افراد سے شادی کا حکم دیا گیا ان میں 2 بچیاں انتہائی کمسن ہیں۔
سوارہ یا ونی ایک ہی رسم کے دو نام ہیں جس کے ذریعے 2 خاندانوں میں تنازعات حل کرنے کیلئے جرگہ یا پنچائیت کے ذریعے بطور جرمانہ یا ہرجانہ لڑکیاں بیاہی جاتی ہیں۔ یہ انتہائی قبیح رسم ہے جس میں لڑکی کی مرضی کے بغیر زبردستی مخالف کے ساتھ نکاح کر دیا جاتاہے۔ ہمارے معاشرے میں نہ جانے متوازی عدالتوں کا نظام کب ختم ہو گا؟ جرگوں اور پنچائیتوں کا سسٹم ختم ہونا چاہیے سپریم کورٹ اس متوازی نظام کو پہلے ہی ختم کرنے کا حکم دے چکی ہے۔لیکن ابھی تک خفیہ طور پر یہ سسٹم جاری ہے۔ سوات آپریشن کے بعد وہاں پر سویلین رولز نافذ کرنے چاہئیں تھے۔ بے راہ روی کے شکار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے وہاں پر انڈسٹری لگانی چاہیے تھی لیکن حکومت نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی جسکے باعث بے روزگار نوجوان پھر انتہاء پسندوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔حکومت اب جرگوں اور پنچائیتوں کے سسٹم کو ختم کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والوں کو متحرک کرے ‘سوارہ اور ونی جیسی فرسودہ رسومات کو ختم کرنے کیلئے مروجہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے۔