عالمی میڈیا اسلام کی مسخ شدہ تصویر پیش کررہا ہے: بین المذاہب کانفرنس

25 نومبر 2015

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) عالمی بین المذاہب کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے مختلف مذاہب کے پیروکاروں، عالمی سکالرز اور رہنمائوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی، بدامنی کی کوئی بھی اجازت نہیں دیتا، اسلام کے نام پر قتل وغارت گری کرنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ داعش، القاعدہ اور تحریک طالبان جیسی تنظیمیں اسلام، عالم اسلام اور پاکستان کو بدنام کررہی ہیں، عالمی میڈیا اسلام کی مسخ شدہ تصویر پیش کررہا ہے، ہر دہشت گردی کے واقعے کو اسلام اور مسلمانوں سے وابستہ کرکے ان کا عرصہ حیات تنگ کرنا کسی طور پر درست نہیں۔ یہ کانفرنس بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے سنگ میل ثابت ہوگی۔ اس موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لئے اسلام آباد میں ’’انٹرنیشنل ڈائیلاگ سینٹر‘‘ کے قیام کا اعلان کیا۔ کانفرنس سیجنرل سیکرٹری رابطہ عالم اسلامی عبداللہ عبدالمحسن الترکی، راجہ ظفر الحق، سردار محمد یوسف، مفتی محی الدین، مفتی ابوہریرہ محی الدین، سمیع خالد، مسٹر ایرک، سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں خواجہ خلیل احمد،پریزیڈنسی آف ریلیجنس افیئرز ترکی اکرم کیلس، پریزیڈنٹ مہابودھی سوسائٹی سری لنکا بنی گالہ ودیگر نے شرکت وخطاب کیا۔ قبل ازیں یونائٹ کے زیراہتمام جناح کنونشن سینٹر میں 2روزہ عالمی بین المذاہب کانفرنس شروع ہوئی جس میں 26ممالک کے 45 سے زائد مندوبین، پاکستان کے نامور علماء کرام، شخصیات وزعماء نے شرکت کی۔ اس موقع پر عبداللہ عبدالمحسن الترکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب بدامنی کا ذمے دار نہیں ہے، دین اسلام تو انسانیت کو ہمیشہ خیروبھلائی کی دعوت دیتا ہے۔ حضورﷺ نے اپنی امت کے تمام لوگوں کو مساوات اور انصاف کا درس دیا ہے۔ راجہ ظفر الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے مذاہب کا احترام ہمارا فرض ہے تمام مذاہب اس بات پر متفق ہے اور مذہبی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں دہشت گردی کنٹرول کرنا اس کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کی ذمے داری ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوشش کررہی ہے کہ تمام اقلیتوں کے مذہبی ایام سرکاری سطح پر منائے جائیں۔ دہشت گردی کومذہب سے وابستہ کرنا غلط ہے،مذہب سے وابستہ آدمی کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔