تین زندگیوں کا ایک دائرہ…؟

25 نومبر 2015

ایک بہت بڑے آدمی، بڑے شاعر جنہوں نے اردو اور اردو شعر و ادب کیلئے بہت کام کیا، بڑی بھرپور زندگی بسر کی… جمیل الدین عالی کسی اور دنیا میں چلے گئے۔ اس سے مجھے منیر نیازی یاد آ گئے۔ وہ میرے قبیلے کے سردار اور شاعری کے خان اعظم ہیں۔ ان کی زندہ تر اہلیہ باجی ناہید نیازی میرے ساتھ ڈسٹرکٹ کیمپ جیل کے سپرنٹنڈنٹ شہرام خان کے ساتھ ملیں اور عہد ساز نامور ادیب اور دانشور اشفاق احمد کی اہلیہ بانو قدسیہ ہم سب کیلئے بانو آپا نے ایک انٹرویو میں کہا… ذرا سوچئے کہ کس دل سے کہا ہو گا ’’اشفاق احمد کے بعد اب کوئی ایسا نہیں ہے جس سے دل کی بات کہہ سکوں‘‘۔ 

تین قسم کی یکزنگ یاد سے اپنا دل آباد کرنے سے پہلے ایک یاددہانی کہ کل میں نے بنگلہ دیش میں ناجائز پھانسیوں کیلئے وزیر داخلہ چودھری نثار کی جرات اظہار پر کالم لکھا تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ چودھری نثار کے بیان سے بے چین ہو کر رات گئے بنگلہ دیش میں پاکستانی سفیر کو بلا کے احتجاج کیا گیا۔ چودھری نثار نے پہلے بھی قومی اسمبلی میں احتجاجی تقریر کی تھی تو بنگلہ دیش نے کوئی بات نہ کی تھی… تو اس دفعہ ان کے بیان میں کیا حرارت تھی کہ حسینہ واجد کے ہونٹ تھوڑے سے جل گئے۔ چودھری صاحب کی جرات اظہار اور پاکستان سے 45 سال پہلے وفاداری نبھانے والوں کیلئے اظہار محبت میں بڑی دلسوزی تھی کہ ظالم حسینہ واجد کو تکلیف ہوئی۔ امید ہے کہ اب حسینہ واجد اس ظلم و ستم کو جاری نہیں رکھ سکے گی۔
پھر جمیل الدین عالی کی طرف آتے ہیں، اتنی بھرپور انہوں نے زندگی بسر کی کہ یقین ہی نہیں آتا کہ وہ کہیں اور چلے گئے۔ ایسا نغمہ لکھنے والا جو بچے بڑے کی زبان پر ہے، اتنی بار پڑھا گیا، 90 برس کی عمر تک عالی جی نے جتنے سانس لئے ہونگے جیوے جیوے پاکستان کہنے والا کم از کم اتنی دیر تک پاکستان سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔ جب تک پاکستان رہے گا اور پاکستان ہمیشہ رہے گا، کیا ملکۂ ترنم نورجہاں کی آواز مر جائے گی؟ اے وطن کے سجیلے جوانو! میرے نغمے تمہارے لئے ہیں! یہ بہت بڑا کریڈٹ فوجی جوانوں کیلئے ہے اور عالی جی کیلئے بھی کہ ان کے نغمے پاکستان کیلئے اور پاکستان بچانے والوں کیلئے ہیں۔
اشفاق احمد اور منیر نیازی کیلئے بھی لگتا ہے جیسے کل ہی کہیں چلے گئے ہوں، ان کیلئے مرنے کا لفظ استعمال نہیں کر سکتا۔ ڈسٹرکٹ کیمپ جیل کے سپرنٹنڈنٹ شہرام خان کا نام کتنا منفرد اور خوبصورت ہے، وہ خودبھی بہت خوبصورت اور گریس فل ہیں، انہوں نے منیر نیازی کو یاد کیا۔ منیر نیازی بھی حسن و جمال کا پیکر تھے۔ جس محفل میں ہوتے وہ بھی سوہنی لگتی تھی۔ منیر نیازی نے اپنا یہ شعر کس کیلئے لکھا تھا؟ میرا خیال ہے کہ انہوں نے اپنے لئے لکھا تھا…
کل دیکھا اک آدمی اٹا سفر کی دھول میں
گم تھا اپنے آپ میں جیسے خوشبو پھول میں
شہرام خان نے منیر خان کے کئی پنجابی اشعار سنا دیئے اور پھر منیر نیازی کی اہلیہ ناہید نیازی کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ میری رشتہ دار ہیں۔ میں نے باجی ناہید سے ذکر کیا تو انہیں بہت پرانی رشتہ داریاں یاد آ گئیں۔ وہ شہرام خان سے ملنے چلی آئیں۔ وہ بہت خوش تھیں۔ ان سے جیل میں شہرام خان کی اصلاحات کا ذکر میں نے کیا۔ انہوں نے بھی جیل کو گھر کی سی آسودگی دینے کی کوشش کی ہے۔ باجی ناہید بولیں کہ اچھے گھرانے کے نوجوان جہاں بھی ہونگے کوئی نہ کوئی کمال تو دکھائیں گے!
یہاں فرح اور عدیل نے قیدی بچوں کیلئے ایک شاندار سکول بنایا ہے۔ اس کا نام ’’رہائی‘‘ رکھا ہے۔ یہ کس قدر بامعنی نام ہے کہ بچے یہاں آ کے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تھوڑی دیر کیلئے رہائی محسوس کرتے ہیں۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر اور شہرام خان اس سکول کی بہتری کیلئے دلچسپی لیتے ہیں۔ یہ اس جیل کا کریڈٹ ہے کہ یہاں بچے تعلیم پا کے باہر جاتے ہیں تو عمر بھر ان لمحوں کو یاد رکھتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ کیمپ جیل کا ماحول بہت اچھا ہے۔ شہرام خان نے منیر نیازی کو یاد کیا تو وہ اور بھی اچھے لگے اور ماحول یکسر بدل گیا۔ باجی ناہید تو گھریلو عورت ہیں مگر انہوں نے منیر نیازی کی یاد کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔ منیر نیازی میرے لئے تو سائبان کی طرح ہیں۔ وہ جب کبھی شوق آوارگی میں گھر سے باہر جانا چاہتے تو مجھے بلا لیتے۔ میں اپنی چھوٹی موٹی گاڑی لے کے پہنچ جاتا۔ ہم یونہی پھرتے رہتے۔ دوسرے دوست ناراض ہوتے۔ صوفیہ بیدار نے ایک دن مذاق مذاق میں کہا کہ ہمارے پاس بھی گاڑیاں ہیں مگر آپ ہر بار اجمل نیازی کو بلا لیتے ہیں۔ منیر خان نے بے ساختہ کہا… اجمل نیازی کی موجودگی میں مجھے تحفظ محسوس ہوتا ہے! یہ جملہ میرے لئے نعمت کی طرح ہے۔
ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد میں اکیلا ہو گیا ہوں۔ ایک دن باجی ناہید منیر نیازی مجھے کہنے لگیں… مجھے منیر نیازی نے کہا تھا کہ کبھی ضرورت پڑے تو اجمل نیازی کو کہنا۔ یہ سن کر میری آنکھیں بھر آئیں اور میں نے باجی سے کہا میں آپ کا نوکر ہوں۔ وہ کہنے لگیں کہ آپ میرے بھائی ہو۔ میں نے کہا بھائی بہنوں کے نوکر ہی ہوتے ہیں۔
بانو قدسیہ جنہیں ہم عزت اور پیار سے بانو آپا کہتے ہیں، اشفاق احمد سے کم ادیبہ نہیں ہیں بلکہ ان سے آگے ہی ہونگی مگر وہ اشفاق احمد کے پیچھے چلنے کو اپنی معراج سمجھتی تھیں۔ وہ ان کے جانے کے بعد بھی اسی راستے کی مسافر ہیں۔ وہ اتنی عظیم ہیں کہ وہ بھی انہیں بانو آپا کہتے ہیں جو عمر میں ان سے بڑے ہوتے ہیں۔ بابا یحییٰ خان تو انہیں ماں جی کہتے ہیں۔ میں نے اپنے ایک کالم کا عنوان ہی رکھا تھا… میرے دیس کی اچھی عورتو! ایک بار بانو آپا سے ضرور ملو۔ ان کے گھر میں جمعہ کے دن اچھے دل والوں کا اکٹھ ہوتا ہے۔ یہاں کوئی بھی آ سکتا ہے۔
بڑے دنوں کے بعد انہوں نے کوئی انٹرویو دیا ہے اور بڑی بے مثال باتیں کی ہیں۔ ان کا یہ جملہ تو ہمیشہ یادگار رہے گا… ’’اشفاق احمد کے بعد اب کوئی ایسا نہیں ہے جس سے دل کی بات کہہ سکوں‘‘۔ جملے میں ازدواجی زندگی کی سچائیوں سے بڑھ کر روحانی زندگی کی گہرائیوں کی کیفیت ہے۔ اس سے اگلا جملہ بھی دل میں اتر جانے والا ہے، اس پر غور ہی کر لیا جائے تو کمال ہو جائے… ’’آدمی ایک دوسرے کو معاف کرتا رہے تو محبت قائم رہتی ہے۔ آج بھی رشتہ نبھانے والے موجود ہیں۔ برداشت کرنے والے ہمیشہ نبھاتے ہیں۔ ہم خود ناکام ہوتے ہیں تو رشتے ناکام ہوتے ہیں۔ جو خود کسی سے وفا نہیں کر سکتے انہیں بھی وفا نہیں ملتی۔ جو دے نہیں سکتے وہ خود کیوں مانگتے ہیں‘‘۔
کیسی بڑی باتیں بانو آپا نے کی ہیں۔ یہ جتنی بڑی ہیں اتنی ہی اچھی ہیں۔ بڑا وہی ہے جو اچھا ہے۔ اس دور میں بانو آپا سے بڑی عورت موجود نہیں ہے۔ ان سے اچھی عورت بھی موجود نہیں ہے۔ خواتین و حضرات! ایک دفعہ بانو آپا کے پاس حاضر ہو کے دیکھو!