’’دہشت گردوں کیلئے آ ہنی ہاتھ‘‘

25 اکتوبر 2013

اس صدی کا آغاز ہی کچھ انہونیوں سے ہوا۔ جمہوریت پسِ زنداں تھی مگر نام نہاد جمہوریت پسند غیر جمہوری طاقتوں کی کاسہ لیسی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آئے۔ پھر 9/11 کا واقعہ ہوا جو افغانستان پر امریکی اور نیٹو کی فوج کشی کی وجہ بن گیا۔ اس میں جنرل پرویز مشرف نے شمولیت کا جو فیصلہ کیا وہ جنگ پاکستان میں ایک خون آشام عشرہ مکمل کر کے نئی جہتوں کے ساتھ دوسرے عشرے میں داخل ہو چکی ہے۔اسی گزشتہ عشرے میں سیا سی نظریہ ضرورت کی عملی شکل مسلم لیگ ’’ق‘‘ کی تشکیل کر کے واحد طاقتور روبوٹ کے طور پر عوام میں اتارا گیا ۔تاریخ میں پہلی بار وردی والوں کو جمہوریت کا راگ الاپنے اور عوامی قائدہونے کے دعویداروں کی طرف سے کسی کو وردی میں  10بار الیکشن کروانے کے عزم کا اعلان کرتے سنا گیا۔عوام میں موقع پرستی اور بے حسی کو اس قدر فروغ دیا گیا کہ وہ من حیث القوم اپنی قومی جنگی پالیسی جاننے‘ کٹتی گردنوں ‘ اڑتے انسانی چیتھڑوں اور مستقبل کے متعلق سوال کرنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے۔انہی حالات میں دہشت گردی کی جنگ نے جنم لیا جس کے جوان ہونے کو مشرف اور اسکے بعد کی حکومتوں کی تنبیہ ‘ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے اعلانات ‘ مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے دھمکاوے‘ اہم شخصیات کے گرد حصّار بندی اور دیگر بڑے لیڈروں کی طرف سے مذّمتیں بالکل نہ روک سکیں۔
بہرحال آج ہم 60/70  ہزار پاکستانی جن میں فوجی‘سویلین‘ معصوم بچے اور بہکائے گئے شدت پسند شامل ہیں مروانے کے بعدقدرے محسوس کر رہے ہیں کہ اس سمت میں کچھ کرنا چاہیے۔حکومت کی طرف سے جو حالیہ دو اقدامات سامنے آئے ہیں وہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کا ترمیمی آرڈیننس 2013 اور ایک سپیشل انسدادِ دہشت گردی فورس کا کھڑا کیا جانا ہیں۔آئیں دونوں پر غور کرتے ہیں:۔یہ آرڈنینس صدر پاکستان نے مروجہ قانون کی ان خامیوں کو دور کرنے لئے رائج کیا ہے جس کے سبب دہشت گردی سے متعلق کیسز ہینڈل کر نے کیلئے فورسز اور انکے اپریشن غیر موثر ہو کر رہ گئے تھے۔ بنیادی طور پر یہ آرڈیننس گواہان اور استغاثہ کے افسران کو پرو ٹیکشن اور الیکٹرانک ذریعہ سے حاصل کی گئی شہادتوں کو عدالتوں میں پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ دیگر نمایاں خدوخال یہ ہیں:۔
۱۔یہ ایکٹ ان مقدمات کو لیتا ہے جو سکیورٹی اور ڈیفنس آف پاکستان سے متعلق ہوں یا پبلک آرڈر متعلقہ ٹارگٹ کلنگ‘اغوا برائے تاوان‘ سرقہ با لجبر/بھتہ‘ یا ایسے مقدمات جن کے متعلق معقول شکایت ہو یاقابلِ اعتماد اطلاع ہو یا ٹھوس وجوہات پرمبنی شک موجود ہو۔
ب۔تفتیشی افسر جو کہ انسپکٹر سے کم نہ ہوگا کسی ملزم کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک حراست میں رکھ سکتا ہے مگر پہلے تیس دن کے بعد اسے عدالت کو حراست پر مطمئن کرنا ہوگا۔
ج۔اگر تفتیشی افسر تیس دن میں کیس مکمل نہیں کر پاتا تو جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائیگی جو عدالت کو مطمئن کرتے ہوئے ملزم کو نوّے دن تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔ یہ ٹیم فوجی ‘نیم فوجی ‘ ایجنسیوں اورپولیس کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی ۔ پولیس سے کم از کم  SP رینک کا افسر نمائندگی کریگا۔
د۔جیلوں میں برقی آلات اور موبائل فون سختی سے ممنوع ہونگے جنہیں طاقتور جیمر(Jammer) کے ذریعے کنٹرول کیا جائیگا۔
ھ۔دہشت گردی کے کیسز کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے ۔
و۔عدالت کیسز کو روزانہ کی بنیاد پر چلائے گی اور سات دن میں فیصلہ دینا ہوگا۔ بصورت دیگر معاملہ متعلقہ ہائی کورٹ کے علم میں لایا جائیگا۔
ز۔اسکے علاوہ ٹرائل کے دوران گواہان‘ ججز اور استغاثہ کو پبلک سے مخفی رکھنے کیلئے سکرین کا استعمال ‘ جیلوں میں ہی ٹرائل‘ اچھے تفتیشیوں کیلئے انعامات وغیرہ کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
یہ آرڈیننس ایک بہت اچھی عملی کوشش ہے۔ مگر اپنی Compromised Society  میں اسکے خفیہ پن کا اڑ جانا اور اہلکاروں کا پابندیوں اور سہولیات سے زیادہ منافع کمانا عین متوقع ہے جب تک صوبائی حکومتیں کسی فول پروف سسٹم کے ذریعے سے ان پر عمل نہیں کر وائیں گی قانون نقش برآب ثابت ہوگا۔ دوسرا فورسز کو جب بھی پاور فل کیا جائے تو اسکے اوپر کنٹرول اس سے بھی زیادہ پاور فل ہونا چاہیے جو سرِ دست کافی کمزور ہے۔ اگر اس پر بھی خصوصی توجہ نہ دی گئی تو یہ سارا کا سارا بوجھ بااثر کندھوں سے پھسل کر لاوارثوں کے سروں پرآگریگا جو قانون کو نہ صرف بے اثر کر دیگا بلکہ جگہ جگہ بے انصافیوں کے الزامات سے سوسائٹی میں ایک طرح کا ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
۲۔انسداد دہشت گردی فورس۔اس فورس کو کھڑا کرنے کی منظوری مندرجہ بالا ترمیمی آرڈیننس سے پہلے دی گئی ہے۔ دونوں میں کوئی لنک ہے یا محض حسنِ اتفاق‘ اس وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ فورس پر فورس بناتے چلے جانا ایک آسان آپشن اور ہمارا محبوب مشغلہ ہے۔ اسکی بجائے اگر موجودہ لوگوں میں سے بہترین کا انتخاب کر کے یہی کورس کروا کر انہیں اس تعنیاتی کے دوران 10/20 ہزار ماہوار الائونس دیدیا جاتا تو شائد زیادہ بہتر رہتا۔ اپنے لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو جانتے ہوئے کوئی بھی اندازہ کر سکتا ہے کہ 75000 ہزار روپیہ یعنی  DIG کے برابر تنخواہ پانے والے جوان اعلیٰ قسم کے موجودہ ملازمین سے کوئی خاص بہتر نہیں ہو سکتے بلکہ انکی دل شکنی کا سبب بن سکتے ہیں۔ آج کل تو سب اس رقم سے زیادہ کا کام ہی کر رہے ہیں۔ لہذا فورسز کے اندر اتنی زیادہ Disparity  نہیں ہونی چاہیے۔ دوسرا یہ 500 افراد پر مشتمل تھوڑی سی فورس کہاں کہاں استعمال ہو گی؟۔ اگر ہیلی کاپٹر پر بھی انہیں گھمانے کا پروگرام ہے توکیا اس کا توڑ دہشت گردوں کے پاس نہیں ہے؟
 عسکریت پسندوں کی جہاں کہیں بھی کامیابی ہوئی ہے اسکی بنیادی وجہ انکی فورس کا خفیہ پن بمقابلہ ہمارا پوری فورس کا بیک وقت نظر آنا ہے۔کچھ سٹیٹ فورسزکا نظر آنا ضروری ہوتا ہے مگر جب تک دہشت گردوں کو اسکے علاوہ ہماری نظر نہ آنیوالی فورسز انکا پیچھا کرتی ہوئی محسوس نہیں ہونگی۔ Initiative انکے ہاتھ میں اور Reaction ہمارے پاس رہے گا۔ہمیں بجائے نئی نئی فورسز کھڑا کرنے کے پبلک اور انٹیلی جنس کے مربوط نیٹ ورک پر توجہ دینی چاہیے۔دہشت گردی کیخلاف تیاری مکمل اور کم از کم آئندہ 7/8 سال تک کیلئے کر لینی چاہیے۔ اگر آج جانے پہچانے دہشت گردوں سے کوئی معاہدے ہو بھی رہے ہیں تو ان مجرم گروہوں کا کیا کرینگے جنہوں نے فقط یہ لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور وہ ہر جگہ موجود بھی ہوتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ عوام کی زندگی تلخ سے تلخ ہوتی جا رہی ہے جس کے سبب اُن کیلئے ہمدردی رکھنے والے بھی انہیں ملتے رہیں گے۔ لہذا ہمیں تھوڑا آگے کا سوچنا چاہیے۔ آج تک سوسائٹی کو نظر انداز کر کے ہم نے خالصتاًسکیورٹی اداروں سے ہی کام چلایا ہے مگر اب وہ اکیلے نہیں کر پائیں گے۔ ایک جامعہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں کم از کم ہر گلی محلے سکول پلازے وغیرہ کی موثر سکیورٹی عوام‘ ایجنسیوں اور شہری دفاع جیسی تنظیموں کی مدد سے فوراً بنائی جا سکتی ہے۔ سکیورٹی کی ضرورت اب مطلوبہ بلڈنگز کے علاقے سے بہت دور سے اور واردات سے بہت پہلے سے شروع ہو جاتی ہے۔جسے پہچاننے کے لئے اجتمائی بصیرت اور سعی کی ضرورت ہے۔ سوسائٹی کی شمولیت کے بغیر دہشت گردوں کیلئے آہنی ہاتھ کا تصور اور یہ قوانین کاغذ پر لکھے یا زبان سے کہے الفاط سے زیادہ کچھ نہیں ہونگے۔ ماضی قریب کی کمزوریوں کو مستقبل قریب کے لئے طاقت میں بدلنا ہوگا۔