وزیراعظم نواز شریف کا اگلا روس کا دورہ ہوناچاہئے

25 اکتوبر 2013

 میرے خیال میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان آج سب سے بڑا مسئلہ بے اعتمادی کا ہے۔ امریکہ پاکستانی عوام ، پاکستانی حکومت ہماری افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ناقابل اعتبار ہی نہیں سمجھتا بلکہ یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ ہم سب جہادیوں کے لبادے میں چھپے ہوئے دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ ہم اُن کو تربیت دے کر پڑوسی ممالک اور خود امریکہ اور نیٹو فورسز کے خلاف استعمال بھی کرتے رہے ہیں۔ امریکہ کا اگلا الزام یہ ہے کہ امریکہ کے بار بار کہنے کے باوجود پاکستان نے حقانی گروپ جیسے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ شمالی وزیرستان پر حملہ کرنے سے کتراتے رہے ۔ شکیل آفریدی جس نے (بقول امریکہ) دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد اسامہ کو پکڑنے میں سی آئی اے کی مدد کی کو جیل میں ڈال دیا گیا، امریکہ اقوام متحدہ کی اجازت کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوا لیکن پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی نے افغانستان کے اندر نیٹو افواج کی کارروائیوں کی مدد کرنے کی بجائے اس کی راہ میں نہ صرف روڑے اٹکائے بلکہ پاکستان سے جہادی بھیج کر افغانستان میں دھماکے کروائے اور وہاں بیرونی افواج کی موجودگی کو دل تسلیم نہیں کیا۔
اس امریکی موقف کے مقابلے میں پاکستانی قوم نہایت دیانتداری سے یہ سمجھتی ہے کہ 9/11 کا واقعہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق غلط پالیسیوں اور فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل کے جنگی جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے پیش آیا جس میں9عرب امریکی شہری ملوث تھے۔ امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر کرنے کی بجائے افغانستان پر حملہ کردیا جو ایک جنگی جارحیت تھی بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی ،امریکہ کے اس کے بعد عراق پر چڑھ دوڑا جس کو خود اوباما اور جان کیری سمیت ساری امریکی قوم نے بھی عاقب نا اندیشی کہا جہاں تک ان حملوں کی اقوام متحدہ کی طرف سے تائید کا معاملہ ہے تو اس بات کو دنیا ماننے کو تیار نہیں چونکہ اقوام متحدہ سپر پاور امریکہ اور مغرب کا ایک طفیلی ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔پاکستانی قوم یہ بھی سمجھتی ہے کہ پاکستانی حکومتوں نے افغانستا ن پر امریکی حملے کیلئے ہوائی اور زمینی راستے، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے دے کر ملکی مفادات کے خلاف بزدلی کا مظاہرہ کیا اور ڈرون حملوں کی پسِ چلمن حمائت کرکے اپنے ملکی وقار کا سودا کیا اور اگر ایمنسٹی انٹر نیشنل کے مطابق ڈرونwarfare ماورائے قانون قتال ہوتے ہوئے جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے تو ہمارے وہ قائدین جنہوں نے ان حملوں کی اجازت دی بھی شریکِ جرم ہیں۔ ہم افغانیوں اور عراقیوں کی اپنی آزادی کیلئے لڑی جانے والی جنگ کو دہشت گردی نہیں سمجھتے۔ امریکی قائد جارج واشنگٹن اگر بیرونی تسلط سے جان چھڑا کر امریکہ کے ہیرو ہیں تو یہی کام کرنے والے افغان ،عراقی، فلسطینی اور کشمیری دہشتگرد کیسے بن گئے؟۔پاکستانی قوم سمجھتی ہے کہ دہشت گردی دراصل وہ ہے جو پاکستان میں بیرونی طاقتوں کی ایما پر کروائی جارہی ہے جس میں چالیس پچاس ہزار لوگوں نے جام شہادت نوش کیا۔ ہم عافیہ صدیقی پرہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہیں اور اس کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں شکیل آفریدی قومی مجرم ہے جس نے ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اعتماد میں لینے کی بجائے ریمنڈ ڈیوس جیسے قاتل اور سی آئی اے کے ارباب اختیار کے ساتھ تعاون کیا۔ پاکستانی قوم پاکستان کے اندر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے حق میں نہیں جب تک کہ یہ ان لوگوں کا صفایا کرنے کیلئے نہ ہو جن کے ہاتھوں میں بیرونی ہتھیار اور غیر ملکی کرنسی ہے ۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ امریکہ فلسطینی مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات کرواسکتا ہے تو کشمیری مسئلے کے حل کیلئے ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔ ہم بھارت کی افغانستان کے اندر رہ کر پاکستان دشمن سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم ڈرون حملوں کو ان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں جن کو امریکی آئین کی شق چھ بھی مکمل تحفظ دیتی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان، عراق، پاکستان اور لیبیا میں کارروائیاں بین الاقوامیLaw of Armed Conflict کی خلا ف ورزیاں ہیں۔ یہ وہ بین الاقوامی قوانین ہیں جن کو امریکہ کی سپریم کور ٹ نے امریکہ کے سپریم قوانین کہا ہے اس لئے امریکہ کی ڈرون حملوں کی کارروائی جس میں بے گناہ انسانوں کا قتل ہوتا ہے امریکی آئین کے بھی خلاف ہے۔
 اسکے علاوہ یہ 1929,1882,1864 اور1949 کی Genevaکنونشنز کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں بد ترین جنگی حالات میں بھی ہسپتالوں، زخمیوں ، قیدیوں اور سویلین پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور امریکہ سمیت کسی بھی ملک کو اس میں کوئی تحفظ نہیں دیا گیا بلکہ سب ممالک نے ان Conventions پر دستخط کئے ہیں۔
 قارئین اگر امریکہ اور پاکستانی قوم کی سوچ میں اتنا بڑا خلا ہے تو پھر امریکہ نے پاکستانی وزیراعظم کو امریکہ کے سرکاری دورے کی دعوت کیوں دی اور ملاقات سے پہلے ہمارے دبائے ہوئے 1.6 بلین ڈالر کو ادا کرنے کا حکم کیوں دے دیا؟ اس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔
1۔ آخر کار لگتا ہے کہ امریکہ سمجھ گیا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کی بجائے سیاسی اور سفارتی کوششوں سے ہی حل ہوگا۔
2۔ کرزئی اور اسکی فوج پر امریکہ اعتبار نہیں کررہا چونکہ پچھلے ایک سال میں افغان فوجیوں نے 75نیٹو سپاہیوں کوہلاک کیا ہے اور کرزئی یہ امریکی بات ماننے کو تیار نہیں کہ بعد از انخلا افغانستان میں 9عسکری اڈوں پر موجود امریکیوں پر افغانی قانون لاگو نہیں ہوگا اور وہ من مرضی کی کارروائیاں کر سکیں گے ۔
3۔امریکہ سمجھ گیا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کی ہر پگڈنڈی پاکستان سے گذر کر جاتی ہے۔
4۔ اگر امریکہ انخلا کے بعد افغانستان میں بیرونی حکام کا رہنا مشکل ہے تو کم از کم پاکستان کو تو اپنا دشمن نہ بنایاجائے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانہ ایک اڈے میں تبدیل کردیا ہے۔
5۔ پاکستان میں اب ایک ایسی حکومت ہے جس کے لیڈر سے ہاتھ ملانے کے بعد امریکہ کو اپنی انگلیاں گننے کی ضرورت نہیں۔ بھارت اور امریکہ سمیت ساری دنیا نواز شریف کو قابل اعتبار سمجھتی ہے۔
6۔ افغانستان اور پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور اثرو رسوخ کو روکنے کیلئے بھی پاکستان سے امریکی اچھے تعلقات ضروری ہیں۔
7۔ روس نے بھی پاکستان کے ساتھ اچھے سیاسی و معاشی تعلقات قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے یہ پاکستان کیلئے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے جس کو امریکہ شک کی نگاہ سے دیکھے گا، اب پاکستان SCO کا پکا رکن بھی سکتا ہے۔
8۔ امریکہ کے اندرونی معاشی و سیاسی حالات خراب ہورہے ہیں حالیہ حکومتی شٹ ڈائون نے ایک سیاسی بحران پیدا کردیا ہے ریپبلکن اور ڈیمو کریٹ میں یہ تنائو ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت چار کروڑ اسی لاکھ امریکی فوڈ سٹیمپ پر گزارہ کرتے ہیں ۔ بے روزگاری جو پچاس کی دہائی میں 2.5 فیصد تھی اب 7.3 فیصدی ہے ۔ امریکہ پہلے سے بہت زیادہ مقروض ہوچکا ہے اور جنگوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
9۔ بین الاقوامی سطح پر روس نے امریکہ کے خلاف محاذ کھڑا کرنا شروع کردیا ہے۔ شام میں امریکی پسپائی سے روس کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔
ان حالات میں پاکستان کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ امریکی جائز تحفظات دور کرکے ملک کو ان جنگی حالات اور دہشت گردی کی گرفت سے نکال کر معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔ امریکہ کے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کیلئے پاکستان ایک کلیدی کرداراد کرسکتا ہے۔پاکستانی حکومت کو اپنے ملک کو اسلحے سے پاک کرنا ہوگا ۔ہر وہ پاکستانی جو اپنے ملک کی سلامتی کیلئے لڑنے کو تیار ہے کو ریاست اور حکومت کے تابع کسی بھی سرکاری فورس کا حصہ بننا ہوگا امریکی رعونت اور دبائو کم کرنے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا اگلا دورہ روس کا ہوناچاہئے۔