ورکنگ بائونڈری: آرمی نے بھارتی فائرنگ سے مرنیوالے جانوروں کے معاوضے کی درخواست کر دی

25 نومبر 2015

لاہور (معین اظہر سے) ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی سکیورٹی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کے بعد پاکستان آرمی نے حکومت پنجاب سے جانوروں کی ہلاکت پر رقم ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں سفارشات کے لئے قائمہ کمیٹی نے وزیراعلی پنجاب کو بھارتی فائرنگ سے جانوروں کی ہلاکت پر 6 کیٹگری کی منظوری دے دی ہے۔ اونٹ کی ہلاکت پر 90 ہزار، گھوڑے کی ہلاکت پر 60 ہزار، گائے کی ہلاکت پر 50 ہزار، گدھے کی ہلاکت پر 45 ہزار، بکرے کی ہلاکت پر 15 ہزار ، بھینس کی ہلاکت پر 45 ہزار روپے دئیے جائیں گے تین سطحی کمیٹیاں منظور کریں گی تو پیسے دئیے جائیں گے فوجی افسر بھی ان کمیٹیوں میں شامل ہوں گے۔ فوج کی طرف سے حکومت پنجاب کو لیٹر لکھاگیا تھا کہ بھارت کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری پر شہری آبادیوں میں شدید فائرنگ کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور موجودہ سال کے پہلے دس ماہ میں ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر تقریباً 265 بھارتی فائرنگ کے واقعات ہوئے جس میں جانی نقصان کے ساتھ سرحد پر رہنے والے لوگوں کے جانور بھی ہلاک ہو جاتے ہیں زیادہ تر لوئر مڈل کلاس کے لوگ سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں اسلئے جانوروں کی ہلاکت کا معاوضہ دیا جائے جس پر وزیر اعلی پنجاب نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی جس میں لائیو سٹاک کے سیکرٹری، سیکرٹری خزانہ، کمشنر گوجرانوالہ اور دیگر اعلی افسران کمیٹی کے ممبر تھے کمیٹی میں اعلی افسروں نے کہا حکومت کی جانب سے زلزلہ والے علاقوں میں جانوروں کی ہلاکت کے پیسے دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہاں پر جعلی کلیم سامنے آئے اس کے تحت فیصلہ کیا گیا صرف 6 جانور جو ہلاک ہوں گے اس کے پیسے دئیے جائیں گے تاہم اس کے لئے تین سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں گی پہلی کمیٹی کلیم کمیٹی ہوگی جس کا سربراہ علاقہ کا اے سی، وٹرنری افسر ہو گا۔ اس کمیٹی کے پاس کلیم آئے گا وہ ایک ہفتے میں اس کی فزیکل طور پر چیک کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ کمیٹی کے پاس کیس بھجوائے گی ڈسٹرکٹ کمیٹی میں ڈی سی او چیئرمین ہوگا اسٹنٹ کمشنر ممبر، ڈسٹرکٹ آفیسر لائیو سٹاک اس کا ممبر ہوگا یہ کمیٹی 1 ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔ ریڈیسل کمیٹی کا سربراہ کمشنر ہوگا اس میں آرمی کا نمائندہ بھی ہو گا۔ متعلقہ ڈی سی او بھی اس کا ممبر ہوگا۔ کمیٹی کے پاس جو رپورٹ آئے گی یہ15 دن کے اندر فیصلہ کرے گی اور رقم جاری کرنے کی منظوری دے گی۔ رپورٹ سے لے کر رقم ملنے تک ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے جو جانور بھارتی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے اس کا ڈیٹا کسی ادارے کے پاس موجود نہیں ہے۔