ہم کیسے مسلمان ہیں ؟

25 نومبر 2015

ٓآرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی عالمی خطرہ ہے۔ آپریشن ضربِ عضب بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا اور یہ کہ آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسلام کے نام پر جو لوگ دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، یہ کیسے مسلمان ہیں، کیا اسلام اس قسم کی کارروائیوں کی اجازت دیتا ہے؟ اسلام تو زندگی کی تمام تباہیوں اور بربادیوں سے محفوظ رہنے کا نام ہے۔ یعنی انسان نہ صرف خود اپنی ذات میں امن و سلامتی اور صلح و آشتی سے رہے بلکہ ساری دنیا میں امن و سلامتی قائم کرنے کا موجب ہو۔ وہ سفر زندگی میں دوسرے افراد معاشرہ کے ساتھ پوری ہم آہنگی سے چلے اور کوئی حرکت ایسی نہ کرے جس سے دوسرے کو نقصان پہنچے۔ یہ ہے وہ روش جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ ”جو شخص اس روش کے خلاف کوئی اور روش اختیار کرے گا تو وہ آخر الامر نقصان اٹھائے گا“ 

سورة انفال میں ہے کہ ”تم آپس میں جھگڑنے لگ گئے تھے، اللہ نے تمہیں اسکے تباہ کن نتائج سے محفوظ رکھا“ اسلام کا مطلب ہے، اس پر پورے پورے کاربند ہو جانا۔
مسلم اور مشرک ایک دوسرے کی ضد ہیں، کفر اور اسلام بھی ایک دوسرے کی ضد ۔مسلم کبھی مجرم نہیں ہو سکتا۔ لہذٰا مسلم وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی اطاعت کرے۔ اسلام وہ ضابطہ حیات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے تجویز کیا ہے۔ اسکے سوا کوئی ضابطہ¿ حیات خدا کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ یہی وہ ضابطہ¿ حیات ہے جو انبیائے سابقہ کو ملتا رہا اور جو آخر الامر قرآن کریم میں آ کر مکمل ہوا۔ اسی دین کے ماننے والوں کو مسلمین کہتے ہیں۔ مسلم وہ ہے کہ قرآن کریم کو خدا کی طرف سے عطا کردہ واحد، مکمل اور آخری ضابطہ¿ حیات سمجھے۔
اسلام، سلم سے ہے۔ اسکے معنٰی ہیں، ہر قسم کے آفات، خطرات اور حوادث سے محفوظ رہنا۔
دہشت گرد تنظیمیں کس اسلام پر عمل پیرا ہیں کہ وہ بنی آدم کو حوادث سے محفوظ رکھنے کے بجائے انہیں آفات و خطرات میں مبتلا کر رہی ہیں۔ السلم کے معنے صلح اور صفائی کے ساتھ رہنے کے بھی ہیں۔ نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ س۔ل۔م میں بنیادی طور پر نرمی اور انکسار کا پہلو مضمر ہوتا ہے۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت 70ہے۔ وَلَقدکَرّ منا بنی آدم(اور بے شک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی) ۔ اس آیت میں اولاد آدم کی بات کی گئی ہے۔ یعنی فرزندانِ آدم کو صاحب کرم بنایا ہے۔ خدا نے ہر فرزندِ آدم کو محض آدمی ہونے کی جہت سے واجب التکریم بنایا ہے۔ تکریم آدمیت کا یہ اعلان عظیم سب سے پہلے قرآن کریم ہی کی طرف سے ہوا۔ یعنی ہر انسان بہ حیثیت انسان ہونے کے قابل احترام ہے۔ ہر فرد کو عزت و شرف کا یہ بنیادی حق (Fundamental Right) قرآن کریم کی بارگاہ سے عطا ہوا ہے۔ یہ انسان کا پیدائشی حق ہے۔ اس معیار سے بادشاہت، برہمنیت، پیشوائیت، سرمایہ داری کے تمام نظام حرف غلط کی طرح مٹ جاتے ہیں۔ ہر انسانی بچہ خواہ وہ بادشاہ کے گھر میں پیدا ہو یا فقیر کے، برہمن کا بیٹا ہو یا چمارکا، انسان ہونے کی جہت سے یکساں تکریم کا مستحق ہے۔ باپ کی وجاہت یا عزت اسے دوسرے بچوں سے ممتاز نہیں کر سکتی۔ دوسروں کے مقابلے میں اس کا زیادہ باعزت ہونا اس کے ذاتی جوہر اور عمل کی بنا پر ہو گا۔
الکرم اس صفت کو کہتے ہیں جو کمینگی کے خلاف ہو۔ عربوں میں کمینگی بدترین خصلت تھی، اس لیے کرم بہترین صفت تھی۔ اسکے معنے ہیں، کسی ایسے بوجھ کو اٹھا لینا جس سے قوم کے خون اور اسکی جان کی حفاظت ہوتی ہو۔ الکریم ایک جامع صفت ہے۔ یہ ایسے شخص کیلئے بولا جاتا ہے جس میں ہر قسم کی بھلائیاں، فضیلتیں اور شرف شامل ہو۔ کسی قسم کی مذموم صفت نہ پائی جاتی ہو۔ الکریم کے معنے آزاد، شریف، بخیب اور سخی کے بھی ہیں۔ کثیر بارش کو بھی کریم کہتے ہیں۔ کسی شخص کواس وقت تک تکریم نہیں کہا جا سکتا جب تک اس سے کرم کا ظہور نہ ہو چکا ہو۔ مکرم، عزت دینے والا، رزق کریم، عزت کی روٹی، جنتی معاشرہ کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہاں رزق کریم ملے گا۔ ٓٓٓداعش، القاعدہ اور طالبان کس منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ وہ اسلام اور قرآن کریم کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں اس لیے ان کا ”مکو ٹھپنا“ بہت ضروری ہے۔ پاکستان کی فوج، آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں یہ کام بخوبی انجام دے رہی ہے۔