اداروں کی بحالی کیلئے گڈ گورننس بہت ضروری ہے

25 اکتوبر 2013

کرپشن کے ناسور نے پاکستانی اداروں کو ہی تباہ نہیں کیا بلکہ ملکی معیشت کا بھی بیڑہ غرق کردیا ہے۔ سابق چیئرمین نیب کے مطابق 14 ارب روپے روزانہ یعنی 5110 ارب روپے سالانہ کی کرپشن ہوتی ہے جو پاکستان کے وفاقی بجٹ سے بھی ڈیڑھ گنا ہے۔ IPP`s اور آئل مافیا کی لوٹ مار کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اب اس کرپٹ مافیا کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ پاکستان کی تمام تر محب وطن قوتیں بلکہ گڈ گورننس کے دعویدار بھی بے بس نظرآتے ہیں۔
میاں نوازشریف نے اپنی نشری تقریر میں کہا کہ صرف چند بڑے اداروں میں کرپشن کی وجہ سے 500 ارب روپے سالانہ کا خسارہ برداشت کرناپڑتا ہے۔ یہ وہ ادارے تھے جو کبھی بہت مضبوط تھے کیونکہ انکی باگ ڈور اہل افراد کے ہاتھوں میں تھی۔ پی آئی اے بہترین ایئر لائن تھی، اسکے ٹیکنو کریٹس نے ایمریٹس ایئر لائن کی بنیاد رکھی۔ آج وہ دنیا کی نمبر ون ایئر لائن ہے۔ ریلوے کا نظام اتنا بہترین تھا کہ ٹرین گزرنے پر لوگ اپنی گھڑیاں درست کرتے تھے۔ لیکن جب کرپٹ مافیا نے زور پکڑا تو ان اداروں کی کارکردگی بھولی بسری داستان بن گئی۔ آج بھی پاکستان میں چھائے کرپٹ مافیا کے گاڈ فادر ان اداروں کا کریا کرم کرکے انکے کفن بیچنے کی تیاریاں کر رہے ہیں تاکہ کِک بیکس میں جتنا ہو سکے نچوڑ لیا جائے۔ صرف ریلوے میں سعد رفیق کی صورت میں ایک باہمت وزیر نے ریلوے کو پھر سے زندہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ انکی صرف 2 ماہ کی کارکردگی دیکھتے ہوئے امید کی جا رہی ہے کہ رواں سال میں ریلوے ایک منافع بخش ادارہ بن جائیگا۔ خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے اپنے سابقہ ادوار میں گڈ گورننس کی اچھی مثالیں قائم کی تھیں، موجودہ دور حکومت ان کیلئے اہم چیلنج ہے، پیپلزپارٹی کے دور میں کرپشن کی انتہا ہوئی جس سے کرپٹ مافیا نے اپنی جڑیں بہت مضبوط کرلی ہیں۔ سرکاری محکموں کے علاوہ نیم سرکاری و خود مختار ادارے ان کی مخصوص آماجگاہیں ہیں۔ یہاں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ چور دروازوں سے ان اداروں میں اہم سیٹوں کو ڈیپوٹیشن کے طور پر حاصل کرکے لوٹ مار کا بازار گرم کیا جاتا ہے اور پھر محکمہ میں واپس جا کر کسی دوسری جگہ گھات لگاتے ہیں۔
پنجاب میں لیبر ڈیپارٹمنٹ ان عناصر کیلئے بڑی کشش رکھتا ہے۔ کئی ملین مزدوروں کے کنٹری بیوشن سے قائم ہونیوالے ان ادار وں میں سٹیک ہولڈر صرف مزدور ہوتے ہیں جن کی کوئی آواز نہیں ہوتی۔ چنانچہ من چاہے فیصلے ہی نہیں، من چاہے رولز بنائے جاتے ہیں جنکی صرف گورنر سے منظوری درکار ہوتی ہے۔ ورکرز کے بچوں کیلئے اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کیلئے فنڈز مختص کئے جاتے ہیں۔ ان اداروں میں 90 فیصد سے زائد اساتذہ پوسٹ گریجوایٹ قابلیت کے حامل ہیں لیکن کمال ہوشیاری سے ڈائریکٹر اور سیکرٹری بورڈ دیگر محکموں سے ڈیپوٹیشن پر وارد ہوتے ہیں۔ یہ حضرات بدترین کرپشن کرتے ہوئے دیگر محکموں میں غائب ہو جاتے ہیں جبکہ ملبہ اس محکمہ کے مستقل ملازمین کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ 2012-13ء میں پنجاب ویلفیئر بورڈ نے آڈٹ کرکے بڑے سنگین اعتراضات اٹھاتے ہوئے لاہور ریجنل آفس کے مکمل آڈٹ کی سفارشات کی تھیں مگر طاقتور کرپٹ مافیا نے سپیشل آڈٹ کو ہنوز مئوخر کیاہوا ہے۔
جنوری 2011ء کو روزنامہ نوائے وقت میں سرراہے میں ای ڈی او لاہور کی بھاری رشوت لے کر سینکڑوں جعلی بھرتیوں کے بارے میں انکشاف کیا گیا تھا۔ وزیراعظم پنجاب نے سیکرٹری سکولز پنجاب سے رپورٹ طلب کی۔ انکوائری میں بے حد تاخیر کے باوجود الزام ثابت ہوا۔ اس سے پہلے بھی مذکورہ افسر نے ای ڈی او سیالکوٹ کی حیثیت سے جو غلط بھرتیاں کی تھیں، اس کے خلاف سکیل 20 کے ممبر (انکوائری) GAD & Sنے 8 ستمبر 2010ء کو اپنی ریکومینڈیشن میں تحریر کیا تھا کہ اس کو ایڈمنسٹریٹیو پوسٹ بالکل نہ دی جائے یہ اس کا اہل نہیں۔ مگریہ ای ڈی او لاہور رہا۔ یہاں کمال ہوشیاری کے مزید جوہر دکھاتے ہوئے سینکڑوں بوگس بھرتیاں کیں جس سے حکومت کو کروڑوں کا ٹیکہ لگا۔ اب اسی کو ہر سسٹم سے بائی پاس کرتے ہوئے پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ میں ڈائریکٹر ایجوکیشن تعینات کیا گیا ہے۔
پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ میں فنانس اور ورکس ڈیپارٹمنٹ پر ڈیپوٹیشن کے طالع آزمائوں کا قبضہ ہے۔انکی کارکردگی گرلز ہائی سکول 70/R.B فیصل آباد، گرلز اور بوائز ہائی سکولز راولپنڈی اور گرلز ہائی سکول میاں چنوں کی نئی بلڈنگیں دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ کا سپیشل آڈٹ کرایا جائے تو یہ گڈ گورننس کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ میری تجویز ہے کہ گڈ گورننس کی رٹ قائم کرنے کیلئے اچھی شہرت کے آڈٹ افسران کی ایک خصوصی ٹاسک فورس تیار کی جائے جو ہنگامی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے اداروں سے کرپشن کے خاتمہ کیلئے کام کرے۔ اگر حکومت اداروں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا چاہتی ہے تو ڈیپوٹیشن کے نظام کو بالکل ختم کیا جائے۔ اس سے اداروں کے اہل افراد کی بھی حق تلفی ہوتی ہے۔ کرپٹ اہل کاروں کی پشت پناہی کرنیوالے حکام کیخلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ کرپشن کے اصل گاڈ فادرز وہی ہیں۔ اگر میاں شہبازشریف انہیں لگام دینے میں کامیاب ہوگئے تو یہ اداروں کی بحالی کے مترادف ہوگا ورنہ گڈ گورننس بھی ایک بھولی ہوئی داستان بن جائیگی۔