اب شہریوں کو بلدیاتی سہولتیں بھی ملنی چاہئیں

25 نومبر 2015

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی مجموعی طور پر امن و سکون کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ حتمی نتائج کے مطابق پنجاب میں حسب توقع مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو برتری حاصل رہی۔ صوبہ پنجاب میں حیرت انگیز طور پر آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کی تیسری پوزیشن ہے اور اسکے امیدوار آزاد امیدوار کے مقابلے میں نصف سے بھی کم تعداد میں کامیاب ہوئے۔ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار بہت بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے۔ دوسری پوزیشن حاصل کرنےوالی ایم کیو ایم کے کامیاب امیدوار کی تعداد پیپلز پارٹی کے مقابلے میں صرف ساڑھے آٹھ فیصد ہے۔ ایم کیو ایم کی کامیابی حیدر آباد اور میر پور خاص تک محدود رہی، جہاںاسکے کارکنوں نے کراچی سے آنےوالے رہنماﺅں اور کارکنوں کی سرپرستی میں خوف و دہشت اور مہاجر ازم کے نعروں کے علاوہ کئی پولنگ سٹیشنوں پر قبضے اور بلاخوف و خطر ٹھپے لگانے کا عمل جاری رکھا۔ الیکشن کا عملہ اور مقامی انتظامیہ کے اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے، سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں بدین نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا گروپ کے امیدواروں نے بدین میونسپل کمیٹی کے چودہ میں سے تیرہ وارڈز میںشاندار کامیابی حاصل کر کے پیپلز پارٹی کی صفوں میں زبردست دراڑ ڈال دی ہے۔ اسکے اثرات سندھ کی سیاست اور آئندہ عام انتخابات پر بھی پڑیں گے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو جائینگے اور جمہوریت کو تقویت حاصل ہوگی، ملک کے موجودہ حالات میں انکے خیال کو شیخ چلی کے خواب سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق چونکہ بنیادی طور پر مقامی مسائل سے ہوتا ہے اس لئے ان میں سیاسی وابستگی دوسری ترجیح رہ جاتی ہے جبکہ مقامی مسائل اولیت حاصل کر جاتے ہیں۔ اس حوالے سے اندازہ کاروں کا خیال ہے کہ حکمران جماعت سے توقع ہوتی ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کو فنڈز اور سہولتیں مہیا کر سکتی ہے اسی لئے لوگ حکمران جماعت ہی کو ووٹ دیتے ہیں اور مقامی حکومت کے ساتھ، تھانہ پٹوار، انتظامیہ اور ارکان صوبائی اسمبلی کی وفاداریاں بھی ہوتی ہیں اس لئے حکمران جماعت اکثر جیت جاتی ہے۔ اسکی ایک مثال یہ ہے کہ مسلم لیگ ق کو تادم تحریک صرف آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ جب کہ اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں مسلم ق لیگ کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کیلئے ووٹروں کو لانے والے وہی گلی، محلے، دیہات کے با اثر لوگ ہیں جبکہ نوجوان ورکروں کا کوئی باقاعدہ مجموعی کارڈ واضح طور پر نظر نہیں آتا۔ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کا اب وہ جیالا کارڈ سرگرم عمل نظر نہیں آیا۔ حالانکہ پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود انتخابی مہم چلاتے رہے۔ ایک ٹی وی چینل کے مبصر کا کہنا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی وڈیروں کے ہاریوں اور پیروں کے مریدوں پر مشتمل نظر آتی ہے۔
مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں ملک لیگ سیاسی پارٹیاں ہیں لیکن 2013ءکے عام انتخابات اور اب تک بلدیاتی انتخابات میں یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں اپنے اپنے صوبے یعنی پنجاب اور سندھ میں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ایم کیو ایم نے اپنی سیاست کا محور کیونکہ ہمیشہ مہاجروں یا اردو بولنے والوں کو رکھا ہے اس لئے اسے کراچی میں بھاری اکثریت حاصل ہوئی اور حیدر آباد میں بھی جہاں اردو بولنے والے آباد ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اب ملک گیر سیاسی پارٹیوں کی بجائے علاقائی سیاسی پارٹیوں کا ملک بن چکے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ مسلم لیگ ن وفاق میں حکمران ہے لیکن قومی اسمبلی میں اسکی اکثریت یعنی پنجاب سے منتخب ہونے والے ارکان کی تعداد ہی کی مرہون منت ہے۔ بڑی سیاسی پارٹیوں کیلئے یہ صورتحال چشم کشا ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ ن کا ایک منشور ہے اور ایک نقطہ نظر ہے۔ یہ جماعت اپنے آپ کو قائد اعظم کی مسلم لیگ کی وارث قرار دیتی ہے۔ ن لیگ کے قائدین کو یہ سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کون سی وجوہ ہیں جن کی بناءپر پارٹی کی پذیرائی پنجاب تک محدود ہو کر رہی گئی ہے بالعموم یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ آج کی مسلم لیگ ن غیر ملکی قرضے مہنگے بھاﺅ لیکر معیشت کو سنبھالا دیئے ہوئے ہے اور اچھی حکمرانی میں ناکامی کو بھاری بھر کم منصوبے قائم کر کے نظر انداز کر رہی ہے۔ میٹروبس، موٹر وے ، اورنج لائن منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ کسان پیکج کیلئے چالیس ارب روپے سے زیادہ مختص کئے گئے ہیں جس سے کسانوں کو ریلیف ملے گا لیکن عارضی جبکہ پاکستان کی زراعت کا مسئلہ گھمبیر ہے۔ اس میں پانی کے بچت پر مبنی استعمال، پانی کے ضیاع کے انسداد، زمین کی چھوٹی ملکیت اور نئی زمینوں کو زیر کاشت لانے کے بھاری مسائل درپیش ہیں جو فوری توجہ چاہتے ہیں اور مستقل حل کا تقاضا کرتے ہیں۔ محض دو ہزار اٹھارہ تک نہیں جب حکومت کی مدت ختم ہو گی اور وزیراعظم کہہ رہے ہیںکہ اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوا کرےگی لیکن بجلی کی ہمہ وقت فراہمی پاکستان کا واحد مسئلہ نہیں او بھی بہت سے ہیں جن میں اچھی حکمرانی سرفہرست ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو ان مسائل کے حل کا پروگرام پیش کرنا چاہئے۔ دونوں صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات محدود کر کے انتخابات کرائے ہیں۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ شہریوں کو شہری اور بلدیاتی سہولتیں بھی ملتی ہیں یا نہیں؟
قارئین کرام! مسلم لیگ (ن) کی جماعت کو بھی اقتدار کا موقع ملا تو خصوصاً آمد و رفت کو مزید آسان بنانے کےلئے سڑکوں کے جال بچھائے گئے۔ نئے میٹرو ٹرین منصوبے سے عوام کو مزید سفری سہولتیں میسر ہوں گی مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو سفر کے سلسلہ میں تو کافی حد تک ریلیف مل رہا ہے مگر جو عوام کا اصل مسئلہ مہنگائی ، بیروزگاری ، بجلی، پانی کا بحران ہے کو بھی ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ اگر عوام کو مہنگائی اور مختلف بحرانوں سے حکومت نجات دلانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو معاشرے میں خوشحالی کا نیا دور خود بخود شروع ہو جائےگا۔ ویسے بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انصاف، صحت اور تعلیم وغیرہ کی مکمل فراہمی کے سلسلہ میں خصوصی توجہ دے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...